برما میں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کے انعقاد کے حوالے سے مقامی افراد کی جانب سے انہیں زمینوں سے نکالے جانے کے الزامات سامنے آرہے ہیں، برمی تاریخ کے اس سب سے بڑے سیاحتی ایونٹ کے موقع پر متعدد ناریل کاشت کرنے والے کاشتکار اپنے فارمز سے محروم ہوچکے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یو تن او ایک ٹری شا ڈرائیورہیں، بیس سال قبل انکا گھر اور روزگار اس وقت چھن گیا جب ان کی زمین کو فوجی حکومت نے قبضے میں لے لیا۔
یو تن او “ان گلیوں سے یہاں تک میری زمینیں پھیلی ہوئی تھیں”۔
یہ زمین ایک قصبے چاونگ تھا میں ہوٹل کی تعمیر کے لئے قبضے میں لی گئی تھی اور یو تن او کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔
یو تن او “یہ پورا علاقہ سولہ ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا”۔
یو تن او کو ناریل کے فی درخت کے حساب سے ایک ڈالر بھی نہیں دیا گیا اور زمین کی قیمت کے نام پر تو ایک ٹکا بھی ادا نہیں کیا گیا۔ اب ان کی زمین پر ایک فائیو اسٹار ہوٹل کھڑا ہے، جو برما کے امیرترین کاروباری افراد میں شامل ذاوکی ملکیت ہے، جو سابق حکومت سے اپنے تعلقات کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔دو دہائی بعد یو تن او مشکل حالات سے دوچار ہیں۔
یو تن او “ماضی میں ہم امیر تھے، ہمیں اپنے فارمز سے چاول اور باغات سے ناریل حاصل ہوتے تھے اور ہماری آمدنی کا سارا انحصار ان کی فروخت پر تھا، اب ہمارے پاس کوئی ملازمت نہیں اور میں سڑکوں پر ٹریشاچلانے پر مجبور ہوں”۔
یو تن او ان سینکڑوں افراد میں سے ایک ہیں، جنھیں برما کے مغربی دریائی کنارے میں واقع چاونگ تھا اور نگوی سا ونگ میں تفریحی مقامات کی تیاری کے باعث اپنی زمینوں سے محروم ہونا پڑا، اب برما کے اسی علاقے میں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کا انعقاد ہورہا ہے اور ایک بار پھر یہ مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔موئی تھٹ ایک کاشتکار ہیں۔
موئی تھنٹ”سولہ جون 2011ءکو وزیر کھیل یو ون مینٹ نے بتایا کہ برما 2013ءمیں ان گیمز کی میزبانی کرے گا، اس سلسلے میں حکومت ہماری زمین کو کشتی رانی کے وینیو کے طور پر استعمال کرے گی، ہم ناریل کے فارمز کو استعمال کریں گے اور متعلقہ خاندانوں کی مالی معاونت بھی کریں گے، یہ انکا کہنا تھا”۔
مگر مالی معاونت کا یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا، موئی تھینٹ اس علاقے کے ان چار خاندانوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے زمین حکومتی تحویل میں جانے کے بعد شکایت دائر کی ہے، ان کے وکلاءکا کہنا ہے کہ زمینوں پر قبضہ غیرقانونی ہے۔ پو پھیو ان کاشتکاروں کے وکیل ہیں۔
پو پھیو”ان مقدمات کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ زمینوں پر یہ قبضہ عوام یا حکومت دونوں کے مفاد کی بجائے کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے مفاد میں ہے۔ زمینوں کو تحویل میں لئے جانے کے قوانین کے تحت اس طرح کے قبضوں کیلئے مارکیٹ ویلیو کے مطابق زرتلافی ادا کرنا لازمی ہے، مگر ان کمپنیوں نے معاوضے کے بغیر ہی زمینوں پر قبضہ کرلیا، ان متاثرین کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دیا جانا چاہئے، تاہم انہیں اس کی بھی اجازت نہیں۔تو زمینوں کو تحویل میں لئے جانے کا عمل مکمل طور پر غیرقانونی ہے”۔
موئی تھینٹکی زمین پر پہلے 1997ءمیں بھی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا، مگر تیرہ برس تک وہاں کوئی ترقیاتی کام نہ ہوا، جس پر وہ اپنے فارم پر واپس آگئے، انکا کہنا ہے کہ اس بار بھی انہیں کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔
موئی تھینٹ”ہمیں حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ نہیں ملا، اسی لئے ہم نے گیمز کے لئے مختص علاقے کے گرد باڑیں لگادی ہیں، اس اقدام پر ایونٹ انتظامیہ نے ہمارے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے، درحقیقت یہ ہماری زمین ہے اور ہم نے کسی اور کی زمین میں مداخلت نہیں کی ہے”۔
برما میں حالیہ جمہوری اصلاحت کے بعد لوگوں کو انتظامی معاملات کو چیلنج کرنے کی کافی آزادی مل گئی ہے، مگر وکیل پو پھیو کا کہنا ہے کہ ابھی بھی زمینی حقائق زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔
پو پھیو”انہیں دعویٰ کرنے کی زیادہ آزادی تو مل گئی ہے مگر ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا”۔
تو ان زمینوں پر مقدمہ آگے بڑھ رہا ہے تاہم اسکے ساتھ ساتھ یہ دیہاتی اپنے مستقبل کے بارے میں بھی فکرمند ہیں۔ یو تن او بوڑھے ہوچکے ہیں، مگر اپنی زمین کے زرتلافی کے بغیر انہیں ٹری شا چلا کر اپنا پیٹ بھرنا پڑے گا۔
ٹری شا”جب ہم اپنی زمینوں پر تھے تو اگرچہ ہم بہت امیر تو نہیں تھے مگر ہمیں روزانہ پیٹ بھرنے کے لئے فکرمند نہیں ہونا پڑتا تھا، اب ہمارے پاس کوئی جائیداد نہیں اور ہمیں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اب ہمیں روزانہ کی بنیاد پر کام کرنا پڑتا ہے”۔