Burma’s First Human Rights Film Festival – برمی فلم فیسٹیول

برما میں حال ہی میں پہلی بار ہیومین رائٹس فلم فیسٹیول کا انعقاد ہوا، ایک ایسا ملک جو طویل عرصے تک باہری دنیا کیلئے بند رہا ہو، اس طرح کی تقریب تیزی سے آنیوالی تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

دیوار ان الفاظ سے مزئین ہے ” ہر انسان آزاد اور مساوی حیثیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی برما کے پہلے ہیومین رائٹس فلم فیسیٹول کا آغاز ہوگیا۔

اس میلے میں داخلے مفت تھا اور تین روزہ فیسٹیول کا ہر شو فل ثابت ہوا۔ اس فیسٹیول میں پچاس سے زائد غیرملکی اور مقامی فلمیں دکھائی گئیں، جو سب کی سب انسانی حقوق کے معاملات پر گھومتی تھیں۔ ماضی میں برمامیں انسانی حقوق کے معاملے پر بولنے کا مطلب طویل عرصے کی قید ہوتی تھی، اکیس سالہ اونگ زاموئی نے اپنی فلم سٹل ان دی ڈارک ،آ پیس آف پرفیکشن میں کمیونیکشن کے بنیادی حقوق پر بات کی ہے۔

اونگ زا”فون لوگوں کے درمیان تعلق کی بنیادی قسم ہے، ہمیں سستے سم کارڈز چاہئے، تاکہ ہر شخص انہیں خریدنے کے قابل ہوسکے”۔

من ہوٹن کوکو گئیی اس فیسٹیول کے ڈائریکٹر ہیں۔

کوکو گیی”ایک فنکار کی حیثیت سے میں کسی بھی قسم کا فن صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، میں اس عبوری مدت میں اپنے ملک کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، انسانی حقوق سے متعلق فلموں کو دکھانا اہم نہیں بلکہ زیادہ اہمیت سوالات اور جوابات کے سیشن کی ہے۔ عام افراد یہاں آکر فلمیں دیکھ سکتے ہیں اور اس پر بات کرسکتے ہیں۔ اس طرح عام افراد کو تفریح کے ساتھ انسانی حقوق کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے”۔

انیس سالہ سو لات نند تعلیم کے حصول کیلئے جلد بیرون ملک جانے والی ہیں، وہ ان فلموں سے کافی متاثر ہوئی ہیں۔

سن لات”پہلے مجھے انسانی حقوق کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، مگر اب مجھے لگ رہا ہے کہ مجھے اس بارے میں تھوڑا بہت علم ہے اور اب میں اس بارے میں مزید جاننا چاہتی ہوں۔ ہم اس سے پہلے کبھی ایسا موقع نہیںملا، اب ہر چیز کی اجازت ہے اور آزادی سے بول سکتے ہیں اور سب کچھ دیکھ سکتے ہیں”۔

سروائیول کو افتتاحی فلم کے طور پر منتخب کیا گیا تھا، یہ فلم ایک سیاسی قیدیسن زا ہتھوے کی زندگی پر تھی، جنھیں بارہ سال قید کے بعد رہائی ملی۔ انہیں گزشتہ برس صدر تھین سین نے سینکڑوں دیگر قیدیوں کے ہمراہ رہا کیا تھا،برمی صدر کی اصلاحات کو بہت زیادہ سراہا جارہا ہے مگر سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی سینکڑوں افراد جیلوں میں موجود ہیں۔ 29 سالہ یہ نن تھک فلم ڈائریکٹر ہیں۔

یہی نن”ماضی میں، میں اس طرح کی دستاویزی فلم بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، مگر اب میں ایسا کرنے کیلئے آزاد ہوں، تاہم اب بھی مجھے ڈر ہے کہ سرکاری افسران آکر مجھے گرفتار نہ کرلیں۔ کیا ہمارے ملک میں تبدیلیاں آرہی ہیں؟ جی ہاں ایسا ہورہا ہے مگر ابھی بھی سب کچھ تبدیل نہیں ہوا”۔

ان کی فلم کو فیسٹیول کا سب سے بڑا اعزازاونگ سن سی کی ایوارڈدیا گیا، برمی سیاست کی یہ دیوقامت رہنماءخود بھی فیسٹیول جیوری میں شامل تھیں۔

سو کیی”اگر ہمارے نوجوان ٹھیک ہوں گے تو ہمارے ملک کا مستقبل بھی تابناک ہوگا، فلم فیسٹیول میں پیش کئے گئے تخلیقی اور ذہانت کے مظاہروں سے ہم اس بات کو یقینی بناسکتے ہیں کہ ہر شخص کو انسانی حقوق حاصل ہوں گے، اس طرح ہمارا ملک بہت مختصر عرصے میں ڈرامائی ترقی کرسکے گا”۔

ایوارڈ حاصل کرنے والے ڈائریکٹر ییی نن تھک کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ لوگوں کی آواز کو سنا جائے۔

نین”میں اپنا یہ ایوارڈ ان لوگوں کو پیش کرتا ہوں جو جیلوں میں قید ہیں، مجھے یہ ایوارڈ مل چکا ہے اور اس سے مجھے اپنا کیرئیر بہتر بنانے میں مدد ملے گی”۔