Comedy Radio channel مزاحیہ ایف ایم چینل
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ دنیا میں کوئی نشریاتی ادارہ یا دوسرے لفظوں میں کوئی ریڈیو سنجیدہ، معاشرتی، معاشی یا کسی بھی موضوع کے پروگرامز کے بغیر صرف مکمل مزاح کے سہارے چلایا جاسکتا ہے؟ اس طرح کا تو ٹی وی چینل بھی دنیا بھر میں اگر ہوا تو کسی ترقی یافتہ ملک میں ہی کام کررہا ہوگا، مگر وہاں بھی اس طرح کے ریڈیوچینلز کا تصوراتنا مقبول نہیں۔لیکن ایک غیر ترقی یافتہ ملک نیپال میں اس طرح کا ریڈیو کام کررہا ہے، جس میں ہرپروگرام چاہے وہ اشتہارات ہی کیوں نہ ہوں، اس میں مزاح کا تاثر ضرور موجود ہوتا ہے۔
ریڈیو آڈیو نامی ایف ایم چینل نے تقریباً چار سال قبل نیپال میں کام شروع کیا تھا۔ دیپندرنامی شخص نے مکمل مزاح پر مشتمل ریڈیو کے تصور کو حقیقی شکل دی تھی۔دیپندراس ریڈیو کے مینجنگ ڈائریکٹراور شکھاشرما ریڈیو آڈیو ایف ایم106.3 کی پراجیکٹ منیجر ہیں۔ وہ اپنے ایف ایم چینل کی بنیادی تفصیلات بتارہے ہیں۔
(دیپندر)”یہ میرا خیال تھا”۔(شکھا)”جی ہاں یہ ہمارے منیجنگ ڈائریکٹر کا خیال تھا،ریڈیو آڈیو کی نشریات شروع ہوئے تین برس ہوچکے ہیں اور اب چوتھے سال کا آغاز ہوا ہے۔ریڈیو آڈیو بنیادی طور پر نیپال سے تعلق رکھنے والا ایک مزاحیہ ایف ایم چینل ہے،یہ واحد ایف ایم چینل ہے، جس میں تمام پروگرامز چاہے وہ کسی بھی موضوع پر ہو،مزاح کو تصور کو سامنے رکھ کر تیار اور نشر کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ادارے کیساتھ کئی معروف فنکار خصوصاً کامیڈین منسلک ہیں،جو پروگراموں کی تشکیل اورپیشکش کیساتھ ساتھ مزاح سے بھرپورایسے پروگرامز پروڈیوس کرسکتے ہیں، جیسے”۔( دیپندر)”ٹیلیویژن چینلزپرہوتے ہیں”۔
نیپال میں سینکڑوں ایف ایم ریڈیو اور کمیونٹی ریڈیو کام کررہے ہیں تاہم شکھا شرما اور دیپندر کا کہنا ہے کہ اس ریڈیو کو شروع کرنیکا انکا بنیادی مقصد لوگوں کے چہروں پر ہنسی بکھیرنا تھا ۔
(شکھا)”ہم کسی قسم کے جذباتی گانے نشر نہیں کرتے”دیپندر”نہ صرف گانے بلکہ ہم کسی قسم کا سنجیدہ یا جذباتی پروگرام نشر نہیں کرتے”۔(شکھا)”جی ہاں، اس سب کے پیچھے بنیادی مقصد لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہے”۔(دیپندر)”جی ہاں، خوشی اور مسکراہٹ”۔(شکھا)”جی یہ ریڈیو آڈیو کا بنیادی تصور ہے”۔(دیپندر)”جی ہمارا بنیادی خیال یہ ہے کہ سب خوش رہیں”۔
ریڈیو آڈیو کی شروعاتی نشریات ستمبر2007ءمیں ایک نیپالی میلے گا ئیجاتراکے آغاز کے موقع پرشروع ہوئی تھیں۔ گایوں کے میلے کے نام سے اس مشہور میلے کو تاریخی طور پر آزادی اور مزاح کا میلہ بھی سمجھا جاتا ہے، جہاں ہرشخص کو ہرطرح کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔شکھا شرما اس میلے کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کررہی ہیں۔
(شکھا)”دو یا تین سو سال قبل نیواری برادری سے تعلق رکھنے والے ایک بادشاہ کے بیٹے کا انتقال ہوگیا، جسکے بعد اپنی غمزدہ ملکہ کو خوش کرنے کیلئے بادشاہ نے ایک میلہ” گا ئیجاترا”کا انعقاد کروایا۔ بادشاہ نے ہر اس شخص کوجسکا کوئی پیارا جدا ہوچکا ہو، گلیوں میں ایک گائے جسے انسان سے تشبیہ دی جاتی تھی، لیکر نکلنے کی دعوت دی۔ان گایوں کو مختلف چیزوں سے سجایا جاتا تھا، جبکہ موسیقی کے آلات بھی ہمراہ ہوتے تھے، جسکے بعد وہ ہجوم شہرکی گلیوں میں چکر لگاتا تھا۔یہ سب بادشاہ نے اپنی ملکہ کو خوش کرنے کیلئے کیا تھا”۔
دیپندر اور شیکھا شرما کے مطابق اگرچہ ریڈیو آڈیو کی نشریات گا ئیجاتراسے شروع ہوا تھا، تاہم 7دسمبر 2007ءکو نیپال کے معروف کامیڈی فنکاروںنے ریڈیو آڈیو کا باقاعدہ افتتاح کیاتھا۔
(دیپندر)”ہم نے ریڈیو کی نشریات گا ئیجاتراکے میلے کے موقع پر بارہ ستمبر2007کو شروع کی تھی۔(شکھا)”ہم نے ریڈیو نشریات اس وقت شروع کی تھی،تاہم باضابطہ نشریات کا افتتاح نیپال کے معروف کامیڈی فنکار ہری بنش اچاریہ اور مدن کرشنا شریستھانے کیا، یہ دونوں بہت سنئیر کامیڈی آرٹسٹ ہیں۔ (دیپندر)”یہ دونوں سنئیر آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ نیپال کے انتہائی قابل احترام شہری بھی ہیں”۔
ریڈیوآڈیو ایف ایم چینل پرانڈین فلموں کے مزاحیہ گانے بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ اسچینل کے تمام پروگرام مزاح کے عنصر کو مدنظر رکھ کر تیار کئے جاتے ہیں، اس لئے کامیڈی فنکار ہی اس میں زیادہ تر پروگراموں کی تیاری میں پیش پیش نظر آتے ہیں،کھلدلی، لوک بازار اور کامیڈی کلب اسکے چند مشہور پروگرام ہیں۔چونکہ یہ ریڈیو ایک منفرد خیال کے تحت چلایا جارہا ہے، اس لئے نیپال میں اس طرح کا کوئی اور ایف ایم چینل کام نہیں کررہا۔
اس ریڈیو کا انتہائی منفرد سلوگن یا نعرہ بھی شکھا شرما اور دیپندراس بارے میں بتارہے ہیں۔
)شکھا”(ہم ایک چیز بھول رہے ہیں، جو ریڈیو کا سلوگن ہے،عوام کو ہمیشہ خوش اور مسروررکھنا،کیونکہ اس میں ہی ہے مزہ۔اسکا مطلب ہے کہ ہم عام عوام کو اپنی نشریات کے ذریعے انکے تناﺅ اور پریشانیوں کو ختم کردینا چاہتے ہیں، جو کہ ریڈیو آڈیو کا بنیادی مقصد ہے۔)دیپندر”(جی ہاں کیونکہ اسی میں ہے مزہ) “شکھا(جی ہاں یہی اسکا مطلب ہے۔ہمارے ریڈیو کی نشریات کا دائرہ فی الحال نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو تک ہی محدود ہے،تاہم کچھ پروگرامز نیپال کے چند دیگر ایف ایمچینلز جیسے بھی چلائے جاتے ہیں،انچینلز کا انتخاب کسی تعصب کی بجائے انکے جغرافیائی محل وقوع اور کوریج ایریاز کو دیکھ کر کیا جاتا ہے”۔
ریڈیو آڈیو تفریح کیساتھ ساتھ تیکنیکی،ٹیکنالوجی اور عملے کے لحاظ سے بھی نیپال کا نمبرون ریڈیو سمجھا جاتا ہے،جس کی نشریات صبح پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک بلاتعطل جاری رہتی ہے۔شکھا شرما کا کہنا ہے کہ ہماری کامیابی کا سفر جاری ہے۔
)شکھا(ہمارے پاس مستعد و انتہائی سرگرم پروڈیوسرز اور میزبان ہیں،اسی وجہ سے لوگ جو بھی ہم سے توقع رکھتے ہیں، ہم اس پر پورا اترتے ہیں،اسی باعث ہم کامیابی سے تین سال مکمل کرکے چوتھے سال میں داخل ہوگئے ہیں۔ہم فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہکھٹمنڈو کیساتھ ساتھ نیپال بھر میں لوگ ہمارے پروگرامز کو پسند کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں فیڈ بیک، ای میلز، ایس ایم ایس اور ذاتی طور پرملنے والی آراءسے یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ان سب عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے کام سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لارہے ہیں۔
یہ واقعی حقیقت ہے کہ لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دینے والے ریڈیو آڈیو کے پروگرامز عوام کو کچھ لمحوں کیلئے انکی پریشانیوں سے دور لے جاتے ہیں۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | 2 | 3 | 4 | |||
| 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 |
| 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 |
| 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 |
| 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | |

Leave a Reply