Cambodia’s Opposition Leader Vows to Bring Democracy – کمبوڈین اپوزیشن لیڈر

کمبوڈین اپوزیشن لیڈرسیم رینسی عام انتخابات کیلئے حال ہی میں وطن واپس لوٹ آئے ہیں، اس سے قبل وہ تین برس قبل ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے پر فرانس منتقل ہوگئے تھے، تاہم گزشتہ دنوں انہیں کمبوڈین شاہ کی جانب سے معافی دیدی گئی، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

چار لاکھ سے زائد افرادسیم رینسی کے استقبال کیلئے پینوم پین انٹرنیشنل ائر پورٹ کے باہر جمع ہیں، ان میں سے ایک 42 سالہ سیم سو فیپ بھی شامل ہیں، جو دارالحکومت سے تیس کلومیٹر دور رہتے ہیں۔

سیم”میں اپنے رہنماءکو دیکھ کر بہت خوش ہوں اور میں اس کی واپسی کی حمایت کرتا ہوں، میرے خیال میں آج کے بعد وہ پرسکون ہوجائیں گے، انہیں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا پورا حق حاصل ہے”۔

سیم رینسی عام انتخابات کیلئے کمبوڈیا واپس آئے ہیں۔

ہزاروں افراد اپوزیشن جماعت کا ترانہ پڑھ رہے ہیں۔

پینسٹھ سالہ کونگ ٹچ کے خیال میں اس مجمع سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ عوام کس حد تک اپوزیشن جماعت کے حامی ہیں۔

کونگ ٹچ”ارگرد موجود اس بڑے ہجوم کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپوزیشن جماعت یعنی نیچنل ریسکیو پارٹی اپنے رہنماءکو عدالت کی جانب سے سزا ملنے کے باوجود انتہائی مقبول ہے۔ میرے خیال میں وہ سیاسی مقدمہ تھا اور میں اپنے رہنماءکو بادشاہ کی جانب سے ملنے والی معافی کی حمایت کرتا ہوں”۔

یہ ہجوم سیم رینسی کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے فتح کے نعرے لگارہا ہے۔

سیم رینسی”میں خلوص دل سے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے ساتھیوں کا استقبال دیکھ کر بہت خوش ہوں، میں اپنے بادشاہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے مجھے معافی دی اور مجھے اپنے وطن واپس آنے کا موقع دیا”۔

کمبوڈین انتخابات میں وزیراعظم ہون سین کی فتح کا امکان زیادہ ظاہر کیا جارہا ہے، وہ گزشتہ تیس برس سے اقتدار پر قابض ہیں،تاہم سیم رینسیکو لگتا ہے کہ اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔

سیم”ہمیں تبدیلی لاتے ہوئے کرپشن کی مکمل صفائی کرنا ہوگی، ہمیں ناانصافی کو انصاف میں تبدیل کرنا ہوگا اور ہمیں غربت کو تبدیل کرکے اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنانا ہوگا”۔

باون سا لہ گھریلو خاتون پوو سکھائی اپوزیشن جماعت کو ووٹ دینے کا وعدہ کررہی ہیں۔

پوو سکھائی”میں انتخابات کے موقع پر انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوں، میں انہیں حکومتی رہنماءکے کردار میں دیکھنا چاہتی ہوں، اور وہی اس وقت ہمیں مشکلات سے نکال سکتے ہیں، میں انہیں اور ان کی جماعت کو ہی ووٹ دوں گی”۔

تاہم سیم رینسی خود انتخاب لڑنے سے قاصر ہیں، کیونکہ انکا نام الیکٹرول رجسٹر سے نکالا جاچکا ہے، تاہم ان کی موجودگی ہی ووٹرز کی حوصلہ افزائی کیلئے بہترین سمجھی جارہی ہے۔

یونیورسٹیوں کے متعدد طلبہ اپوزیشن کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں، چیئن سوویٹ، ایڈہاک ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کے مبصر ہیں۔

چیئن”میرے خیال میں اپوزیشن کے حامیوں کا بڑا گروپ نوجوانوں پر مشتمل ہے، موجودہ سیاسی منظرنامے میں کمبوڈین نیشنل ریسکیو پارٹی ہی حکمران جماعت کی حقیقی و واحد حریف ثابت ہوسکتی ہے، موجودہ انتخابات دونوں جماعتوں کیلئے بہت اہمیت رکھتے ہیں”۔

ایک انٹرویو کے دوران سیم رینسی نے اس اعتمادکا اظہار کیا کہ ان کی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔

سیم”آپ نے دیکھا ہوگا کہ کتنے زیادہ لوگ میرا استقبال کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے، میرے خیال میں ان کی تعداد دس لاکھ سے زائد تھی، مجھے توقع ہے کہ میری جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور میری موجودگی سے کمبوڈیا میں میری جماعت کی مقبولیت ثابت ہوگئی ہے۔ میں یہاں آزادی اور جمہوریت کی جدوجہد کرنے کیلئے آیا ہوں”۔