Chinese scientists at the cutting edge in Sweden – سوئیڈن میں چینی سائنسدان

چینی معیشت کی ترقی کیساتھ ہی اس کے متعدد سائنسدان بیرون ملک کام کرنے پہنچ رہے ہیں، اس وقت چینی محققین کی بڑی تعداد سوئیڈن میں ماحولیات پر کام کررہی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

چینی نئے سال کو گھوڑے سے منسوب کیا گیا ہے، جسے سفر کیساتھ ساتھ کامیابی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سوئیڈن میں مقیم 35 ہزار کے قریب چینی افراد رواں برس کو اپنے لئے خوش قسمت تصور کررہے ہیں۔

چائنیز لائف سائنس ایسوسی ایشن،سویڈش کے اراکین ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کے کھانے پر ملاقات کے دوران اپنی نئی ریسرچ پر بات کررہے ہیں،شن وانگ رائل ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔

وانگ”چینی طالبعلم یورپی یونین میں بیرون ملک سے آنے والے طالبعلموں کی مجموعی تعداد کے ایک تہائی کے برابر ہیں، یہاں دو ہزار پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہیں، جن میں سے تین سے چار سو کا تعلق چین سے ہے”۔

ان میں سے ایکہو ایرن لو ہیں، جو اسکول آف کیمیکل انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کررہی ہیں،بیٹریوں پر ان کی تحقیق کافی زبردست ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ ایسی لچکدار موبائل فون بیٹریاں تیار کرنےکی کوشش کررہی ہیں، جنھیں لکڑی کی مدد سے بنایا جاسکے گا۔ سوئیڈن کی جنگلات کی صنعت کافی مضبوط ہے اور یہاں لکڑی کی مصنوعات بیٹری کی تیاری کیلئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

لُو”ہم لکڑی کی مصنوعات استعمال کرسکتے ہیں، کیونکہ لکڑی سستی اور ماحول دوست ہوتی ہے، میں بیٹری کی مضبوطی بڑھانے پر توجہ دے رہی ہوں، تاہم ہم زیادہ دیر تک بیٹری استعمال کرسکیں”۔

آئندہ چند برسوں میں لچکدار موبائل فون سامنے آنے کا امکان ہے اور تو ان کی تیار کردہ بیٹریاں یقیناً کافی مددگار ثابت ہوں گی۔اس وقت چینی محققین ماحول

دوست توانائی کیلئے دنیا بھر میں کام کررہے ہیں،ڈاکٹر مارٹن بھیم،ہو ریئن کے سپروائزر ہیں، انکا کہنا ہے کہ چینی طالبعلم اس میدان میں کافی آگے ہیں۔

ڈاکٹر مارٹن”نوجوان چینی افراد میں اس وقت مغربی دنیا کے مقابلے میں ٹیکنالوجی اور سائنس کے حوالے سے دلچسپی کافی زیادہ ہے”۔

سوئیڈن کی فیول سیل ٹیکنالوجی نے امریکی صدر باراک اوبامہ کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرالی تھی جنھوں نے حال ہی میں فیول سیل لیب کا دورہ بھی کیا، انھوں نے تحقیقی ٹیموں پر زور دیا کہ وہ اپنی مصنوعات جلد از جلد مارکیٹ میں لائیں۔

لاو ووکی ٹیم ایک طاقتور فیول سیل کی تیاری پر کام کررہی ہے، جس سے زیتون کے تیل سے تیار کردہ مصنوعات سے توانائی پیدا کی جاسکے گی، مگر وہ اس سے بھی ایک قدم آگے جانا چاہتی ہیں۔

لاووو”متعدد ممالک میں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جارہا ہے، ہم چاہتے ہیں فیول سیل کی مدد سے گیس بھی پیدا کی جائے”۔

اس کے علاوہ رائل ٹیکنیکل کالج میں چینی افراد سبز توانائی کے منصوبوں پر بھی تحقیق کررہے ہیں، آج سیاستدان، انجنئیرز اور کاروباری افراد اس کا جائزہ لینے کیلئے جمع ہوئے ہیں،وی ہونگ ینگ ایوارڈ یافتہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، جو لکڑی کی بیکار سمجھی جانے والی مصنوعات کو ایندھن میں تبدیل کرنے پر کام کررہے ہیں۔

یونگ”ہم کوشش کررہے ہیں کہ اس عمل پر آنے والے اخراجات کو کم جبکہ تیکینیکی توازن میں بہتری لائی جاسکے، ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ بائیو ماس کی مصنوعات سے تیل کو گیس بھی تبدیل کرنے کا عمل کیا جاسکے تاکہ روایتی ایندھن کا متبادل سامنے آسکے”۔

مگر پروفیسرہر نک تھن مین کاکہنا ہے کہ مسابقتی مصنوعات کی تیاری کیلئے ہمیں حکومتی تعاون کی ضرورت ہوگی۔

تھن مین”ماحول دوست توانائی کی تیاری اقتصادی طور پر سبسڈی کے بغیر ممکن نہیں، اس کے بغیر بائیو ماس کے ذریعے روایتی ایندھن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا”۔

تاہموی ہونگ کا کہنا ہے کہ ہم لاگت میں کمی لاسکتے ہیں مگر اس کیلئے کچھ وقت چاہئے ہوگا۔

وی ہونگ”گلوبل وارمنگ مستقبل میں سب سے بڑا مسئلہ ہوگی، جب آپ اس کو حل کرین گے تو ہر ایک کو قیمت ادا کرنا ہوگی، یہ کوئی مفت کا کام نہیں”۔

ہو رین لُو اپنے مستقبل کے حوالے سے غیریقینی کا شکار ہیں، تاہم وہ پرامید ہیں کہ رواں برس تک وہ لکڑی کی منصوعات سے اپنی بیٹری بنانے میں کامیاب ہوکر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلیں گی۔

لُو”ایسا نہ ہوا تو میں چین واپس جاکر کسی جگہ پروفیسر بن کر کام کرنے لگوں گی”۔