پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج دماغی نشوونما میں رکاوٹ ڈالنے والے مرض آٹزم سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے۔
آٹزم درحقیقت ذہنی نشوونما کا ایک ایسا مرض ہے جو کہ بچوں میں 18ماہ سے تین سال کی عمر میں ظاہر ہوتا ہے۔یہ مرض بچے کی بول چال، سماجی تعلقات، ذہانت اور اپنی مدد آپ جیسے عوامل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اس بیماری میں مبتلا بچہ اپنی دنیا میں گم ہوکے رہ جاتاہے ، اسے بیرونی دنیا سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
یہ بیماری لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اوراس مرض کی عجیب وغریب دماغی کیفیت بچے کے پہلے سال کے آخر ی مہینوں میں نمایاں ہوتی ہے۔
ایک نارمل صحت مند بچہ تین برس کی عمر کے بعد اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ ایک سماجی بندھن باندھنے کااہل ہوجاتاہے لیکن آٹزم میں مبتلا بچہ ایسا کرنے میں ناکام رہتاہے۔ وہ سماجی زنجیر سے کٹا ہوا لگتاہے اور دوسرے نارمل بچوں کے برعکس بیرونی حقائق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ہے۔ وہ خیال پرستی کا شکا رہوجاتاہے اور اپنے ہی خیالات میں گم رہتا ہے۔
آٹزم جیسی انوکھی بیماری میں مبتلا بچہ تین چار سال کی عمر میں خاموش رہنا پسند کرتاہے۔ وہ دوسروں سے باتیں کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتاہے ،کسی کے سوال کا جواب دینے کی بجائے سرجھکائے اپنے ہی خیالوں میں گم صم رہنے کو ترجیح دیتاہے اور اگر کوئی اس سے بار بار سوالات پوچھے تو وہ غصّے کی آگ میں جلنے لگتاہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ بچے آٹزم سے متاثر ہیں۔ان کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، ان بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے خصوصی سامان اور اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے ابھی تک آٹزم کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے، تاہم ماہر نفسیات ، اساتذہ ، والدین اور دوسرے رشتے دار متاثرہ بچے کی مدد کرسکتے ہیں اور اس کی طرف مخصوص توجہ دے کر اسے سماجی زندگی کے دائرے کے اندر لانے میں اپنا کردار نبھا سکتے ہیں۔
