Gugral tree ۔گگرال کا درخت

پاکستان میں موجود صحرائے تھر دنیا کا چوتھا سب سے بڑے صحراہے۔صحرائے تھر دیگر صحراﺅں کے مقابلے میں منفرد خصوصیات کا حامل ہے۔یہاں کی زمین بنجر و خشک نہیں، بارشیں یا پانی ملنے کی صورت میں یہاں کی زمین انتہائی زرخیر ہوجاتی ہے،جبکہ جگہ جگہ سبزہ اگ آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارشوں کے موسم میں اس علاقے کو کشمیر سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے، کیونکہ یہاں کے ریتیلے پہاڑ سرسبزوشاداب ہوکر انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں
صحرا کے آغاز پر واقع ضلع تھرپارکر 4 تحصیلوں ڈیپلو، مٹھی، چھاچرو، ننگر پارکر اور 2305 گوٹھوں پر مشتمل ہے۔یہ بہت خوبصورت علاقہ تصور کیا جاتا ہے، مگر عالمی موسمیاتی تغیر کے سبب اسے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے، گزشتہ بیس برسوں کے دوران تھرپارکر کو تیرہ بار شدید قحط سالی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے جنگلی حیات اور زمین کی زرخیری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
صحرائے تھر میں ماحولیاتی تباہی میں خود انسان کا ہاتھ بھی ہے کیونکہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے قوانین کی موجودگی کے باوجود تھرپارکرکے قیمتی درخت بے دردی سے کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث علاقہ ماحولیاتی تباہی کے کنارے پر پہنچ گیاہے، خصوصاً گوند پیدا کرنیوالے درخت جسے تھر پارکر کے مقامی افراد گگرال کے نام سے جانتے ہیں،اس سے پیداوار کے حصول کیلئے کیمیائی مواد استعمال ہونے سے بڑی تعداد میں درختوں کا صفایا ہوگیا ہے۔محمد سلیم کوسو ننگرپارکر پریس کلب کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ اس بارے میں بتارہے ہیں۔
محمد سلیم کوسو()”اب کچھ لوگ ٹھیکیدار بن گئے ہیں،، جو زہریلا کیمیائی مواد درخت میں کٹائی کرکے ڈالتے ہیں۔
گگرال نامی یہ درخت تھر پارکر کی تحصیل ڈیپلوسے شروع ہوکر آخری کونے میں واقع ننگر پارکر میں کارونجھر کے پہاڑو ںتک پھیلے ہوئے ہیں۔ تھر میں گگرال نامی یہ قیمتی درخت اگر بتیوں، خوشبو، لوبان، سیمنٹ، آڈیوو وڈیو کیسیٹیں اور ادویات کی تیاری سمیت دیگر مصنوعات میں استعمال ہوتاہے۔ننگر پارکر کے شہری گگرال کے حوالے سے کئی برسوں سے ایک مسئلے سے دو چار ہیں، جس کے کیخلاف وہ کافی عرصے سے احتجاج اور متعلقہ محکموں سے داد رسی کےلئے رجوع بھی کر رہے ہیں۔
مقامی بااثر افراد کافی عرصے سے اپنے کارندوں کے ذریعے گگرال سے بڑے پیمانے پر گوند حاصل کرنے کیلئے ناجائز ذرائع استعمال کررہے ہیں۔جس کی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ اب تک تھر کے علاقے میں 70فیصد سے زائد درختوں کا صفایا کیا جاچکاہے۔واضح رہے کہ سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈیننس 1972ءکے تحت تھرپارکر کے علاقے میں قدرتی حیات کو نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔اس علاقے میں قدرتی جنگلات اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ،پاکستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ اور اقوام متحدہ کنونشن برائے تحفظ حیاتیات سمیت دیگر صوبائی و قومی قوانین لاگو ہیں،لیکن ان کے باوجود بااثر مافیا کی جانب سے قیمتی درختوں کی نسل کشی اور ماحولیاتی تباہی عروج پر ہے۔
گگرال کی گوند سے تیار ہونیوالا لوبان اپنی مانگ اور کھپت کے باعث قیمتی چیز قرار دیا جاتا ہے۔ اسے نیپال اور بھارت سمیت دیگر ممالک کو قانونی یا غیرقانونی طور پردرآمد کیا جاتا ہے۔قحط کے دنوں میں غریب لوگ پہاڑ پر جا کرگگرال کے درختوں میں پیدا ہونے والی گوندکو جمع کیا کرتے تھے اور پھر فروخت کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔
مگر اب ان درختوں سے گوند اکھٹا کرنے کےلئے علاقے کے با اثر لوگ بھی مقابلے میں کود پڑے ہیں۔ ان لوگوں نے پہلے مرحلے میں غریب لوگوں کو مار بھگایا اور اس حد تک سختی کی کہ غریب خواتین کا پانی بھرنے کا راستہ بھی روک دیا گیا۔ اس معاملہ پر جھگڑا فساد روز کا معمول بن گیا حالانکہ ننگر پارکر میں سڑک کی تعمیر سے قبل کوئی جھگڑا شاز و نادر ہی ہوتا تھا۔
بااثر لوگوں کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ پوری پیداوار پر وہ ہی قابض ہو جائیں بلکہ انہوں نے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا ایک اور طریقہ ایجاد کیا ہے۔زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے خواہش مند حضرات تھرپارکر کے مختلف علاقوں خصوصاً ننگر پارکر میں درختوں میں جگہ جگہ کلہاڑی مار کر اس میں کیمیائی موادداخل کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں درخت اپنی مقررہ مقدار سے زیادہ پیداوار دیتا ہے۔ اس طریقے سے پیداوار تو بڑھ جاتی لیکن درخت کی عمر گھٹ کر صرف چھ ماہ رہ جاتی ہے۔درختوں کی نسل کشی کے اس عمل سے صحرا سے سبزہ ختم اور ریتلا علاقہ پھیل رہا ہے،جبکہ جنگلی حیات کی بقا کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں، کیونکہ کارونجھر پہاڑ پر موجودگگرال نہ صرف اپنے گوند کی وجہ سے مقامی لوگوں کیلئے اہم ہے، بلکہ ان کے مویشیوں کیلئے بھی قدرتی چارے کی حیثیت رکھتا ہے۔محمد سلیم کوسو کا اس بارے میں کہنا ہے۔
محمد سلیم()کارونجھر پہاڑ پر موجود گگرال درخت نہ صرف پہاڑ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے، بلکہ اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ اس درخت کے پتے وغیرہ مویشی کھاتے ہیں، جس سے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
تاہم کیمیکل سے آلودہ پتوں اور جھاڑیاں وغیرہ کھانے سے مویشی مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں، جو یہاں کے شہریوں کیلئے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔
درختوں سے گوند جمع کرنیکا کام جنوری سے اپریل تک جاری رہتا ہے، اور ایک ہفتے میں تقریباً چارٹرک بھر کر کراچی، یا دیگر ممالک بھیج دیئے جاتے ہیں، اس گوند کو چالیس ہزار روپے فی من کی حساب سے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔
مقامی صحافی محمد سلیم کوسوکا کہنا ہے کہ درختوں کی تباہی سے ایک طرف تو ضرورت کے دنوں میں مقامی رہائشیوں کی مدد کرنے والے درخت ختم ہو رہے ہیں دوسری طرف علاقے کے ماحول پربھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
محمدسلیم()گگرال درخت ختم ہونے یہاں بارشیں تھم جائیں گی اور علاقے میں قحط سالی کا راج ہوگا۔
ایک این جی اوSociety for Conservation & Protection of Environment [SCOPE]نے دیگر این جی اوز کے نمائندوں کیساتھ دسمبر 2009ءمیں ایک پریس کانفرنس کی اور متعلقہ حکام کو مدد کی درخواست کی۔جس کے بعد ایک ویجیلنس کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں رینجر سمیت شہریوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔
ننگرپارکر پریس کلب کے سیکرٹری جنرل محمد سلیم کوسو کا کہنا ہے کہ گگرال کے درخت میں بہارآنے سے پورا علاقہ مہک اٹھتا ہے۔
محمد سلیم()گگرال کے درخت جب ہرے بھرے ہوتے ہیں تو پورا علاقہ ایک دلفریب خوشبو سے مہکتا رہتا ہے، مگر اب وہاں صرف سوکھے درخت نظر آتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *