بیس سال تک برما سے باہر رہ کر کام کرنے والے آزاد ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینیل ڈیموکریٹک وائس آف برما نے اب برما کے اندر بھی اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ ڈی وی بی کے نام سے معروف ڈیموکریٹک وائس آف برما برسوں تک ناروے سے سیٹلائٹ کے ذریعے نشریات نشر کرتا رہا، تاہم برما میں پریس پر سختیاں نرم ہونے کے بعد اب اس چینیل کی انتظامیہ نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کو اونگ نے فوجی حکومت کیخلاف بھکشوﺅں کی تحریک کے زمانے سے ڈیموکریٹک وائس آف برما یا ڈی وی بی کو ویڈیوز بھیجنا شروع کی تھیں۔
کو اونگ”ستمبر 2007ءکے زرد انقلاب کے دوران میں تمام مظاہرین کے ساتھ تھا، میں گلیوں میں موجود ان تمام نوجوانوں کے ساتھ تھا، اس دوران مجھ پر فوج نے گولی بھی ماری، فوجیوں نے دیگر افراد پر فائرنگ کی، حالانکہ میرے پاس انہیں مارنے کے لئے ایک ربڑ بینڈ تک نہیں تھا، مگر اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ایک کیمرے کے ذریعے بھی اس فائرنگ کا جواب دیا جاسکتا ہے”۔
یہ ایک خطرناک فیصلہ تھا اور انہیں اپنے کام کی وجہ سے تین برس جیل میں بھی گزارنے پڑے۔
اونگ” 2008ءمیں مجھے نئے آئین کیلئے ہونیوالے ریفرنڈم کے دوران پولنگ اسٹیشنز سے معلومات جمع کرنے کا کام دیا گیا تھا، اس کام کے دوران مجھے پولیس نے پکڑلیا اور پھر مجھ سے تفتیش کرنے کے بعد جیل میں ڈال دیا”۔
سوال”اس وقت آپ کا کیا حال تھا؟
اونگ”میں اس وقت بہت ڈرا ہوا اور دہشت زدہ تھا”۔
وی جے جیسے کو اونگ اور ان کے ساتھی اے من ہیتک تنہا کام کرتے ہیں۔
اے من”اس وقت ہم ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے، کیونکہ اگر ایک دوسرے کے واقف ہوتے اورو پم پکڑے جاتے، پولیس ہمیں تشدد کا نشانہ بناکر دیگر رپورٹرز کے بارے میں معلومات حاصل کرکے انہیں بھی پکڑ لیتی۔ مگر اب حالات زیادہ بہتر اور کام کرنا آسان ہے۔ ہم بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں، ایک دوسرے کے بارے میں جان سکتے ہیں، اب ہمارے لئے ملکر کام کرنا آسان ہوگیا ہے”۔
اب یہ لوگ برما کے اقتصادی دارالحکومت ینگون میں ڈی وی بی کے نئے دفتر میں اکھٹے کام کررہے ہیں۔ یہ ادارہ بیس سال بعد ناروے میں قائم اپنے دفاتر بند کررہا ہے۔کھن ماو ونگ ڈی وی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔
کھن”برما میں میڈیا کے حوالے سے آنیوالی تبدیلیوں کے بعد ہم نے اپنے ملک واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم وہاں ملک بھر میں اپنے میڈیا آپریشنز کا نظام قائم کریں گے”۔
کھن ماو ونگ نے حال ہی میں 1988ءمیں خودساختہ جلاوطنی کے بعد پہلی بار اپنے آبائی گاﺅں کا دورہ کیا تھا، جلاوطنی سے پہلے وہ ناکام جمہوری تحریک کے بانی رہے تھے، جس کے دوران ان کے سینکڑوں حامیوں کو جیل میں ڈال گیا، جبکہ متعدد ہلاک اور جلاوطنی پر مجبور ہوگئے۔ مگر حال ہی میں انھوں نے موجودہ صدر تھین سین کا انٹرویو کیا اور ایسے سوالات پوچھے جن کے بارے میں کوئی ایک سال قبل سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
کھن”ہم نے سنا ہے کہ آپ ملک میں آزاد میڈیا پر زور دینا شروع کیا ہے، اب تک میڈیا اصلاحات کا عمل کس حد تک آگے بڑھ چکا ہے؟ اور اس شعبے کا مستقبل کیا نظر آتا ہے؟”
تھین سین”ہم نے ماضی کے برعکس میڈیا کو کافی آزادی ہے، اب یہاں پابندیاں نہیں رہیں، ہم نے ایسے ادارے تشکیل دیئے جو میڈیا کے کام پر نظر رکھتی ہے، دو باتیں اہم ہے، ایک یہ کہ میڈیا ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور دوسری جمہوری اصلاحات، میڈیا کو چاہئے کہ وہ حکومت کے کمزور پہلوﺅں کی نشاندہی کرے”۔
دیگر متعدد افراد کی طرح کھن کیلئے ان تبدیلیوں پر یقین کرنا آسان نہیں۔
کھن”ہمیں تو لگتا ہے کہ جیسے خواب تعبیر پاگیا ہے، ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم اتنے مختصر وقت میں ایک دفتر بھی کھول سکیں گے، مگر اچانک ہی حکومتی تبدیلیوں کے باعث یہاں متعدد مقامی اور غیرملکی میڈیا کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت مل گئی، تو ہم نے بھی واپس آکر جولائی 2012ءمیں اپنا دفتر قائم کیا، وہ ایک پرجوش لمحہ تھا”۔
ڈی وی بی کو اس وقت یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ کس طرح اپنے خفیہ وڈیو صحافیوں کو ایک پیشہ ور ٹیم میں تبدیل کرتا ہے، جبکہ حالیہ مثبت تبدیلیوں کے حوالے سے بھی غیریقینی صورتحال موجود ہے۔
کھن”یہ لوگ ملک میں سنجیدگی سے تبدیلیاں لارہے ہیں مگر ابھی ہم ان تبدیلیوں کو مثالی نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اب بھی کسی بھی وقت ان تبدیلیوں کی واپسی کا خطرہ موجود ہے۔ تبدیلیوں پر باہر تنقید کے باوجود آخر ہم اس کا حصہ کیوں نہیں بنے، اس طرح ہی ہم ان تبدیلیوں کو مستند بناسکتے ہیں”۔
صحافی اے من ہیتک کا کہنا ہے کہ ابھی بھی ہمیں حکام اور پولیس کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا ہے، تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔
اے من”ماضی میں جب ہمیں آزادی حاصل نہیں تھی تو ہم شہروں کی بجائے دیہی علاقوں سے زیادہ خبریں حاصل کرتے تھے، ہمیں حکام تک رسائی حاصل نہیں تھی یہی وجہ تھی کہ ہم خبروں کے حوالے سے ان سے سوالات نہیں کرپاتے تھے اور مکمل طور پر شہریوں کی معلومات پر اسے تیار کرتے تھے، تاہم اب ہمیں دونوں اطرف کی معلومات حاصل ہوتی ہے”۔
ڈی وی بی نے حال ہی میں ایک فوٹیج نشر کی، جس میں پولیس اہلکار دو خواتین پر تشدد کررہے تھے، یہ خواتین یراوادے ڈیلٹا ریجن میں زمینوں پر قبضے کیخلاف پرامن احتجاج کررہی تھی، جس دوران پولیس سے تصادم میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ستر افراد زخمی ہوگئے۔ سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ مقامی افراد نے مذاکرات سے انکار کرکے پولیس پر پہلے حملہ کیا، مگر ڈی وی بی نے مقامی افراد جیسے Aung Latt کا بیان نشر کیا جس سے ایک مختلف کہانی سامنے آئی۔
اونگ لت”ہم وہاں کھڑے تھے کہ وہ آئے اور ہم پر دھاوا بول دیا، انھوں نے سامنے کھڑی تین خواتین کو مارنا شروع کردیا، جس کے بعد ہماری برداشت ختم ہوگئی اور ہم اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوگئے”۔
سوال”کیا آپ بھی زخمی ہوئے؟
اونگ”مجھے پولیس نے ڈنڈوں سے مارا اور مجھے کافی زخم آئے”۔