Celebrating 100 yrs since Tagore won Nobel Prize – رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور پہلے ایسے غیر پورپی شخص تھے جنھوں نے نوبل انعام اپنے نام کیا، گیتاانجلی ٹیگور کا شاہکار مانا جاتا ہے، اور اسی پر انہیں 1913ءمیں نوبل انعام بھی دیا گیا۔اس بات کو سو برس مکمل ہونے پر سوئیڈن میں شرمیلا ٹیگور کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

کسی بھارتی یا بنگلہ دیشی شخص کے لئے ناممکن ہے کہ وہ رابندر ناتھ کے بغیر دنیا کا تصور کرسکے، دنیا کی چوتھی بڑی زبان یعنی بنگالی میں لکھے گئے ان کے لکھے ہوئے الفاظ اب بھی اس خطے میں جذبات کے اظہار کیلئے ایک بہترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔اپنی شاعری کی بناءپر آج ٹیگور کو گاندھی کی طرح مہاتما کہا جاتا ہے، لیجنڈ بھارتی اداکارہ اور ٹیگور کی نواسی شرمیلا ٹیگور کا بھی یہی خیال ہے۔

شرمیلا” بھارت کے قومی ترانے اور بنگلہ دیش کے قومی ترانے دونوں ٹیگور کے ہی لکھے ہوئے ہیں”۔

ایک صدی قبل رابندر ناتھ ٹیگور کو نوبل انعام ملنے کو سو برس مکمل ہونے کے موقع پر انہیں خصوصی خراج تحسین پیش کرنے کیلئے شرمیلا ٹیگور سوئیڈن آئی ہیں۔

ٹیگور کی نظموں، گیتوں اور مضامین کو روایتی رقاصاﺅں کے ذریعے پیش کیا جارہا ہے۔

شرمیلا”میرے خیال میں ان کے خیالات آج بھی نئے لگتے ہیں، اگر بارش ہورہی ہو اور آپ کا مزاج رومانوی ہورہا ہو تو آپ ٹیگور کی باتیں یاد کرتے ہیں، جب آپ حب الوطنی کا اظہار کرنا چاہتے ہو تو آپ ٹیگور کے الفاظ دوہراتے ہیں، اسی طرح آپ شرارت کرنا چاہتے ہو، بچوں کے بارے میں کوئی بات ہو یا روحانیت کی بات ہو سب میں ٹیگور آپ کو یاد آتا ہے۔ تو ان کی شاعری اور مضامین ہر مزاج اور صورتحال کیلئے موزوں ہے”۔
وہ مزید بتارہی ہیں۔

شرمیلا”اگر آپ کا دل خوشی سے لبریز ہو تو آپ زندہ دلی محسوس کرتے ہیں، ایک سو سال قبل انھوں نے بھی ایسے ہی موسم بہار کی ایک صبح ایسا زندہ دل گیت لکھا تھا”۔

ٹیگور نے زندگی کے مختلف عناصر کو اکھٹا کرنے کا کام بھی کیا۔

شرمیلا”آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح انسان اور فطرت کو باہم جوڑا گیا ہے، میرا مطلب ہے کہ جتنی بار بھی

آپ اسے پڑھے آپ پر نت نئی چیزوں کا انکشاف ہوتا ہے”۔

اس صد سالہ جشن کا انعقاد سوئیڈن میں مقیم بھارتی برادری نے کیا، شنتانو دسگبتا ٹیگور کو ایک لسانی استاد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور یہ ان کے شمالی بھارتی ثقافت کا بھی اہم لنک ہے۔

دسگپتا”خصوصاً بنگالی عوام کیلئے، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ جب ہم کسی سے بات کرتے ہیں، تو ہمیں جذبات کے اظہار یا دانشورانہ خیالات پھیلانے کا طریقہ ٹیگور نے سیکھایا ہے۔ ٹیگور سے پہلے ہمارے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے زیادہ طریقہ نہیں تھے، تو ٹیگور نے بنگالی زبان کیلئے بہت کچھ کیا، جیسے شیکسپئر نے انگریزی زبان کیلئے کیا”۔

ان جذبات کو گیتوں اور رقص کے ذریعے ثقافتی شکل دی گئی، اور نوجوان افراد کو ٹیگور کی ذہانت جاننے کا موقع ملا۔

ایک کے بعد ایک نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ٹیگور کی نظموں پر پرفارم کیا،سنگیتا دت اس پرفارمنس کی ڈائریکٹر ہیں۔

دت”ہر تہذیب، ہر ثقافت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ برادریاں مختلف ہوسکتی ہیں اور لوگ بھی، مگر اس فرق کی تمیز کرنا اور اسے ڈائیلاگ کے ذریعے برقرار رکھنا کافی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ ٹیگور کا یہی سب سے اہم پیغام ہے جو ہم سیکھ سکتے ہیں اور اس کا آج کی دنیا پر اطلاق کرسکیں گے”۔

شام کے اختتام پر شرمیلا ٹیگور نے گیتا انجلی کے آخری الفاظ پڑھ کر سنائے، اس وقت ان کے چہرے پر ایک کشادہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی، جس کا راز جاننے کیلئے ہم نے ان سے رابطہ کیا۔

شرمیلا”اس میں ہم سب کیلئے اتحاد کا پیغام ہے، یہ آپسی تعلق میں فروغ اور خوشی کا سبب ہے”۔