مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دنوں جرمنی کی میزبانی میں ایک بین الاقوامی کنسرٹ کا انعقاد ہوا، جس میں دو ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی، تاہم حریت پسند رہنماﺅں اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکنوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
ڈل جھیل کے کنارے واقع شالیمار باغ میں دو ہزار کے قریب افراد جمع ہوکر ایک میوزک گروپ کی دھنوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ اس کنسرٹ کو دا فیل آف کشمیر کا نام دیا گیا اور اس کا انعقاد بھارت میں جرمن سفارتخانے نے کرایا، جرمن سفیر مائیکل سٹین کا کہنا ہے کہ یہ کشمیری ثقافت کو ہمارا خراج تحسین ہے۔
مائیکل”میونخ اور سرینگر کے درمیان 7076 کلومیٹر کا فاصلہ موجود ہے، مگر آج رات موسیقی کے ذریعے تمام فاصلوں کو ختم کردیا گیا ہے۔ جرمن اور یورپی ثقافتی ورثہ کشمیر کے ورثے اور خوبصورتی کو سراہ رہا ہے”۔
اس کنسرٹ میں جرمنی کے سب سے پرانے میوزک گروپ باواریان اسٹیٹ اورکیسٹرا اور بین الاقوامی سطح پر معروف زبین مہتا نے شرکت کی، زبین مہتا کا کہنا ہے کہ ان کا خواب تعبیر پاگیا ہے۔
زبین”میں نے اس لمحے کا پوری زندگی انتظار کیا اور خواب دیکھا، برصغیر کا ہر باسی بھی میری اس بات سے اتفاق کرے گا”۔
یہ اتنے بڑے پیمانے پر مقبوضہ کشمیر میں منعقد کیا جانے والا پہلا ثقافتی ایونٹ تھا، یہی وجہ ہے کہزوبین مہتااس کنسرٹ پر سامنے آنے والے تنازعے پر کافی پریشان نظر آئے۔
زبین”یہاں آنے والے خواتین و حضرات اتنے اچھے سازندوں اور گانے والوں کے فن سے لطف اندوز ہورہے ہیں، ہم یہاں کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں مگر کچھ لوگوں کو اس سے تکلیف ہورہی ہے، مگر جیسے ہی یہاں موسیقی کا آغاز ہوا تو کشمیر اور ہمارے دوستوں کے گرد انتہائی مثبت ماحول پیدا ہوگیا ، ہمارے تمام شہروں پر اچھے اثرات مرتب ہوئے”۔
اس موقع پر بھارتی فوجیوں کی بھاری نفری تعینات تھی کیونکہ حریت پسند رہنماﺅں نے اس تقریب کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا
تھا۔ کشمیری قیادت کے مطابق بھارت اس کنسرٹ کے ذریعے کشمیر کے تنازعے سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین ہیں۔
فاروق”جہاں تک کشمیری ثقافت، ورثے اور فنون لطیفہ کی بات ہے،ہمیں اس پر فخر ہے اور کوئی بھی شخص اس طرح کے ایونٹس کے خلاف نہیں، جس کا مقصد ان چیزوں کو فروغ دینا ہے، مگر اس کنسرٹ میں بھارتی حکومت کا ایک خفیہ سیاسی ایجنڈہ ہے، اس سے وہ عالمی برادری کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی کے حالات معمول پر آگے ہیں، جبکہ حقیقت تو یہ ہے یہاں روزانہ معصوم کشمیریوں کا خون بہایا جارہا ہے”۔
انھوں نے جرمن حکومت سے بھی اس تقریب کو منسوخ کرنے کی اپیل کی۔
فاروق”اگر جرمن حکومت کشمیری عوام کیلئے واقعی کچھ کرنا چاہتی ہے تو وہ آگے آئے اور طبی سہولیات، تعلیم اور مرتی ہوئی ڈل جھیل کیلئے کچھ کرے”۔
تاہم جرمن سفیر کا اصرار ہے کہ یہ خالص ثقافتی ایونٹ ہے، جس کے بعد حریت کانفرنس کی اپیل پر کنسرٹ کے موقع پر پوری وادی میں شٹرڈاﺅن ہڑتال کی گئی۔
کچھ دیگر مقامی گروپس نے بھی اس کنسرٹ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک اور موسیقی کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جسے کشمیر کے حقائق کا نام دیا گیا، جس میں مقامی فنکاروں نے شرکت کی۔ حمیدہ نعیم اس تقریب کی انتظامیہ میں شامل تھیں۔
نعیم”ہم اپنا احتجاج اور مزاحمت ہر اس اقدام کے خلاف ریکارڈ کرائیں جس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کشمیریوں نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال کر اس کی بالادستی کوقبول کرلیا ہے”۔
واپس جرمن کنسرٹ میں چلتے ہیں جہاں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تقاریب وقت کی ضرورت ہے۔
عبداللہ”کل سورج دوبارہ نمودار ہوگا، وہ مسائل میں گھری سرزمین پر چمکے گا، وہ زمین جو تکلیف اور مشکلات کا سامنا کررہی ہے، وہ سرزمین جو امن کی منتظر ہے، مگر آج کی شام کے چند گھنٹے موسیقی کے ساتھ گزار کر ہم اپنی روحوں کو تسکین پہنچا رہے ہیں اور پرامن مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں”۔