Burma Aims to Whitewash Rivals at Wushuبرما ووشو ایونٹ میں وائٹ واش کا خواہشمند

برما میں منعقد ہونے والے ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کے لیے مختلف ممالک کی ٹیموں نے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں، میزبان ملک کو توقع ہے کہ وہ تاریخی چینی مارشل آرٹ وشو کے ایونٹ میں تمام طلائی تمغے جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

برما کوووشو ٹیم پراعتماد ہے کہ وہ ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں ہوم کراﺅڈ کے آگے اپنی برتری ثابت کرنے میں کامیاب رہے گی، کن شومیانمار ووشو فیڈریشن کے چیف کوچ ہیں۔
کن شو”ہم اس کھیل میں 1995ءسے 2013ءکے دوران مختلف عالمی ایونٹس میں ساٹھ سے زائد گولڈ میڈلز جیت چکے ہیں”۔
کیاﺅ زن لن نے اس کھیل میں چھ مرتبہ گولڈ میڈل جیتا ہے۔
کیاﺅ زن لن “اس کھیل میں ہمارے سب سے بڑے حریف ویت نام، ملائیشیاءاور انڈونیشیاءہیں۔ ان تینوں ممالک کی ٹیمیںبہت خطرناک ہیں”۔
خاتون ایتھلیٹ سو ہلائنگ او بھی کامیابی کیلئے پراعتماد ہیں۔
سو ہلائنگ او”ہم نے اپنی بہترین تیاری کی ہے اور مضبوطی، اسٹیمنا اور تیکنیک پر زیادہ توجہ دی ہے”۔

ووشو کے دو ڈسپلنز ہوتے ہیں، ایک سان شو اور دوسر تاﺅلو، پہلے ضابطے میں کھلاڑی خالی ہاتھ یا کسی چھوٹے و بڑے ہتھیار کیساتھ لڑتا ہے، اس گیمز میں دونوں ضابطوں میں تیئس میڈلز رکھے گئے ہیں۔ سو ہلائنگ او اس بارے میں بتارہی ہیں۔
سو ہلائنگ او”میں بہت پراعتماد ہوں کہ اگر ہمیں سخت حریفوں کا بھی سامنا ہوا تو بھی ہم اپنے ملک میں کھیلنے کے ایڈوانٹیج کے باعث بیشتر تمغے جیتنے میں کامیاب رہیں گے، ہم ان گیمز کی میزبانی کررہے ہیں اور میں اپنی کامیابی کیلئے بہت زیادہ پرعزم ہوں”۔
میانمار ووشو فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ہمارا ہدف چھ گولڈ میڈلز کا حصول ہے۔
خن سوئی”ہمارے کھلاڑیوں کی تیاری بہت زبردست ہے اور ہم مقابلوں کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں”۔
سو ہلائنگ او کا کہنا ہے کہ جس حد تک تربیت ممکن تھی ہم نے حاصل کرلی اب ہمیں عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔
سو ہلائنگ او”ہمارے تمام کھلاڑیوں نے سخت محنت کی اور اب برمی پرستاروں کی حمایت سے گولڈ میڈلز کے حصول کیلئے کوشاں ہیں”۔