Afghan government threatens to boycott Taliban talks – افغان حکومت کی مذاکرات کی بائیکاٹ کی دھمکی

امن امکان کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب افغان حکومت نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مجوزہ بات چیت کے بائیکاٹ کی دھمکی دی، صدر حامد کرزئی شروع میں تو کافی پرجوش نظر آتے تھے مگر اب انکا موقف ہے کہ انکی حکومت ایسے کسی مذاکرات میں شریک نہیں ہوگی جو افغان قیادت کے تحت نہیں ہوں گے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

افغان دارالحکومت کابل میں موت و تباہی کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور عوام اس سے تنگ اور نجات چاہتے ہیں۔

افغان شخص”ہمارے ملک میں لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں، ہمیں افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی راستہ ڈھونڈنا ہوگا، ہم امن کیلئے ہر قسم کی تحریک کا خیرمقدم کریں گے، چاہے وہ قطر میں ہو یا کسی اور جگہ، اللہ افغانستان میں امن اور استحکام لانے کیلئے ہماری مدد کرے”۔

طالبان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس تنازعے کا سیاسی حل نکالنے پر غور کررہے ہیں، تاہم کچھ افراد کے خیال میں عسکریت پسند اس چیز کو تشدد پھیلانے کی پالیسی کو بڑھانے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

افغان شخص”ہم قطر میں دفتر کھلنے کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں، کیونکہ ہم ماضی میں بھی طالبان کو آزما چکے ہیں۔ وہ امن کے خواہشمند نہیں، ہم دس بار امن کے قیام کا مطالبہ کرچکے ہیں، مگر ان کا ردعمل عوامی خواہشات کے برعکس ہی سامنے آیا ہے”۔

تاہم طالبان کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کھولے جانے والا نیا دفتر اس بات کا اشارہ ہے کہ کچھ عسکریت پسند مصالحت کے خواہشمند ہیں، ابتداءمیں صدر حامد کرزئی کافی پرجوش نظر آئے اور اعلان کیا کہ ان کے عہدیداران دوحہ میں طالبان رہنماﺅں سے ملاقات کریں گے، مگر جب امریکہ نے بھی اس ملاقات میں شرکت کا اعلان کیا تو کرزئی نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی دیدی۔ وہ چاہتے ہیں کہ طالبان امریکہ کی بجائے صرف ان کے حکام سے بات چیت کریں۔ہیدر بر ہیومین رائٹس واچ سے تعلق رکھنے والی ایک افغان تجزیہ کار ہیں۔

ہیدر”یہ واضح ہے کہ امریکہ کی جانب سے طالبان کیساتھ بات چیت کی کوشش سے کرزئی کو سائیڈلائن پر کئے جانے کا احساس ہورہا ہے”۔

اس وقت صدر کرزئی نے امریکہ سے 2014ءمیں ناٹو انخلاءکے بعد امریکی فوجیوں کے روکنے کے حوالے سے مذاکرات بھی معطل کردیئے ہیں،ہیدر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

بر”ایسا نظر نہیں آتا کہ امریکہ قطر میں طالبان کی حاضری کو انہیں قانونی بنانے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اب افغانستان سے متعلق امریکہ کے دو تعلق ہوچکے ہیں، ایک طالبان سے اور دوسرا کرزئی حکومت سے، اور اس چیز نے کرزئی کو خوفزدہ کردیا ہے”۔