Boycott Plagues New Cambodia government – کمبوڈین سیاسی بحران

کمبوڈیا میں عام انتخابات کے انعقادکو کئی ماہ گزر گئے مگر اب تک حکومت بننے کے آثار نظر نہیں آتے، جبکہ اپوزیشن جماعت نے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے، کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی ہوئی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بہت کم افراد کو ہن سین کی طرح کسی ملک پرطویل عرصے تک اقتدار کا موقع ملتا ہے، تاہم ان کے 28 سالہ دور حکومت کی مضبوطی اب ختم ہونے لگی ہے، جولائی میں ہونے والے انتخابات میں اپوزیشن جماعت کمبوڈین نیشنل ریسکیو پارٹی یا سی این آر پی نے حکمران جماعت کے مقابلے میں کافی نشستیں جیت لی تھیں، مگر ان نشستوں پر بیٹھنے کی بجائے اپوزیشن جماعت نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کردیا۔ سیم رینسی سی این آر پی کے سربراہ ہیں۔

رینسی”پارلیمنٹ میں جانا بالکل بے کار مشق ثابت ہوگی، کیونکہ ایک بار جب وہاں چلے جائیں گے تو ہم بے اختیار ہوجائیں گے، جس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران جماعت سی پی پی کو حکومت اور قومی اسمبلی میں غلبہ حاصل ہے، یہ اسمبلی ایک ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے، تو پھر ہم کیوں ایسی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔ میرے خیال میں ہم پارلیمنٹ سے باہر رہ کر حکومت پر زیادہ دباﺅ ڈال سکتے ہیں”۔

انتخابی دھاندلیوں کے الزامات ہی اس بائیکاٹ کی بڑی وجہ بنیں، جبکہ پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کئی اہم شاہرائیں بند ہوگئیں۔

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے قبل پولیس نے ایک معروف مقام پر ہونے والے پرامن احتجاجی مظاہرے پر کریک ڈاﺅن کیا۔31 سالہ سور ویایسنہ پولیس کے تشدد سے بے ہوش ہوکر ہسپتال پہنچ گئے۔

سور”میں وہاں سے بھاگ سکتا تھا مگر انھوں نے بجلی کا آلہ استعمال کیا جس کی وجہ سے میں بھاگ نہیں سکا اور نیچے گرگیا، جب میں نیچے گرگیا تو پندرہ اہلکاروں نے میری کمر پر متعدد چیزیں ماریں جس سے میں بے ہوش ہوگیا، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہوا، مجھے لگ رہا تھا کہ میں اس رات مرجاﺅں گا”۔

پیپ وینی اس مظاہرے کی انتطامیہ میں شامل تھیں۔

پیپ وینی”یہاں متعدد پولیس اہلکاروں نے ہم پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فائر کئے، ایک لڑکی نے میرا پیچھا کرتے ہوئے نعرہ لگایا کہ اسے پکڑو، اسے پکڑو”۔

حکمران جماعت سی پی پی ایک بار پھر اپنی حکومت کی نئی مدت کی کوشش کررہی ہے، تاہم اپوزیشن نے عالمی برادری سے مدد طلب کی ہے۔

سیم رینسی”ہم نے عالمی برادری، دوست ممالک کی حکومتوں اور عالمی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمبوڈین حکومت سے تعلق ختم کردیں کیونکہ وہ غیرقانونی ہے۔ ہم نے اس حکومت کے خاتمے کیلئے عالمی مہم شروع کی ہے، جو کہ آئین سے بغاوت کرکے قائم کی گئی ہے اور یہ کمبوڈین عوام کی نمائندگی نہیں کرتی”۔

تاہم ناقدین اس اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سی این آر پی کو حقیقی سیاسی حکمت عملی پر توجہ دینی چاہئے، چیک سوفیپ کمبوڈین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ڈائریکٹر ہیں۔

چیک”میں اسے بچگانہ سوچ سمجھتی ہوں کیونکہ مجھے اس پر عملدرآمد ناممکن لگتا ہے، یہ حقیقت پسند سوچ نہیں، آخر آپ غیرملکی سرمایہ کاروں سے اپنی سرمایہ کاری ختم کرنے یا حکومتی تعلقات کمبوڈیا سے ختم کرنے کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ مجھے نہیں لگتا ہے کہ عالمی برادری اس مطالبے پر کان دھرے گی”۔

بٹ بنتینھ کی سربراہی میں بدھ بھکشوﺅں کا ایک گروپ آئین کی شقیں پڑھ کر کمبوڈین عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کررہا ہے۔

بٹ”اگر میں کہوں کہ میں خوفزدہ نہیں تو یہ سچ نہیں، میں خوفزدہ ہوں، مگر میں اس لئے آگے آیا ہوں کیونکہ میں اپنے ملک کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، میں ایک شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ آئین کے تحت میرے حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے”۔

سی این آر پی کے پاس اب دو آپشنز ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں چلی جائے اور قانون سازی کی کوشش کرے یا سڑکوں پر رہ کر حکومت پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کرے۔ تجزیہ کار لاو مونگ ہے دوسرے آپشن کے حامی ہیں۔

لاو مونگ”اپوزیشن کو عوامی حمایت کے حصول کی کوشش کو برقرار رکھنا چاہئے، اگر حکمران جماعت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور عوام کے بارے میں ان کی سوچ نہیں بدلی تو اپوزیشن آئندہ انتخابات میں کامیاب بھی ہوسکتی ہے”۔

چیک سوفیپ کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود بیشتر شہری ہن سین حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے پرعزم ہیں۔

چیک”سوشل میڈیا میں لوگ اپنی آواز اونچی کرکے دیگر افراد کو معلومات فراہم کررہے ہیں، انتظامیہ اس بات سے واقف ہے کہ ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں”۔