(Bhutan advocates happiness as measure of economic growth) بھوٹان کا خوشی کو اقتصادی ترقی کا حصہ بنانے پر زور


(Bhutan economy) بھوٹانی معیشت

اپریل کے آغاز میں اقوام متحدہ کے زیرتحت نیویارک میں مسرت اور خوشحالی کے نام سے کانفرنس ہوئی، جس میں دنیا بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے خوشی کو حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ یہ خیال بھوٹان کا پیش کردہ تھا

بھوٹان کے وزیراعظم Jigmi Thinley اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران لوگوں کی خوشی اور ان کی خوشحالی کے حوالے سے خطاب کررہے ہیں۔

 (male) Jigmi Thinley “دانشور، عالم، سائنسدان اور دیگر طبقے لوگوں کی ترقی کیلئے متبادل مثالی نمونے کی تلاش میں ہیں۔ بھوٹانی عوام کی حوصلہ افزائی کی بدولت ہم نے مسرت اور انسانی خوشحالی کو اقوام متحدہ میں ایک قرارداد کی حیثیت سے منظور کرنے کی تجویز دی۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی”۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اقتصادی ترقی کسی بھی ملک کے عوام کی حقیقی خوشی کو ظاہر نہیں کرتی۔ یہ خیال بھوٹان کی جانب سے آیا تھا، جہاں 1970ءکی دہائی کے اوائل میں ملکی ترقی کے پیمانے کے لئے جی ڈی پی یعنی مجموعی قومی پیداوار کی جگہ مجموعی قومی خوشی یا Gross National Happinessتشکیل دیا گیا۔Kama Tsheetim بھوٹان کے Gross National Happiness کمیشن کے سیکرٹری ہیں۔ وہ اس حوالے سے وضاحت کررہے ہیں۔

 (male) Kama “یہ عوامی ترقی کے لئے ہماری سوچ ہے جس کے ذریعے ہم روحانی، ثقافتی اور دیگر پہلوﺅں کو متوازن بنانا چاہتے ہیں، اور معاشرے کے ہر شخص کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ خیال ایک سادہ عقیدے پر مبنی ہے کہ لوگ اپنی زندگیاں بامقصد انداز میں گزارنا چاہتے ہیں”۔

روایتی طور پر اقتصادی ترقی کے پیمانے کا انحصار آمدنی اور مجموعی قومی پیداوار پر ہوتا ہے، مگر اس ترقی کے باعث دنیا میں آج آلودگی بڑھ رہی ہے، معاشرے بکھر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی نے دنیا کو متعدد خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ Kama کا کہنا ہے کہ ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے ثابت ہوتا ہے کہ بھوٹان کی سوچ کتنی اہم ہے۔

 (male) Kama “درحقیقت ہم آج کے عہد کی ترقی کو دیکھتے ہیں جو صرف جی ڈی پی کے گرد ہی گھومتی ہے، درحقیقت یہ پیشرفت مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کررہی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ملازمتیں تخلیق کرنا بری چیز ہے یا غربت میں کمی لانا اچھا کام نہیں، یہ تو پوری دنیا کی اولین ترجیح ہے، تاہم ہم محسوس کرتے ہیں کہ ترقی کا یہ عمل مستحکم ہونا چاہئے”۔

بھارت کو بجلی کی فروخت بھوٹان کےلئے زرمبادلہ کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ وہ اب سیاحت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ بھوٹان میں سفری مشیر کا کام کرنے والی Isabel Sebastian کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ حکومت ماحولیاتی اور مقامی ثقافت کا تحفظ چاہتی ہے۔

 (female) Isabel Sebastian “منصوبہ ساز خصوصاً وزیراعظم Gross National Happiness کو بھوٹان کی ترقی کا بنیادی فلسفہ بنانے کے حوالے سے بہت پرعزم ہیں۔مجھے اس بات پر یقین ہے کہ دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بھوٹان میں صورتحال بالکل مختلف نظر آئے گی۔ یہ بھوٹان کے رہنماﺅں کا عظیم تصور ہے جو آپ کو دنیا کے کسی اور حصے میں نظر نہیں آئے گا”۔

تاہم روایتی جی ڈی پی کے پیمانے پر بھی بھوٹان کی معیشت مثبت پیشرفت دکھا رہی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران بھوٹانی معیشت سالانہ سات فیصد کی رفتار سے آگے بڑھی ہے، اور فی فرد آمدنی اب دو ہزار امریکی ڈالرز سے بھی تجاوز کرچکی ہے، جو کہ پانچ برس قبل سترہ سو ڈالرز تھی۔ Doji Choden بھوٹان میں UN Development Program کےلئے کام کررہی ہیں۔

Gross National Happiness” (female) Doji Choden کا تصور ماحولیاتی مسائل، سماجی رجحان اور لوگوں کی روحانی طاقت پر مشتمل ہے۔ یہ کسی ایک چیز کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ یہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر روشنی ڈالتا ہے”۔

تاہم Gross National Happiness کی سوچ اور ایشیاءکا سب سے خوش ملک ہونے کے دعوے کے باوجود بھوٹان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام ہیں۔ جب حکومت نے Gross National Happiness کا تصور متعارف کرایا تو اس نے ایک قوم، ایک فرد کے نعرے کے ساتھ مہم چلائی، جس کے نتیجے میں نیپالی نشاد اقلیتی برادری کو ہراساں کیا گیا اور ان کے گھر جلائے گئے، جس کے باعث متعدد افراد نیپال کی جانب چلے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *