(Bihar’s bicycles give schoolgirls a better future ) بہار میں سائیکلوں کے حصول سے طالبات کے بہتر مستقبل کے امکانات روشن

 

بہار کو بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں شامل کیا جاتا ہے، یہاں تعلیم کی کمی کے باعث لوگوں کو زیادہ معاشی مواقع دستیاب نہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم ریاستی حکومت نے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔

بہار کے ایک گاﺅں Rohuaکے ہائی اسکول میں گھنٹی بج رہی ہے، نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس طالبعلم اپنے کلاس رومز سے باہر آرہے ہیں، ان طالبعلموں میں دو تہائی تعداد لڑکیوں کی ہے۔

بیشتر لڑکیاں دور دراز علاقوں سے سائیکلوں پر اسکول آتی ہیں، انگوری خاتون نویں کلاس کی طالبہ ہے، وہ روزانہ پانچ کلومیٹر کا فاصلہ سائیکل پر طے کرکے اسکول آتی ہے۔ماضی میں اسے تین سال تک اسکول سے دور رہنا پڑا تھا اور گزشتہ سال اس نے اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا تھا۔

انگوری(female) “مجھے پیدل چل کر اسکول آنے میں بہت وقت لگتا تھا، اس لئے میرے والدین نے مجھے اسکول سے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ میرے والد ایک مزدور ہیں اور ان کی آمدنی بہت کم ہے۔ وہ ایک سائیکل خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ مجھے اسکول چھوڑنا پڑا۔ مگر اب میرے پاس سائیکل موجود ہے اور میں اسکول واپس آکر بہت خوش ہوں”۔

یہ بہار حکومت کی مہربانی ہے، جس کے ایک منصوبے کے تحت انگوری جیسی غریب بچیوں کو سائیکلوں کی خریداری کیلئے رقم فراہم کی جاتی ہے۔ اس منصوبے کا نام Mukhyamantri Balika Cycle Yojna رکھا گیا ہے جسے 2007ءمیں نویں اور اس سے اوپر کی جماعتوں میں زیرتعلیم طالبات کیلئے شروع کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ ان رپورٹس کے بعد شروع ہوا کہ دیہات میں متعدد لڑکیوں کو اپنا تعلیمی سلسلہ اسکول گھر سے دور ہونے کے باعث ختم کرنا پڑتا ہے۔ Nitish Kumar بہار کے وزیراعلیٰ ہیں انھوں نے یہ منصوبہ شروع کیا تھا۔

 (male) Nitish Kumar “جب میں نے اپنا عہدہ سنبھالا تو ہماری ریاست میں پچیس لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر تھے۔ اب یہ تعداد کم ہوکر سات لاکھ ستر ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کامیابی ہمیں اپنے منصوبے سے ملی ہے”۔

اس منصوبے کو بہت زیادہ کامیابی ملی ہے اور بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی اس پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ Rohua اسکول کے پرنسپل Shashi Bhushan Prasad Singh کا کہنا ہے کہ متعدد لڑکیوں نے ایک بار پھر اسکول آنا شروع کردیا ہے۔

 (male) Shashi Bhushan Prasad Singh “سائیکلوں نے گھروں میں رہنے پر مجبور دیہاتی لڑکیوں کیلئے صورتحال تبدیل کردی ہے، اب وہ اسکول واپس آنے لگی ہیں۔ 2007ءمیں ہمارے اسکول میں لڑکیوں کی تعداد صرف 39 فیصد تھی جبکہ آج یہ تعداد ساٹھ فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس منصوبے کی بدولت دور دراز دیہات کی لڑکیوں کی اسکول واپسی میں مدد ملی ہے”۔

ریاست بہار کے دیہات میں خواتین کو گھریلو کاموں تک ہی محدود رکھا جاتا ہے، یہاں والدین لڑکیوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس نے شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر چلے جانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیٹوں کے مقابلے میں اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر زیادہ رقم خرچ نہیں کرتے۔یہاں متعدد خاندانوں کے پاس اپنی سائیکلیں موجود ہیں مگر لڑکیوں کواسکول جانے کیلئے انکا استعمال نہیں کرنے دیا جاتا۔ Shashi Bhushan Prasad Singh کا کہنا ہے کہ اب لڑکیوں کے پاس اپنی سائیکلیں ہیں اور صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔

 (male) Shashi Bhushan Prasad Singh “ان میں سے بیشتر لڑکیوں کا تعلق انتہائی غریب خاندانوں سے ہے۔ ان کے گھر، خوراک، کپڑے غرض کہ ہر چیز انتہائی قابل رحم ہے، مگر جب سے انہیں سائیکلیں ملی ہیں صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ اب وہ تعلیم جاری رکھ کر آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں کے طرز زندگی کو بہتر بنانا چاہتی ہیں۔ وہ لڑکیاں جو اس سے پہلے کبھی گھروں سے نہیں نکلتی تھیں اب اسکولوں میں آکر اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں”۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران بہار میں بارہ لاکھ سائیکلیں لڑکیوں میں تقسیم کی جاچکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نویں کلاس میں زیرتعلیم لڑکیوں کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جو 2007ءکے مقابلے میں چھ گنا زائد ہے۔بہار کے تعلیمی افسران کا کہنا ہے کہ لڑکیوں میں تعلیم کے رجحان سے مستقبل میں معاشرے کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔ Ramchandra Mandal محکمہ تعلیم کے ضلعی پروگرام آفیسر ہیں۔

 (male) Ramchandra Mandal “اگر ہم ایک لڑکے کو تعلیم دیں تو یہ ایک شخص کو تعلیم یافتہ بنانا ہوگا، مگر لڑکیوں کو تعلیم دینے کا مطلب ہے کہ یہ سلسلہ متعدد افراد تک پھیل جائے گا۔ یہ لڑکیاں مستقبل میں اپنے بچوں کو غیر تعلیم یافتہ رکھنا پسند نہیں کریں گی۔ اگر ان کے شوہر غیر تعلیم یافتہ ہوں گے تو یہ لڑکیاں انہیں تعلیم کے حصول میں مدد دینے کی کوشش کریں گی۔ اگر شادی کے بعد ان کے پڑوس میں کوئی غیرتعلیم یافتہ خاتون ہوگی تو وہ تعلیم کا یہ سلسلہ اس تک پھیلانے کی کوشش کریںگی۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنے سسرال کو مکمل طور پر تبدیل کرسکتی ہیں۔ تو ایک بچی کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے سے پورے معاشرے کو فائدہ ہوتا ہے”۔

خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی Sangeeta Shahi کا کہنا ہے کہ سائیکلوں سے حصول سے لڑکیوں میں خودمختاری کا احساس پیدا ہوا ہے۔ انکا ماننا ہے کہ یہ دیہاتی لڑکیاں مستقبل میں ریاستی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

 (female) Sangeeta Shahi “خواتین کے بغیر کسی ملک یا ریاست میں ترقیاتی عمل برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ہمارے ملک میں اوسطاً فی کس آمدنی آٹھ سو ڈالر ہے، مگر بہار میں یہ شرح صرف تین سو ڈالر ہے۔ اس غریب ریاست میں وزیراعلیٰ کی جانب سے سائیکلوں کی فراہمی سے ان دیہاتی لڑکیوں کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملے گا۔اس سے پہلے مائیں اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں مگر آج دیہاتی لڑکیاں اپنی ماﺅں کے خواب پورے کررہی ہیں۔ ان لڑکیوں کی یہ پیشرفت اب نہیں روکے گی”۔

پندرہ سالہ انجلی کماری ایک دیہاتی کاشتکار کی بیٹی ہے، وہ نئی سائیکل ملنے پر خوش ہے۔

انجلی(female) “اب میرے پاس اپنی سائیکل ہے، میرے تمام مسائل حل ہوچکے ہیں اور اب میں بلاناغہ اسکول آرہی ہوں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *