Burma’s First Concert by the Blind – برمی نابینا افراد کا بینڈ

برما میں گزشتہ دنوں پہلی بار نابینا موسیقاروں کے کنسرٹ کا انعقاد ہوا، متعدد افراد نے اسے ایک تاریخ ساز ایونٹ قرار دیا، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ینگون کے نواح میں واقع کندیو گئی پبلک پارک میں لگائے گئے اسٹیج پر گیٹارسٹ برینگ اونگ موجود ہیں، ان کے ہمراہ ایک کی بورڈ پلئیر اور ایک ڈرمر بھی ہے، یہ سب نابینا ہیں۔

یہ نابینا افراد برما کی معروف ترین گلوکارہ ایرین کے ہمراہ پرفارم کررہے ہیں۔

ہجوم پر دیوانگی سی طاری تھی، ان میں بیس سالہ کھن سو مار بھی شامل ہے، جو پیدائشی طور پر نابینا ہے۔

کھن سو مار”میں نے اس شو کی ٹکٹ ایڈوانس میں خرید لی تھی، ہم نے ایسا شو پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ نابینا افراد بھی معروف گلوکاروں کے ہمراہ اسٹیج پر فارم کررہے ہوں، میں بہت پرجوش ہوں اور میری دل کی دھڑکنیں یہ سوچ کر بہت تیز ہوچکی ہیں”۔

بلائنڈ ریئیلیٹی برما کا واحد میوزک بینڈ ہے جو تمام نابینا فنکاروں پر مشتمل ہے، بینڈ کے چالیس سالہ لیڈ گٹارسٹ، برینگ اونگ کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اسی دن کا انتظار کررہے تھے۔

برینگ اونگ”یہ ہمارے بینڈ کیلئے پرفارم کرنے کا خاص موقع ہے، جس پر ہم بہت خوش ہے، برما میں معذور افراد بھی باصلاحیت ہوتے ہیں، تاہم متعدد افراد ہمیں بس نابینا دیکھ کر ناکارہ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں، متعدد افراد ہماری موسیقی کی صلاحیتوں سے واقف نہیں، آج ہم ان لوگوں کے سامنے اپنی صلاحیت ثابت کرنے جارہے ہیں”۔

اس بینڈ کی تشکیل کو پندرہ سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے، مگر یہ پہلی بار ہے کہ وہ معروف فنکاروں کے ہمراہ عوام کے سامنے پرفارم کررہے ہیں۔

یہ بینڈ نابینا افراد کیلئے قائم پہلی این جی او میانمار کرسچن فالوشپ کا حصہ ہے، یہ این جی او نابینا بچوں کیلئے ایک اسکول چلاتی ہے جہاں انہیں مختلف تیکنیکی کورس بھی کرائے جاتے ہیں، برما میں معذور افراد کو اکثر امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے اور ان کیلئے ملازمتوں کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں، چالیس سالہ کین سی دس سال کی عمر سے نابینا افراد کے اسکول میں موجود ہیں، یہی انھوں نے لکھنا پڑھنا اور موسیقی وغیرہ کو سیکھا۔ اب وہ موسیقی کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ بینڈ کیلئے کی بورڈ پر پرفارم کرتے ہیں۔

کین سی”لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ میں نابینا ہوں، وہ مجھ پر فقرے کستے ہیں، جس کی وجہ سے میں ان سے دور بھاگنے لگا تھا، میں کبھی عام اسکول جانے کی ہمت نہیں کرسکا، مگر جب میں این جی او کے اسکول آیا تو میں نے وہاں اپنے جیسے متعدد معذور افراد کو دیکھا، جس سے میرا اعتماد واپس آیا اور میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے لگا”۔

برینگ اونگ کو رواں برس جنوری میں ایک گیت کمپوز کرنے پر اسیان پارا گیمز میں پہلا انعام بھی ملا تھا۔

برینگ اونگ”موسیقی میرا شوق ہے، تو جب میں ماضی میں لوگوں کو گیتار بجاتے ہوئے سنتا تھا تو میں بھی اس کی کوشش کرتا تھا، بنیائی سے محروم ہونے کے باعث میں یہ تو نہیں دیکھ سکتا کہ لوگ اسے کس طرح بجاتے تھے، اس لئے میں اس کی تاروں کو چھیڑتا تھا، میرے دوستوں نے مجھے بنیادی تیکنیک سیکھنے میں مدد دی، اور اب میں اس کا ماہر بن چکا ہوں”۔

یہ بینڈ اس وقت برما کی معروف ترین گلوکارہ ایرن کے ہمراہ اسٹیج پر موجود ہے۔

ایرن”میں اپنے کیرئیر کے آغاز سے اس بینڈ سے واقف ہوں، میں ان کی صلاحیت کی طویل عرصے سے معترف ہوں، اگرچہ یہ لوگ نابینا ہیں، مگر یہ موسیقی کی بہترین صلاحیتیں رکھتے ہیں، ہر شخص میں کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اصل فرق یہ ہے کہ کیا وہ اپنی کمزوری پر قابو پانے میں کامیاب ہوپاتے ہیں یا نہیں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *