Controversial ID Cards raised Ethnic Divisions – افغان الیکٹرونک شناختی کارڈ

افغانستان میں رواں سال اپریل میں شیڈول صدارتی انتخابات کیلئے تمام شہریوں کیلئے الیکٹرونک شناختی کارڈز کے اجراءکے منصوبے پر کام ہورہا ہے، جس پر سو ملین ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ اس منصوبے کا مقصد انتخابی دھاندلیوں پر قابو پانا اور ملکی اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

افغانستان میں نسلی یا قبائلی اختلافات کی جڑیں بہت گہری ہیں، اور شہریوں کی نظر میں کسی نسل یا قبیلے سے تعلق ہی اس کی سیاسی اور معاشرتی شناخت ہے۔ اپنی قومیت کے اظہار کیلئے بڑے بڑے مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

درجنوں افغان تارکین وطن لندن میں افغان سفارتخانے کے باہر کھڑے اپنی نسلی شناخت کے مطابق قومی شناختی کارڈ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ احمد منصور ان مظاہرین میں شامل ہیں۔

احمد منصور”ہمارے قبیلے کا نام ہمارے آباءو اجداد کی میراث ہے، ہم اسے کھونا نہیں چاہتے، ہم افغان نہیں کیونکہ افغان کا مطلب عام طور پر پشتون قبیلہ سمجھا جاتا ہے”۔

دوسرا فریق بھی اسی طرح کے جذبات رکھتا ہے۔

سینکڑوں افراد کابل میں جمع ہوکر حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی نسلی یا قبائلی شناخت شناختی کارڈز پر ظاہر نہ کی جائے۔اسمعیل عون بھی ان میں شامل ہیں۔

اسمعیل”ہم افغانستان چاہتے ہیں، ہم اسلام چاہتے ہیں، ہم افغان قوم کوچاہتے ہیں، انہیں ہمارا احترام کرنا چاہئے”۔

یونیورسٹی کی طالبہ طاہرہ مظفری اس نسلی تقسیم پر مزید تشدد کے خیال سے فکرمند ہیں۔

طاہرہ”افغان کا مطلب ہمارے ملک کے تمام قبائل ہے، یہ صرف پشتون یا تاجک وغیرہ کیلئے مخصوصی نہیں، اس لفظ کے ذریعے ہمارا قومی اتحاد ظاہر ہوتا ہے”۔

افغانستان دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے، رمضان علی ان متعدد افغان شہریوں میں سے ایک ہے جو تشدد سے بچنے کیلئے پاکستان چلے گئے تھے، جہاں لوگ انہیں افغان ہی کہتے تھے۔

رمضان علی”جب خانہ جنگی کے دوران ہم نے پڑوسی ممالک کا رخ کیا تو وہاں ہمیں تاجک یا پشتون کی بجائے افغان کہا گیا”۔

وزارت داخلہ کے الیکٹرونک آئی ڈی کارڈز منصوبے کے مشیر محمد ناصر امین کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ نے اس حوالے سے درست فیصلہ کیا ہے۔

ناصر امین”دیگر ممالک کے شناختی کارڈز میں قبائلی یا نسلی شناخت کی کوئی جگہ نہیں”۔

انکا کہان ہے کہ لوگوں کو احتجاج کا حق ہے مگر ہم تمام شہریوں سے متحد ہوکر اس منصوبے کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہیں۔

ناصر امین”ہم سب سے پہلا الیکٹرونک کارڈ صدر کزئی کو دیں گے، جس کے بعد ہم کابل سمیت دس شہروں میں ان کارڈز کی تقسیم کا کام شروع کریں گے۔ وہاں کامیابی کے بعد اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا، اس منصوبے پر سو ملین ڈالرز کا خرچہ آئے گا”۔