پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی جانب سے طالبعلموں پر تشددمعمول کا حصہ بنتا جارہا ہے جسے روکنے کیلئے حکومتی کوششیں بھی نہ ہونیکے برابر ہیں۔اسی اہم مسئلے کے بارے میں سنتے ہیں آج کا پی پی آئی نیوز فیچر
پنجاب کے علاقے حافظ آباد کے گاﺅں میں ایک والد نے اپنے 5سالہ معصوم بچے راحت علی کوسبق یاد نہ کرنے کی پاداش میں بوتلیں مارمار کرہلاک کردیا ۔
ہیڈمرالہ میں استاد رانا سرفرازنے اپنے شاگرد کو ڈنڈے مارمارکر شدید زخمی کردیا، جس سے اس کی آنکھ بھی مجروح ہوگئی۔
قائد آباد پنجاب میں ایک اسکول کے ہیڈماسٹرحافظ احمدیار نے اپنے شاگردکے سرپر ساٹھ جوتے مارے جس سے اسکی حالت غیرہوگئی۔ملتان کے ایک مدرسے میں استادوں نے 5اور6سال کی عمر کے دوبھائیوں کوبری طرح مارااور بجلی کا کرنٹ لگایا۔ایک اور گاﺅں حجرہ شاہ مقیم میں مدرسے کے اساتذہ نے سات سالہ غلام رسول کو ڈنڈے مارمار کر قتل اور اسکے کزن ابرارکو بری طرح زخمی کردیا۔ غرض کہ اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
Lawyers for Human Rights & Legal Aid کے سربراہ ضیاءاحمد اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں پر ہونیوالے تشدد کو روکنے کیلئے ملکی سطح پر کوئی قانون موجود نہیں،جسکے باعث متعددمسائل سامنے آرہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفالUNICEFکے مطابق پاکستان کے ہائی اسکولوں سے سالانہ 35ہزار بچے اساتذہ کے تشددکے باعث تعلیم چھوڑکر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔
صوبہ سرحد کی حکومت نے 1999ءمیں، پنجاب اور بلوچستان میں 2000ءاور 2007ءمیں سندھ حکومت نے پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کوپابند کیا تھا کہ وہ طالبعلموں پرتشدد نہیں کرینگے۔ تاہم UNICEFکے مطابق حکومتی احکامات کے باوجود چاروں صوبوں میں طالبعلموں پرتشدد میں کوئی کمی نہیں آسکی ہے۔
مسز شاہ مقامی سکول ٹیچر ہیں اور نرسری کلاسز سے لے کے سیکنڈری کلاسز کو پڑھانے کا 20سالہ تجربہ رکھتی ہیں، ان کا اس بارے میں کہنا ہے۔
طالبعلموں پر اساتذہ کے تشدد کے روک تھام کیلئے ضیااعوان ایڈووکیٹ نے اپنے ادارے کی کوششیں بتاتے ہوئے کہا ۔
بچے جو کسی بھی قوم کا سرمایہ اور مستقبل کی حیثیت سے اہمیت رکھتے ہیں،ان پرتشدد ہمارے آنے والے کل کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے جسے دور کرنے کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
سر ہمیں نہ ماریں ، ہم پیار سے پڑھیں گے۔
