(China’s Village for the Children of Criminals) مجرمان کے بچوں کیلئے قائم چینی گاﺅں

 

چین میں دس لاکھ سے زائد افراد جیلوں میں بند ہیں، جن میں سے بیشتر کے بچے جیلوں کے باہر اپنے والدین کا انتظار کررہے ہیں۔چونکہ ان کے والدین حیات ہوتے ہیں اس لئے ان بچوں کو سرکاری طور پر یتیم تسلیم نہیں کیا جاتا، اس لئے وہ حکومتی مراعات کے لئے بھی اہل قرار نہیں پاتے۔ مجرم افراد کے ایسے بچوں کیلئے ایک منفرد منصوبے پر کام ہورہا ہے۔

Sun گاﺅں نامی یہ پناہ گاہ ایک سالگرہ کی تقریب آتشبازی، ڈھول اور جھانجھروں کی آوازوں سے گونج رہی ہے، یہ گاﺅں نما پناہ گاہ ایسے بچوں کی قیام گاہ ہے جن کے والدین جیلوں میں قید ہیں۔ اس تقریب میں ماہ مئی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کی سالگرہ منائی جارہی ہے۔ Miao Xiao Long کی عمر اب بارہ سال ہوگئی ہے، وہ پانچ سال کی عمر سے اس گاﺅں میں مقیم ہے۔

(male) Miao Xiao Longمیرے خاندان کے افراد,میرے والد اور میری ماں، ان کی کوئی یاد میری یاداشت میں محفوط نہیں ، وہ گم ہوچکے ہیں”۔

تاہم Miao Xiao کی زندگی محبت اور نگہداشت سے محروم نہیں گزری۔ آج سالگرہ کے موقع پر دو سو مہمان اسے مبارکباد دے رہے ہیں۔Sun گاﺅں کی ان تقریبات کو Charity Birthday Gatherings کا نام دیا گیا ہے۔

مختلف کھیلوں اور سرگرمیوں کے ساتھ یہ تقریبات منائی جاتی ہیں، جن میں شوز، ماحول دوست فارمز میں باغبانی کا کام اور پرتکلف ضیافت وغیرہ قال ذکر ہیں۔اس گاﺅں کے ماحول دوست فارم میں اسٹرابری، سبزیوں اور چیری کے باغات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک کنٹین بھی ہے جبکہ مہمانوں کے آرام کے لئے رہائشی کمرے بھی موجود ہیں۔ اس فارم میں داخلہ مفت ہے تاہم کھانے اور یہاں کے پھل یا سبزی کھانے پر پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔یہاں آنے والے مہمان درخت لگانے کے لئے شروع کئے گئے اسپانسرشپ پروگرام کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔یہ فنڈز اکھٹا کرنے کی نئی حکمت عملی ہے۔ Sun گاﺅں میں بچوں کی طبی اور تعلیمی ضروریات سمیت دیگر اخراجات کیلئے سالانہ 64 ہزار ڈالر کی ضرورت پڑتی ہے۔Zhang Shuqin نے اٹھارہ سال قبل اس منفرد پناہ گاہ کی بنیاد رکھی تھی اور چین بھر میں ان کی آٹھ شاخیں کام کررہی ہیں۔

 (female) Zhang Shuqin “ہمیں وسائل کی کمی کا سامنا ہے، ہم لوگوں سے مدد کی درخواست کرتے ہیں، تاہم اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمیں نئے خیالات اور پروگرامز پر کام کرنا پڑتا ہے، تاکہ عوامی دلچسپی کو بڑھایا جاسکے اور انہیں اس میں شمولیت کیلئے تیار کیا جاسکے۔ ہم پتنگیں اڑانے کے میلے کا انعقاد کرتے ہیں، شجرکاری مہم، اسٹرابری چننااور سالگرہ وغیرہ منانا اس کی مثالیں ہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ عوامی شمولیت سے ایسے بچوں کے خلاف تعصب بھی کم ہوتا ہے جن کے والدین مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

 (female) Zhang “ایسے بچوں کو تعصب کا شکار بنایا جاتا ہے، جنہیں معاشرے نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، درحقیقت ان بچوں کو ان کے پس منظر کے باعث اکثر امتیازی اور توہین آمیز سلوک کا ہدف بنایا جاتا ہے”۔

اسٹیج پر فن موسیقی کا مظاہرہ کرنے والی بارہ سالہ Li Yufeng ایک کیک کاٹ رہی ہیں۔

 (female) Li Yufeng “یہاں مختلف چیزیں سیکھنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے معلوم ہے pancakes، دیگر کیکس اور چٹپٹے کھانے کس طرح تیار کئے جاتے ہیں”۔

اس گاﺅں کے رہائشی بچے ماحول دوست فارم میں بھی کام کرتے ہیں، Miao Xiao اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔

 (male) Miao Xiao “ہم صبح چھ بجے اٹھتے ہیں، بستر ٹھیک کرتے ہیں، منہ وغیر دھو کر ناشتے سے قبل گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں۔پیر سے جمعے تک ناشتے کے بعد ہم اسکول جانے کی تیاری کرتے ہیں، جبکہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران ہم فارم پر کام کی تیاری کرتے ہیں”۔

ہر بچے کے ذمے الگ کام ہے،جیسے صفائی، کھانا پکانا، پھلوں کے جوس تیار کرنا، ٹور گائیڈ، اسٹرابری چننا اور چیزیں فروخت کرنا وغیرہ۔ اٹھارہ سالہ Yan Junle حال ہی میں تیکنیکی تربیت کا کورس مکمل کیا ہے، اب وہ فارم میں کیٹرنگ کا کام سنبھالے ہوئے ہیں۔

 (male) Yan Junle “فنڈز کی قلت کے باعث اس جگہ کیلئے عملے کی کمی کا سامنا ہے، یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہاں کچھ عرصے کام کرنا پسند کرتے ہیں”۔

Yan Junle یہاں آٹھ برس سے مقیم ہے، شروع میں وہ اپنی مجرم والدہ سے نفرت کا اظہار کرتا تھا لیکن اب اس نے اپنی ماں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 (male) Yan Junle “یہاں سب بچوں کا پس منظر ایک جیسا ہے، ہمارے دل زخمی ہیں، اور ہم ایک دوسرے سے اس کے ماضی کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ کبھی کبھار ہم بے تکلف دوستوں سے اس موضوع پر بات کرتے ہیں مگر کوئی بھی شخص اپنے تکلیف دہ ماضی کو یاد کرنا پسند نہیں کرتا”۔

تاہم Zhang Shuqin کا خیال مختلف ہے، وہ جیل انتظامیہ کے ساتھ ملکر قیدیوں کے ماضی اور ان کے جرائم سے بچوں پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتی ہیں۔

 (female) Zhang Shuqin “ان بچوں کو متعدد نفسیاتی مسائل لاحق ہوتے ہیں، اور ان کے اندر آوارہ ہونے کا رجحان موجود ہوتا ہے۔ میں انہیں حقیقت کا سامنا کرنے کا کہتی ہوں، انہیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ ان کے والدین مجرم ہیں۔ اس حقیقت کا بہادری سے سامنا کرکے ہی وہ نفسیاتی بوجھ سے نجات پاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران وہ یہاں آنے والے مہمانوں کو اپنی کہانیاں سناتے ہیں”۔

Mrs Wang اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو سالگرہ کی تقریب میں لے کر آئی ہیں۔ یہ بچی پہلی بار یہاں آئی ہے۔

 (female) Mrs Wang “میں ان بچوں کے پس منظر کے بارے میں اپنی بیٹی کو زیادہ نہیں بتاﺅں گی، میرے خیال میں وہ ابھی بہت چھوٹی ہے، اس لئے وہ اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکے گی۔ اگر میں نے اپنی بچی کو بہت زیادہ بتایا تو اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اسے کہا کہ ان بچوں کے والدین موجود نہیں، اس وجہ سے انہیں سخت زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ میری بیٹی ان بچوں کی حالت دیکھ کر ان سے محبت کرے گی”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *