کمبوڈیا کے اسکولوں میں رواں سال موسم گرما کی تعطیلات جلد کردی گئی تھیں تاکہ طالبعلموں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔ کمبوڈیا میں اس وقت ہاتھ، پاﺅں اور منہ کا انتہائی جان لیوا مرض پھیلا ہوا ہے، جس کا بڑا شکار بچے ہی بن رہے ہیں
اس وقت صبح کے آٹھ بج کر تیس منٹ ہوئے ہیں، مگر اسکولوں کے کمرے ابھی سے خالی ہورہے ہیں۔ رواں برس موسم گرما کی تعطیلات معمول کے مقابلے میں دس روز پہلے ہی شروع ہوگئی ہیں۔Sotha Nith تیسری جماعت میں پڑھتا ہے، اس وقت وہ Anuwat primaryschool کے باہر اپنی والدہ کا انتظار کررہا ہے۔
(male) Sotha “مجھے نہیں معلوم کہ ہمیں جلدی گھر کیوں بھیجا جارہا ہے، میری ٹیچر نے مجھے ابھی بتایا کہ موسم گرما کی تعطیلات آج سے ہی شروع ہوگئی ہیں، انھوں نے کہا کہ میدان میں مت کھیلنا اور سورج کے نیچے کھڑے مت ہونا، اور اگر مجھے بخار ہو تو فوراً ادویات لینا۔ انھوں نے ہمیں کلاس میں بتایا کہ ہاتھ، پاﺅں اور منہ کے امراض سے بچنا چاہئے”۔
Sotha کی والدہ Srey Mom اپنے بیٹے کو لینے آگئیں، انہیں معلوم نہیں تھا کہ چھٹیاں اتنی جلد شروع ہوجائیں گی۔
(female) Srey Mom “میں اپنے بچے کے بارے میں فکرمند ہوں، اسے ہاتھ، پاﺅں اور منہ کا مرض ہوسکتا ہے۔ میں اس وائرس کے پھیلنے سے خوفزدہ ہوں”۔
یہ مرض اپریل میں پھیلنا شروع ہوا تھا، اور اب تک 14 صوبوں میں 61 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے، اور یہ سب تین ماہ سے گیارہ سال کی عمر تک کے بچے ہیں۔ 56 بچے اس مرض سے اب تک مرچکے ہیں، اور ان میں سے اکثر کی عمریں تین سال سے کم تھیں۔Ev-71 نامی اس وائرس سے مرض کا آغاز عام طور پر بخار، کھانے سے بیزاری اور گلے میں تکلیف سے ہوا ہے۔اس کے بعد ہاتھوں، پاﺅں اور جسمانی اعضاءپر خارش شروع ہوجاتی ہے، جبکہ منہ سوج جاتا ہے، جس کے بعد چوبیس گھنٹے کے بعد ہلاکت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ وائرس چھینک یا کھانسی وغیرہ سے براہ راست ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ اس چیز کو دیکھتے ہوئے وزارت تعلیم نے تمام اسکول بند کرنے کا حکم دیا۔Mak Van نائب وزیر تعلیم ہیں۔
(male) Mak Van “ہمیں والدین کے ان تحفظات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اس مرض سے بچے متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے وائرس کی روک تھام کیلئے اسکول جلد بند کرنے کا حکم دیا”۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ یہ مرض کمبوڈیا میں آیا ہے، مگر یہ حالیہ برسوں کے دوران اس کا شکار ہونیوالا واحد ملک نہیں۔ گزشتہ برس ویت نام میں 160 افراد جبکہ رواں برس چین میں ڈھائی سو سے زائد افراد اس موذی مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اس مرض کی شناخت میں مدد دی، تاہم اس نے اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلے کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ Sonny Krishnan ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار ہیں۔
(male) Sonny Krishnan “عالمی ادارہ صحت اس مرض کی روک تھام کیلئے اسکولوں کے بند کرنے کی سفارش نہیں کرتا، مگر ہم نے یہ معاملہ متعلقہ ممالک کے حکام پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے بند کرے یا نہیں۔ کیونکہ وہی اس فیصلے کے مجاز ہیں اور ہم ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں”۔
کمبوڈیا کے نرسری اور پرائمری اسکولوں میں بیس لاکھ سے زائد طالبعلم زیرتعلیم ہیں، تعلیمی ماہرین اسکولوں کی بندش کے فیصلے پر فکرمند ہیں، Rong Chun، کمبوڈین ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
(male) Rong Chun “یہ بندش ہمارے بچوں کو متاثر کرے گی، اس کا موجودہ تعلیمی سال مکمل نہیں ہوسکے گا۔ حکومت کے پاس اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے دیگر آپشنز بھی موجود تھے، ہمارے خیال میں طبی شعبے کو اس معاملے کو حل کرنا چاہئے”۔
تاہم پرائمری اسکول ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر Chan Sophea کا کہنا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے۔
(male) Chan Sophea “اسکولوں میں شیڈول کے مطابق تعلیمی سلسلہ مکمل ہوچکا ہے اور امتحانی نتائج کا بھی اعلان ہوچکا ہے۔ اب واحد چیز اسباق پر نظرثانی باقی رہ گئی ہے، اور یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں”۔
اسکول اب معمول کے مطابق اکتوبر میں دوبارہ کھلیں گے، عالمی ادارہ صحت نے مرض پر قابو پانے کیلئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ Sonny Krishnan اس بارے میں بتارہے ہیں۔
(male) Sonny Krishnan “اس مرض کی روک تھام بہت آسان ہے، آپ کو بس یہ یقینی بنانا ہے کہ ہاتھوں کو ٹھیک طرح سے صاف رکھا جائے۔ ہر کام سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کو دھویا جائے، خصوصاً بچوں کو یہ بات ذہن نشین کرادی جائے۔ اگر آپ کے بچے کو بخار ہو تو اسے فوراً قریبی طبی مرکز میں لے کر جائیں”۔
اب واپس Anuwat primary school چلتے ہیں، جہاں 36 سالہ خاتون Khat Oon حکومتی فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کررہی ہیں۔
(female) Khat Oon “یہ فیصلہ کرنا حکومتی استحقاق ہے اور ہم اسے ماننے پر مجبور ہیں، مگر یہ میرے اور میرے بچوں کیلئے بہتر ہوتا کہ اسکولوں کو شیڈول کو مطابق کھلا رکھا جاتا”۔