Burmese Political Comedy Continues Telling Jokesبرمی کامیڈین

موسٹا شے برادرز ممکنہ طور پر برما کے سب سے مقبول کامیڈینز ہیں، یہ لوگ اپنے سیاسی مزاح اور حکومت کا مذاق اڑانے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، اور اسی وجہ سے ماضی میں وہ کئی برس جیل بھی کاٹ چکے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

دس کے قریب غیرملکی سیاح موسٹا شے برادرز کی پرفارمنس دیکھ رہے ہیں،لو ماﺅ سابق فوجی آمرنے ون کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

لو ماﺅ”میرے خواب میںنے ون ایک بہت بڑی مچھلی میں تبدیل ہوگیا، اتنی بڑی مچھلی جتنا بڑا گھر ہے، اور ایک برما میں سونامی آیا اور اس سے گھروں کو نقصان پہنچا، اس موقع پر یہ مچھلی سطح پر آئی اور کہا کہ سونامی آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے اب میں اس ملک کو خود نقصان پہنچاﺅں گی”۔

نے ون کے دور میں برما دنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا، جبکہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام تھیں۔

یہ گروپس دس سال سے مزاح، موسیقی اور رقص پر مبنی اپنے فن کا مظاہرہ کررہا ہے، یہ اپنے سیاسی مزاح کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، اور شروع سے ہی وہ حکومت کا مذاق اڑاتے آرہے ہیں۔

لو ماﺅ”شروع میں ہم خوردنی تیل، چاول اور مچھلی وغیرہ کیلئے قطار لگاتے تےھ، حکام سب کچھ لے جاتے تھے اور عوام کیلئے بہت کم حصہ بچتا تھا، ہم اس چیز کا مذاق اڑاتے تھے اور عوام ہماری حمایت کرتے تھے، اس چیز سے ہمیں اپنا شو جاری رکھنے کا حوصلہ ملا”۔

کئی برس تک یہ تین افراد پر مشتمل گروپ تھا، تاہم گزشتہ سال اس گروپ کے سربراہ پا ر پار لے کا انتقال ہوگیا، مگر اب بھی بیشتر سیاح اس ٹولی کی پرفارمنس دیکھنے کیلئے آتی ہے، لو ماﺅاس بارے میں بتارہے ہیں۔

لو ماﺅ”میں شروع سے ہی کامیڈین بننا چاہتا تھا، ہمارے خاندان کے بیشتر افراد کامیڈین ہیں اور میرے والد نے اس گروپ کی بنیاد رکھی تھی”۔

1995ءمیں اس گروپ نے اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی کے گھر میں پرفارمنس کا مظاہرہ کیا، تو انہیں جیل جانا پڑا۔

لو ماﺅ”اس کے بعد ہمارا گروپ عوام کی نظروں سے غائب ہوگیا، ہم نے اپنی بقاءکیلئے اپنے آلات فروخت کردیئے، 2001ءمیں ہمیں جیل سے رہائی ملی اور اس کے بعد سے ہم گھر میں ہی اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں، ہمیں اس کے بعد عوامی سطح پر پرفارمنس کی اجازت نہیں ملی”۔

برما میں فوجی دور میں اپوزیشن قیادت، صحافی اور یہاں تک کہ کامیڈینز وغیرہ کو جیل بھیج دیا گیا تھا، مگر 2010ءمیں تھین سین کے اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا، سابق سیاسی قیدی کیاﺅ زایا کا کہنا ہے کہ یہ کامیڈین گروپس متعدد افراد کا شعور اجاگر کررہے ہیں۔

کیاﺅ زایا “عوام کی معلومات کا انحصار ان کامیڈین کی پرفارمنس پر ہوتا ہے، اور اب بھی موسٹشے برادرز اہم کردار ادا کررہے ہیں، خصوصاً دیہی افراد کیلئے جنھیں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوتی”۔

لو ماﺅ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے لوگوں کو سیاست کی تعلیم دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

لو ماﺅ”یہ ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے، ہم کامیڈین کی ذمہ داری ہے کہ اہم مسائل کو اجاگر کریں، اور اعلیٰ حکام کو اپنی پرفارمنس کے ذریعے عوامی رائے سے آگاہ کریں”۔