Burmese Traditional Dance Struggles to Surviveبرمی روایتی رقص

وسطی برمی شہر منڈالے اپنے روایتی رقص کی بدولت معروف ہے، اینیئنٹ پیو نامی یہ رقص پورے ملک میں مشہور ہے، تاہم اب اس کی بقاءکو خطرہ لاحق ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہزاروں افراد مزاح و ڈانس کے امتزاج سے مزئین اے نیئٹ پیو رقص کو دیکھنے کیلئے جمع ہیں، تیس سالہ ٹوئی ٹوئی اس شو کے اسٹارز میں شامل ہیں، ٹوئی ٹوئی کے والدین نہیں چاہتے تھے کہ وہ اس شعبے میں جائیں اور نہ ہی اس نے کوئی باضابطہ تربیت حاصل کی ہے۔
ٹوئی ٹوئی “شروع میں مجھے خواتین ڈانسرز سے میک اپ کا کہنا پڑتا تھا، مگر میری درخواست مسترد کردی جاتی کیونکہ لوگ اپنا میک اپ شیئر کرنا پسندن ہیں کرتے، تو میں نے ایک کامیڈین کا کردار نبھانا شروع کردیا کیونکہ اس کیلئے زیادہ میک اپ کی ضرورت نہیں ہوتی”۔
اب وہ ایک معروف کامیڈین بن چکے ہیں، 38اڑتالیس سالہ گھریلو خاتون ما ایے ایے خاینگ،ٹویے کی پرفارمنس دیکھنے کیلئے بے تاب ہے۔
ما ایے ایے خاینگ”میں اس کی پرفارمنس اس وقت سے دیکھ رہی ہوں جب میں نوجوان تھی، مجھے کامیڈینز کے مذاق بہت پسند ہیں”۔
لوگوں کے ہجوم میں این جی او کی عہدیدار ما نے نیو ون بھی شامل ہیں، وہ یہاں اس مرتے ہوئے فن کی حمایت کیلئے آئی ہیں۔
ما نے نیو ون “ہمیں اپنی روایتی ثقافت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے”۔

برما میں اب بیشتر افراد گھروں سے باہر جانے کی بجائے ٹی وی دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، بیس سالہ دکاندار مویے مویے تھو زار کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھنا بہت آسان ہے۔
مویے مویے تھو زار”مجھے تفریح کے جدید ذرائع زیادہ پسند ہیں کیونکہ انہیں سمجھنا آسان ہوتا ہے”۔
ڈانسرز ٹروپس کو مشکلات کا سامنا ہے، سابق فوجی حکومت کے دور میں انہیں متعدد پابندیوں کا سامنا تھا، معروف کامیڈین یو چٹ سیار کا کہنا ہے کہ گروپس کو ابھی بھی اپنے فن کے اطہار کیلئے حکومتی اجازت کی ضرورت پڑتی ہے۔
یو چٹ سیار”اب ہر چیز تبدیل ہوگئی ہے مگر سرکاری عادات تبدیل نہیں ہوئیں، جب بھی ہم اجازت کیلئے حکومت سے رجوع کرتے ہیں، تو وہ ہمیں فائر ڈیپارٹمنٹ، محکمہ صحت اور پولیس وغیرہ کو یہ اطلاع دینے کا کہتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کرپشن بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، ہمیں سرکاری اہلکاروں کو اتنی رشوت دینا پڑتی ہے جتنا ہم کماتے بھی نہیں”۔
انہیں اپنے فن کے خاتمے کی فکر لاحق ہے۔
یو چٹ سیار”ہم اس دم توڑتے فن کو بچانے کیلئے راہ تلاش کررہے ہیں، ہم نے عوامی سطح پر مقابلے کرائے ہیں، ہمارے نوجوان فنکاروں نے ان مقابلوں میں شرکت کی خواہش ظاہر کی، جو کہ ایک اچھی علامت ہے”۔
نوجوان ڈانسرز جیسے ٹویے ٹویے اس رقص کو زندہ رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔
ٹویے ٹویے”میں جانتا ہوں کہ اس کام کو کرکے میں امیر نہیں بن سکتا، مگر یہ میرا شوق ہے، میں اپنے موت تک اس کام کو جاری رکھوں گا، مجھے توقع ہے کہ لوگ میری کارکردگی کو سراہیں گے”۔