(Cambodian activist monk) کمبوڈین بھکشو
1975ءمیں Khmer Rouge دور میں کمبوڈیا میں زمین کی ملکیت کو غیرقانونی قرار دیدیا گیا تھا، اس قانون کو تیس سال گزر جانے کے باوجود اب بھی بہت کم تعداد میں کمبوڈین شہریوں کو زمینوں کے مالکانہ حقوق حاصل ہیں اور یہاں زمینی تنازعات عام ہیں۔تاہم اب ایک بدھ بھکشو نے اس حوالے سے اپنی جدوجہد کو عالمگیر سطح پر منوالیا ہے
ایک خاندان چولہے کے گرد بیٹھا چاول پکا رہا ہے۔ Pong Nat ہمیں اپنی زندگی میں آنیوالی نئی تبدیلی کے بارے میں بتارہی ہیں۔
Pong کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بہت کم خوراک ہے، جبکہ پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور بیت الخلاءکی سہولت تو خواب ہے، جس کی وجہ سے متعدد بچے ہیضے اور بخار کا شکار ہیں۔ ہر شخص کو اس گرمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہاں سے دارالحکوت کی جانب چلتے ہیں، جہاں لوگ گلیوں میں نکل کر گھروں سے جبری انخلاءکیخلاف احتجاج کررہے ہیں۔ وہاں ہماری ملاقات Tep Vanny سے ہوئی، جو Phnom Penh کے علاقے Boeung Kak Lake کی رہائشی ہیں، حالانکہ وہاں کوئی جھیل نہیں اس لئے یہ نام اب بہت مضحکہ خیز لگتا ہے۔اس علاقے کو 2007ءمیں ایک نجی ادارے کو دیدیا گیا تھا، جس کے بعد سے یہاں موجود متعدد گھر منہدم کئے جاچکے ہیں۔ Tep بتارہی ہیں کہ ان کی برادری ترقیاتی کام کو خوش آمدید کہتی ہے ، مگر اس طرح کی ترقی کو کوئی بھی پسند نہیں کرسکتا۔
(female) Tep” یہاں کے رہائشی رو رہے ہیں، وہ اداس ہیں کیونکہ حکومت نے یہاں کے رہائشیوں کی پروا نہیں کی۔ اسے صرف نجی ادارے کے مفاد کی فکر ہے”۔
Tep کمبوڈیا میں زمینی حقوق کے حوالے سے جاری جدوجہد کی تحریک کی معروف شخصیت ہیں، ہم نے ان سے ایک اور معروف شخصیت ایک بھکشو کے بارے میں پوچھا، جن کا نام Venerable Loun Sovath ہے۔Tep نے ہمیں بتایا کہ جب ان کے علاقے سے لوگوں کا جبری انخلاءشروع ہوا تو Venerable Loun Sovath یہاں لوگوں کی حمایت کیلئے آئے تھے۔
Venerable Loun Sovath سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرنا آسان ہے، انہیں ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث بھی جانا جاتا ہے، اور انہیں ملٹی میڈیا بھکشو بھی کہا جاتا ہے۔ کیمرے اور لیپ ٹاپ کا استعمال کرتے ہوئے Venerable Loun Sovath جبری انخلاءاور زمینوں پر قبضے کیخلاف جدوجہد کررہے ہیں۔
یہ آوازیں موبائل فون سے آرہی ہیں، یہ Venerable Loun Sovath کے آبائی گاﺅں کے کاشتکاروں اور دیگر رہائشیوں کی آوازیں ہیں۔ بائیس مارچ 2009ءمیں فوج اور پولیس نے زبردستی یہاں سے لوگوں کو نکال کر یہ علاقہ ایک پرائیویٹ کمپنی کو دیتے ہوئے گھروں کو گرا دیا۔ جب لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو ان پر فائرنگ کردی گئی، جس سے تین افراد زخمی ہوگئے، جن میں Venerable Loun Sovath کا بھائی اور بھتیجا بھی شامل تھا۔حکومت نے اس کے بعد موقف اختیار کیا تھا کہ یہ فائرنگ اہلکاروں نے اپنے دفاع میں کی تھی، تاہم Venerable Loun Sovath کا موقف کچھ اور ہے۔
“ (male) Venerable Loun Sovath سو سے زائد پولیس اہلکاروں کے پاس اسلحہ تھا، جنھوں نے غیر مسلح کاشتکاروں پر فائرنگ شروع کردی۔ میں جانتا ہوں کہ یہ انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی اور غیر منصفانہ اقدام تھا۔ اس وقت کوئی بھی انصاف کی تلاا_¿ش کیلئے آگے نہیں آیا، جس کے بعد میں نے ان کی مدد کی کوشش کی۔ حالانکہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان کی مدد کیسے کی جائے”۔
انھوں نے واقعے کی فوٹیج حاصل کی اور اسے ایک دستاویزی فلم کی شکل میں ڈھال دیا، جس کی کاپیاں انھوں نے لوگوں میں تقسیم کیں۔ تاہم کمبوڈیا میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنا آسان نہیں۔ پولیس انتظامیہ اکثر انکی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہے۔
Venerable Loun Sovath “(male)میں انہیں کہتا ہوں کہ میں غلط کام نہیں کررہا، اگر میں غلط ہوں تو بتایا جائے کہ میں نے کونسا قانون توڑا ہے؟”
مذہبی حکام کا کہنا ہے کہ Venerable Loun Sovath نے بدھ بھکشوﺅں کے ضابطہ اخلاق کو توڑا ہے، اسی لئے انہیں تمام بدھ مندروں میں جانے سے روک دیا گیا ہے، تاہم یہ سب اقدام بھی انہیں روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔
Venerable Loun Sovath “(male)جتنا بھی وہ مجھے روکنے کی کوشش کریں گے میں اتنا ہی آگے بڑھ کر کام کروں گا۔ زیادہ سے زیادہ لوگ میرے ساتھ چل رہے ہیں اور ہمارے درمیان مضبوط تعلق قائم ہوچکا ہے”۔
Venerable Loun Sovath اپنی جدوجہد کو اب عالمی سطح پر متعارف کرانے والے ہیں، اس مقصد کیلئے وہ کمبوڈیا سے باہر مانٹریال پہنچے ہیں۔
کینیڈا کے اس شہر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا جہاں انھوں نے لوگوں کو کمبوڈیا میں انسانی حقوق کے معاملات سے آگاہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ زمینی ملکیت اور متاثرہ افراد کو عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے۔ Samnang Chuopاس تقریب کے کوآرڈنینٹر ہیں.
Samnang Chuop “(male)میں نے اس سے پہلے اتنی پراثر تقریر کبھی نہیں سنی۔ اور یہ بھکشو حکومت کیخلاف کام نہیں کررہا بلکہ وہ تو اسکی مدد کرنا چاہتا ہے، تاکہ وہ عوام کی خدمت کرسکے”۔
Sarum Om پچیس برسوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں، انکا کہنا ہے کہ اگر لوگ دیکھیں گے کہ کوئی شخص ان کے حقوق کیلئے کھڑا ہوا ہے، تو اس سے ان میں جذبہ پیدا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگ ظلم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
