ملائیشیاءمیں بچوں کو کھڑکیوں سے زندہ نیچے اچھالنے یا کھیتوں میں چھوڑنے کے واقعات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2005ءسے اب تک اس طرح کے پانچ سو سے زائد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
این نامی یہ خاتون ایک شیلٹر میں اپنے نومولود بچے کے ساتھ مقیم ہیں، یہاں ان کی طرح بیس دیگر غیرشادی شدہ مگر حاملہ خواتین بھی رہائش پذیر ہیں۔
این”مجھے ڈر ہے کہ میں اگر میں اپنے شہر پیراک میں گئی تو اپنے خاندان کے لئے شرمندگی کا باعث بنوں گی، یہ گھر ہماری پناہ گا ہے، یہ ہماری بدنامی کو چھپاکر ہمیں تبدیل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے”۔
این اس وقت بیس برس کی تھیں تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں۔
این”میرے اس بچے کا باپ میرا سوتیلا باپ ہے جس نے نوعمری میں میرے ساتھ زیادتی کی”۔
سوال”کیا اس شخص کو آپ کے حاملہ ہونے کا علم ہوا؟
این ” وہ تو یہ سن کر سکتے میں آگیا اور اس نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس کا ذمہ دار ہو مگر وہ اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں”۔
تاہم این جیسی مشکل میں پھنسی بیشتر خواتین اپنے ان بچوں کو کوڑے دانوں، جھاڑیوں، سیوریج سسٹم اور بیت الخلاءوغیرہ میں پھین دیتی ہیں، اس شیلٹر کو چلانے والے ادارے اورفین کیئر ایسی خواتین کو متبادل راستہ فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مئی 2010ءمیں ملائیشیاءمیں پہلی بار ایسے مرکز نے کام شروع کیا جہاں خواتین اپنا نام پوشیدہ رکھ کر ان بچوں کو سپرد کرسکتی ہیں۔ پوآن نورینی ہاشمی اس ادارے کی نائب صدر ہیں۔
ہاشمی”یہاں ایسی نوے فیصد خواتین مسلم ہیں، اور ہمارے مذہب کے تحت شادی سے قبل جسمانی تعلق ممنوع ہے اسی لئے وہ یہاں پناہ لینے آتی ہیں، وہ اپنے والدین اور محبوب وغیرہ کو بھی اس بارے میں نہیں بتاتیں اور کئی بار وہ یہاں سے چلی بھی جاتی ہیں”۔
جب بچہ یہاں پہنچ جاتا ہے تو انتظامی عہدیدار کے کمرے میں ایک الارم بجنے لگتا ہے، اب تک یہاں 71 بچے جمع کرائے جاچکے ہیں، جنھیں گود لینے کے لئے ہزاروں افراد نے درخواستیں دے رکھی ہیں۔
پوآن”ہم یہاں ان بچوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کا کام کررہے ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے مگر اب بھی ہمیں ایسے بچے مل رہے ہیں، تو ہمارا کام اس مسئلے کا حل ہے”۔
ملائیشیاءمیں غیر شادی شدہ ماﺅں کے پاس زیادہ راستے نہیں ہوتے۔
این”مجھے نہیں معلوم کہ میں کب یہاں سے نکل سکوں گی، میں نے تو اب تک اس بارے میں سوچا بھی نہیں”۔