Collateral Damages سانحے کی صورت میں ہونے والے نقصانات

پاکستان میں کسی بھی سانحے کی صورت میںاچانک بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں اورعوامی املاک مثلادکانوں،گاڑیوں, بینک اور عمارات وغیرہ کونذرآتش کردیا جاتا ہے۔ان نقصانات کے حوالے سے حالیہ مثال کراچی میں یوم عاشورکے موقع پرمرکزی جلوس میں خودکش حملے کے بعد ہونے والے فسادات ہیں ۔
28 دسمبرکو کراچی میں یوم عاشورکے موقع پرمرکزی جلوس میں خودکش حملے کے بعد ہونیوالے فسادات ملکی تاریخ میں 27دسمبر2007ءکومحترمہ بے نظیربھٹوکی شہادت کے بعدشرپسندعناصر کی جانب سے عوامی وسرکاری املاک کوتباہ کرنیکی دوسری بڑی کارروائی ہے جس میں تاجروں کے نقصان کا اب تک کوئی حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکاتاہم مختلف تاجر تنظیموں کی طرف سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر جاوید احمد وہرہ نقصانات کے تخمینے اور حکومت کی جانب سے انکے ازالے کے بارے میں کہتے ہیں۔
سانحہ ءکراچی کے نتیجے میںہونیوالے فسادات میں ہزاروں دکانیں، سینکڑوں گاڑیاں، دوبینک، اے ٹی ایم مشینیں اورمیڈیسن مارکیٹ نذرآتش کردی گئیں۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے ان فسادات کو منصوبہ بندی قرار دیا۔
ہول سیل مارکیٹوں کونذرآتش کئے جانے سے ملک بھرمیں پلاسٹک کے برتنوں، سرجیکل آلات، ادویات، ریڈمیڈگارمنٹس سمیت اشیائے خورونوش کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیداہوگئے ہیں۔
نقصانات کے دکھ سے بے حال فریاد کرتے تاجروں کے مطابق پولیس اور رینجرز کسی نے بھی شرپسندوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بو لٹن ما ر کیٹ ٹریڈرز ایسو سی ایشن کے عہدیدار شا ن الہیٰ اور دیگر دکانداروں نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا۔
آ تشزدگی کوروکنے کیلئے فا ئر بریگیڈ کے عملے کی کوششوں کے حوالے سے کرا چی کے سٹی نا ظم مصطفیٰ کما ل نے بتایا۔
پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں جلائی گئی دکانوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو بتائی گئی ہے جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر جاوید احمد وہرہ کے مطابق جلائی گئی دکانوں کی تعداد3 سے 4ہزار ہے۔
صدر آصف علی زردا ری سے تا جر رہنما ﺅ ں کی ملا قات کے بعد وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی نے کا بینہ
کے اجلاس میں متا ثرہ تا جرو ں کیلئے فوری طورپر ایک ارب رو پے کی امداد کا اعلا ن کیا جسے بعدمیںبڑھا کرتین ارب روپے کردیا گیا ۔ تا جر رہنما سراج قاسم تیلی نے اس حوالے سے بتایا

حکومت سندھ کی جانب سے بھی50 کروڑ روپے امداد کی مد میں جبکہ علاقے کو آفت زدہ قرار دیکر ٹیکس میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر جاوید احمد وہرہ کے مطابق متاثرین کو فی الحال متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔
حکومت کی جا نب سے متا ثرین کی جلدمکمل بحا لی کے وعدے تو کر لئے گئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ
حکو مت کتنی جلدی ان متا ثرین کو ان کے کا رو با ر کی بحا لی میں معا ونت فراہم کر تی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *