(China battles rising teen obesity, diabetes) چین میں موٹاپے اور ذیابیطس کی شرح میں اضافہ
چین میں عوامی سہولیات فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں، مگر کئی نئے چیلنجز بھی ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ ملکی ترقی کے ساتھ ہی لوگوں میں موٹاپے کی شرح بڑھنے لگی ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق چینی نوجوانوں کی بڑی تعداد ذیابیطس کا شکار ہورہی ہے جس کی بڑی وجہ موٹاپا ہے۔
چینی شہر Shenzhen میں تیس سے زائد موٹے نوجوانوں کا گروپ جسمانی تربیت میں مصروف ہے۔ یہ ایک وزن کم کرنے والا کیمپ ہے جہاں تربیت کیلئے بہت زیادہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ شدید گرمی میں یہاں جوگنگ، ویٹ لفٹنگ اور جمناسٹک کی مشقیں ایک ماہ تک روزانہ کم از کم پانچ گھنٹے کرنا ہوتی ہے۔ یہاں کھانے کے لئے کوچز کی جانب سے ہی مخصوص غذا دی جاتی ہے۔ اس کیمپ کا نعرہ ہے کہ اچھا کھاﺅ اور پیشہ ور ایتھلیٹس کی طرح تربیت حاصل کرو، اسی طرح جسم سے بہت زیادہ وزن کم ہوگا۔ یہاں تربیت لینے والی ایک لڑکی اس بارے میں بتارہی ہے۔
گرل(female) “جب میں پہلی بار یہاں آئی تو میرا وزن 89 کلوگرام تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ اس کیمپ میں دو ماہ گزار کر دیکھتی ہوں کہ یہ کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اب میں نے مزید دو ماہ کیلئے رجسٹریشن کرالی ہے اور اب تک میرا وزن 16 کلوگرامکم ہوچکا ہے”۔
اس قسم کے اقدامات کی وجہ یہ ہے کہ چین میں حالیہ عرصے کے دوران موٹاپے کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ چین میں جگہ جگہ junk food کے ریسٹورنٹس کھل رہے ہیں۔ان ریسٹورنٹس کے کھانے موٹاپا بڑھاتے ہیں، خصوصاً چین میں جہاں بچے جسمانی ورزش کرنے کے عادی نہیں۔امریکہ کی North Carolina یونیورسٹی کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی نوجوانوں میں ذیابیطس کی شرح امریکہ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔طبی ماہرین نے بھی کہا ہے کہ موٹاپے کے باعث آئندہ برسوں میں امراض قلب کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ جائے گی۔
اب واپس تربیتی کیمپ کی جانب چلتے ہیں، جہاں موجود ایک لڑکی یہاں آنے کی وجہ بتارہی ہے۔
گرل (female) “پندرہ کلوگرام وزن بڑھ جانے کے بعد میں اپنی عمر سے بہت زیادہ بڑی نظر آنے لگی تھی۔ میرا اعتماد ختم ہوگیا تھا اور میرے والدین بھی مرے لئے فکر مند تھے”۔
سوال” آپ کے والدین کیا کہتے تھے؟
گرل(female) “وہ کہتے تھے کہ وزن کم کرو ورنہ صحت خراب ہوگی اور میں خوبصورت بھی نظر نہیں آﺅ گی”۔
دیگر بہت سے ممالک کی طرح یہ چینی منصوبہ سازوں کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح لوگوں کو غیرصحت مند خوراک کھانے سے روک کر غذائیت بخش غذا کی جانب لے کر جائیں۔