Fake Peers جعلی پیر

 

اولاد خدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے،جو کہ مرد و عورت دونوں کے نصیب سے اللہ عطاءکرتا ہے،لیکن اولاد نہ ہونے یا اولاد نرینہ پیدا نہ ہونے پر عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراےا جاتا ہے اور سسرال کی طرف سے اولاد نہ ہونے یا اولاد نرینہ نہ ہونے پر طعنہ زنی کے نتیجے میں عورت ذہنی دباﺅ کا شکار ہو جاتی ہے اور سسرالیوں ےا شوہر کی اس خواہش یا مطالبے کو پورا کرنے کے لئے وہ ہر طرح کا اقدام کرنے پر تےار ہو جاتی ہے۔اور ان اقدام میں ایک نہایت خطرناک قدم جعلی پیروں کا سہارا لینا ہے ۔جعلی پیروں کے متاثر کن دعووں کے باعث خواتین اپنے مسائل کے حل کے لئے ان جعلی پیروں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیںاور جس کے نتیجے میں عورت اپنی عزت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔طبی نقطہءنظر سے اولاد نرینہ نہ ہونے میں عورت کتنی قصور وار ہے اس بارے میں مشہور و معروف گائناکولوجسٹ ڈاکٹر سمرینہ ہاشمی،اس حوالے سے کہتی ہیں،
اسلامی نقطہءنظر سے اولاد ےا اولاد نرینہ کے لئے پیروں فقیروں کے پاس جانا اور ان سے مدد مانگنا گناہ کبیرہ ہے۔کیونکہ اولاد ےا اولاد نرینہ کا عطاءکرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اس حوالے سے مفتی عبدالقوی کہتے ہیں:
خواتین اپنی ذہنی پریشانی کے باعث جعلی پیروں کے ہاتھوں اپنی عزت و عصمت گنوا بیٹھتی ہیں،ایسی خواتین جو پیروں اور فقیروں کا سہارا حاصل کرتی ہیں ان کے لئے اسلام میں کیا احکامات ہیں اس حوالے سے مفتی عبدالقوی کہتے ہیں:
پاکستان بھر میں نہ جانے کتنی خواتین اولاد نہ ہونے ےا اولاد نرینہ کے حصول کے لئے ان جعلی پیروں کے ہاتھوں اپنی نہ صرف اپنی عصمت کھو بیٹھتی ہیں بلکہ جعلی پیر ان کے ضعیف عقائد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے بھاری رقوم بھی وصول کرلیتے ہیں،جس کا ان خواتین کے سسرالیوں اور گھر والوں تک کو احساس نہیں ہوتا ،لہٰذہ خواتین کے ساتھ ساتھ ان کے گھروالوں کو بھی نہ صرف ان جعلی پیروں سے خبردار رہنا چاہئے بلکہ اولاد نہ ہونے ےا بیٹا پیدا نہ ہونے پر عورت کو طعنے دے دے کر اس اقدام پر مجبور نہ کریں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *