Burma’s Former Child Soldiers Struggle to Rebuild their Lives – برمی نوعمر فوجی

گزشتہ ماہ برمی فوج نے 68 کم عمر فوجیوں کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا، 2012ءسے اب تک 176 بچوں کو فوج سے اس طرح نکالا جاچکا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اے من کو اس وقت فوج بھی بھرتی کیا گیا جب اس کی عمر صرف سولہ سال تھی اور وہ امتحانات میں ناکام ہوگیا تھا۔

اے من”میرے جیسے متعدد نوعمر لڑکوں کو اس طرح بھرتی کی جاتا ہے، ہم جیسے بچے زہنی اور جسمانی طور پر اکثر اس کام کے اہل نہیں ہوتے، مگر پھر بھی آج فوج میں ہم جیسے فوجی دیکھ سکتے ہیں”۔

ایک سال تک فوج میں کام کرنے کے بعد وہ فرار ہوگیا، اور اب وہ رضاکارانہ طور پر ایک خیراتی اسکول میں انگریزی پڑھا رہا ہے۔

اے من”بظاہر اس وقت فوج ہم جیسے فوجی بچوں کو سہولیات فراہم کررہی ہے، مگر ہم نے ایسا بہت کم ہوتے دیکھا ہے، کیونکہ اکثر معذور ہوکر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں، جہاں ان کی زندگی فلاحی اداروں کی امداد سے ہی گزرتی ہے، جبکہ فوج انہیں بھول جاتی ہے”۔

سوئی تھہا ون بھی ایسا ہی ایک نوعمر سابق فوجی ہے، عالمی ادارہ محنت نے اسے پھلوں کی دکان چلانے کیلئے رقم دی ہے، مگر اسے حکومت یا فوج کی جانب سے کسی قسم کی معاونت نہیں ملی۔

سوئی تھہا”متعدد فوجیوں کی عمریں تو مجھ سے بھی کم ہیں، یعنی پندرہ سے سولہ سال اور وہ ابھی بھی فوج میں موجود ہیں، اس نوعمری کے باوجود ان فوجیوں کو بہت بھاری بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، انہیں متعدد مشکلات اور سختیوں کا سامان ہوتا ہے”۔

یو با کا بیٹا سولہ سال کی عمر میں فوج میں کام کرتے ہوئے ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کی زد میں آگیا تھا۔

یو با”اس کی ٹانگ کٹ گئی اور وہ بری طرح زخمی ہوگیا، مگر اسے صرف چینی ادویات دی گئیں اور کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں دیا جاتا تھا، اس کی حالت اس وقت بہتر ہوئی جب وہ عالمی ریڈ کراس سوسائٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا، میری خواہش ہے کہ حکومت اسے بہتر ملازمت کے مواقع فراہم کرے یا عالمی ادارہ محنت اس کی بحالی نو میں معاونت کرے”۔

سماجی رضاکار چاہتے ہیں کہ حکومت ایسے نوعمر سابق فوجیوں کی ذمہ داریاں اٹھائیں اور انکی بحالی نو پر توجہ دے، تھیٹ وای عالمی ادارہ محنت کے عہدیدار ہیں۔

تھیٹ وای”یہ ہمارا سفارشات پر مبنی مراسلہ ہے، جس میں ایسے سابق نوعمر فوجیوں کی بحالی نو کے حوالے سے تجاویز دی گئی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان بچوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف سے نکلنے کیلئے معاونت فراہم کی جائے”۔

اے من نے گھر واپس آکر تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے مگر اسے اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

اے من”فوج کی زندگی والدین کے ساتھ رہنے کے مقابلے میں بالکل مختلف تھی، اور اب ہمیں فوجیوں کو ملنے والے کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں”۔