Cambodia Launches Public Bus Service To Reduce Traffic Congestion کمبوڈین پبلک ٹرانسپورٹ سروس

کمبوڈین دارالحکومت میں اس وقت دس لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں اور تیس ہزار گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں ہیں، اب حکومت نے ٹریفک جام کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے پہلی بار پبلک بس سروس کا منصوبہ شروع کیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

صبح کے چھ بج چکے ہیں اور دس بسیں ایک قطار میں کھڑی مسافروں کی منتظر ہیں۔

یونیورسٹی کی طالبہ لینگ لکانا کا کہنا ہے کہ وہ درسگاہ جانے کیلئے بس کا سفر کرکے خوشی محسوس کرتی ہے۔

لینگ لکانا”یہ بسیں نئی ہیں، میں ان کی آزمائش کرنا چاہتی ہوں، اس سے شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی”۔

تاہم اس کا ساتھی طالبعلم نٹ بن ٹونگ جیی زیادہ خوش نہیں، اس کا کہنا ہے کہ بس اسٹیشن اس کے گھر سے بہت دور ہے۔

نٹ بن ٹونگ جیی “ہمیں پہلی بس کیلئے اسٹیشن آنا پڑے گا، اس کا مطلب ہے کہ ہم یونیورسٹی بروقت پہنچنے کیلئے صبح بہت جلد گھر سے نکلنا پڑے گا”۔

کمبوڈیا میں نئے پبلک بس سسٹم کا ٹرائل ہورہا ہے تاکہ دارالحکومت میں ٹریفک جام کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے، اس سلسلے میں حکومت نے ابتدائی طور پر دس بسیں متعارف کرائی ہیں، جو شہر بھر کے روٹ پر سفر کرتی ہیں، کامیابی کی صورت میں مزید بسیں بھی سڑکوں پر لائی جائیں گی۔35 سینٹ کرائے کیساتھ بس کا سفر موٹرسائیکل ٹیکسی کے مقابلے میں پانچ گنا سستا ہے۔گھریلو خاتون چان منی کا کہنا ہے کہ پبلک بس سروس کے متعدد فوائد ہیں۔

چان منی”بس کا سفر بہت سستا ہے، اگر آپ کسی جگہ جلد پہنچا چاہتے ہیں تو موٹرسائیکل ٹیکسی پر سفر کرسکتے ہیں، مگر وہ محفوظ نہیں، یہی وجہ ہے کہ میں اب بسوں کو ترجیح دیتی ہوں”۔

کمبوڈیا میں ٹریفک حادثات سے گزشتہ سال اٹھارہ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے، اور بیشتر حادثات تیزرفتاری کے باعث پیش آئے۔

پھنم پنھ میں دس سال قبل بھی پبلک بسیں متعارف کرائی گئی تھیں، تاہم یہ سروس عوامی عدم دلچسپی کی بناءپر ختم کردی گئی تھی۔ سٹی ہال کے ترجمان لانگ ڈی مونگ اس بار بسوں کی کامیابی کیلئے پرامید ہیں۔

لانگ ڈی مونگ “لوگ اب نجی ٹرانسپورٹ کا استعمال کم کررہے ہیں، تاکہ وہ ٹریفک حادثات سے بچ سکیں، اب لوگ ہماری پبلک بس سروس کو استعمال کررہے ہیں، میرے خیال میں ایک ماہ کا ٹرائل بہت کامیاب ثابت ہوا ہے”۔

مگر سماجی تجزیہ کار ڈاکٹرکم لے کا کہنا ہے کہ پبلک بسیں ٹریفک جام کے مسئلے کا حل نہیں۔

کم لے”ہمارے شہر کی سڑکیں بنیکاک یا ہو چی منھ سٹی کے مقابلے میں چھوٹی ہیں، ہمیں اپنی شاہراﺅں کو کشادہ کرنا ہوگا، لوگوں کو بھی ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہوگا، اسی طرح ہم ٹریفک حادثات اور دیگر مسائل کو کم کرسکیں گے”۔

شہر میں موجود ایک ہزار روایتی رکشہ ڈرائیورز اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں، اون ویچیئر تین سال سے رکشہ چلارہے ہیں اور وہ روزانہ لگ بھگ دس مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچا کر چھ ڈالرز کمالیتے ہیں۔

اون ویچیئر”جب مستقبل میں پبلک ٹرانسپورٹ زیادہ مقبول ہوجائیں گی، تو ہمارا کام ختم ہوجائے گا، ہماری آمدنی گھٹ جائے گی، ہمیں کوئی اور ملازمت تلاش کرنا پڑے گی تاکہ دیہات میں موجود اپنے خاندانوں کی کفالت کرسکیں”۔

حکومت نے اس نئی ٹرانسپورٹ سروس کیلئے بیس ڈرائیورز کو بھرتی کیا ہے، کھم تھی اس سے پہلے دارالحکومت میں ایک نجی کمپنی کیلئے چھوٹی گاڑی چلاتا تھا، مگر اب وہ روزانہ 36 نشستوں والی بڑی بس سڑک پر دوڑاتا ہے۔

کھم تھی “میں اپنی نئی ملازمت سے بہت خوش ہوں، ہمیں توقع ہے کہ لوگ ہماری بسوں میں سفر کریں گے، کیونکہ ہم اپنے مسافروں کو محفوظ سفر کراتے ہیں، اگر ٹریفک جام یا حادثات ختم ہوجائیں تو لوگ اپنی منزل تک بروقت پہنچ سکیں گے”۔