(Bali’s tourism industry does little to help the island’s poor) بالی کی سیاحتی صنعت اور غریب طبقہ

(Bali’s tourism industry does little to help the island’s poor) بالی کی سیاحتی صنعت اور غریب طبقہ

انڈونیشیاءکے تفریحی مقام بالی میں سیاحت کی صنعت وہاں کے غریب رہائشیوں کے طرززندگی کو بہتر بنانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اس لئے اب سیاحت کی صنعت پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

بالی ایک ایسا مقام ہے جسے لوگ اس کے ریتیلے ساحلوں، چمکتے دنوں اور بلند و بالا لہروں کی وجہ سے جانتے ہیں، سیاحتی مراکز کے اندر اور باہر لاتعداد غیرملکی افراد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بہت ترقی یافتہ علاقہ ہے، مگر یہ ترقی اس علاقے کے ایک چھوٹے سے حصے تک ہی محدود ہے۔ اگر چند گھنٹے کی ڈرائیو کی جائے تو بالکل مختلف نظارہ آپ کے سامنے ہوگا۔نواحی علاقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سیاحت کے فوائد یہاں تک نہیں پہنچے، آپ جہاں شدید ترین غربت کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، مثال کے طور پر اچھی سڑکیں یہاں نایاب ہیں، جبکہ پانی و بجلی جیسی سہولیات کا تو تصور تک موجود نہیں۔ معروف سیاحتی مقامات سے تین گھنٹے کے فاصلے پر ایک گاﺅں Ban واقع ہے، جو Mount Agung اور Mount Abang نامی پہاڑوں کے نشیب میں واقع ہے۔ اسے انڈونیشیاءکا سب سے مفلس گاﺅں سمجھا جاتا ہے۔David Booth ایک برطانوی انجنئیر ہیں، انھوں نے 1998ءمیں پہلی بار اس گاﺅں کا دورہ کیا تو یہاں کی حالت دیکھ کر انہیں سکتہ ہوگیا۔

 male) David Booth) “یہاں کی صورتحال میرے تصور سے بھی زیادہ خراب ہے، یہاں تین ماہ گزارنے کے بعد مجھے یہاں کے رہائشیوں کی مدد کا خیال آیا۔ مجھے احساس ہوا کہ اگر میں نے یہاں کے رہنے والوں کیلئے کچھ نہ کیا تو میں پوری زندگی شرمندگی محسوس کرتا رہوں گا”۔

یہی وجہ تھی کہ ڈیوڈ نے East Bali Poverty Project نامی منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت یہاں کے رہائشیوں کو اچھی غذائیت اور صفائی ستھرائی کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا، انہیں طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔اس ادارے کی کوششوں کی وجہ سے اب یہاں آیوڈین کی کمی اور کم خوراکی سے بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے، تاہم اب بھی اس علاقے میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں۔عالمی اداروں کی مدد سے ڈیوڈ کے Poverty Project نے یہاں تین اسکول تعمیر کئے ہیں۔ Madir مقامی استاد ہیں، انکا کہنا ہے کہ تعلیم ہی ترقی کا زینہ بنے گی۔

 male) Madir) “یہ اسکول بہت اہم ہیں، جس سے یہاں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ مجھے توقع ہے کہ اس سے ہمارا گاﺅں ترقی کرسکے گا”۔

اب لگتا ہے کہ تعلیم نے یہاں کے طرز زندگی پر مثبت اثرات مرتب کرنا شروع کردیئے ہیں۔ زیادہ معلومات ہونے کے باعث اب مقامی افراد اپنے مویشی زیادہ بہتر قیمتوں پر فروخت کرنے لگے ہیں۔Budiasih مقامی رہائشی ہیں۔

female) Budiasih) “ہم مویشیوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ایک دوسرے میں تسلیم کرلیتے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ مستقبل میں ہم اس سے بھی زیادہ اچھی قیمتوں پر اپنے مویشی فروخت کرسکیں گے”۔

تاہم اس ترقی اور مثبت پیشرفت کے باوجود ابھی بھی یہاں بہت کچھ ہونا باقی ہے۔Nengah Tutup گاﺅں کے رہنماءہیں۔

 male) Nengah Tutup) “مقامی اور صوبائی حکومتیں ہماری ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں، ہمیں شاہراﺅں، بجلی اور پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے”۔

ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ بالی میں امیر اور غریب کی روایتی تقسیم انتہائی افسوسناک ہے۔

ڈیوڈ(male) “بالی کا مغربی حصہ اگر امیرے طبقے کا ہے تو مشرقی بالی میں غریب آبادیاں ہمیں اداس کردیتی ہیں، یہ مجھے ناانصافی لگتی ہے، مشرقی حصوں سے چونکہ سیاحت کی زیادہ آمدنی نہیں ہورہی اس لئے حکومت کی پوری توجہ مغربی علاقوں پر ہیں، جہاں سیاح زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں”۔

بالی کے گورنر Mangku Pastika کا کہنا ہے کہ غربت ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے سیاحت کو غریب طبقے کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے، کیونکہ اس صنعت کے باعث یہاں مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔تاہم وہ سیاحوں کو اس مسئلے کی وجہ نہیں قراردیتے۔

 male) Mangku Pastika) “سیاح اچھے افراد ہوتے ہیں، مگر اصل مسئلہ لالچی سرمایہ کار ہیں۔ یہ لالچی سرمایہ کار ماحولیات، زمین، عوام اور ثقافت کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں، اور یہی بنیادی مسئلہ ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *