Home Based Workers Convention ہوم بیسڈ ورکرز کنوینشن

پاکستان بھر میں کام کرنے والی ہوم بیسڈ ورکرز کو اُنکے حقوق دینے اور انھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کیلئے کراچی میں25مارچ کو” ہوم بیسڈ ورکرز کنونشن” کا انعقاد کیا گیا۔پاکستان پیپلز لیبر بیورو سے منسلک حبیب جنیدی کا کہنا ہے کہ ہوم بیسڈ ورکرز میں بہت بڑی تعداد خواتین کی ہے جو روز گار کے حصول کیلئے گھروں میں مختلف کام کررہی ہیں لیکن افسوس کہ انھیںمحنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا،ضرورت اس بات کی ہے ان خواتین کواپنے حقوق کے حوالے سے آگہی فراہم کی جائے جسکے لئے اس نوعیت کے کنوینشن اور سیمینارز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نیشنل آرگنائزیشن آف ورکنگ کمیونٹیز سے منسلک فرحت پروین نے ہمیں بتایا کہ ہوم بیسڈ ورکرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کوشش ہے کہ ہوم بیسڈ ورکرز کو بھی EOBIکے ذریعے بڑھاپے کی پنشن فراہم کی جائے اور اس سلسلے میں ماہانہ ادائیگی کی شرائط میں بھی نرمی کی جائے تاکہ وہ خواتین جو بڑھاپے کے باعث کام حاصل نہیں کر سکتیں انھیں بھی سہو لت فراہم کی جائے :
فرحت پروین کا کہنا ہے کہ کنونشن کا مقصد یہ ہے کہ وہ خواتین جو محنت سے روز گار حاصل کر رہی ہیں انھیں بزنس کمیونٹی سے رابطے میں لایا جائے تاکہ یہ مختلف کنٹریکٹر زاور اداروں کیلئے کام کرنے کے بجائے خود سے پروجیکٹس حاصل کریں،اس طرح یہ اپنی محنت کا بھر پورمعاوضہ حاصل کرسکیں گی:
“ہوم بیسڈ ورکرز کنوینشن” میں بڑی تعداد میں گھروں میں مختلف کام کرنے والی خواتین نے بھی شرکت کی ، اورنگی ٹاﺅن سے آنے والی صبیحہ بانو کا کہنا ہے کہ انھیں مزدوروں سے بھی کم تر درجہ دیا جاتا ہے،مزدوروں کو کم از کم دن کے اختتام پر مزدوری تو مل جاتی ہے جبکہ کنٹریکٹرز ہم سے تیار مال لینے کے بعد کہتے ہیں کہ بکنے کے بعد اِن کی قیمت ادا کی جائے گی،جبکہ کئی کنٹریکٹرز اور ڈیلرز دھوکہ بھی دیتے ہیں،اس بارے میںنیشنل آرگنائزیشن آف ورکنگ کمیونٹیزسے منسلک فرحت پروین کا کہنا ہے ہوم بیسڈ ورکرز کو اُن کے حقوق فراہم کرنے کیلئے اس نوعیت کے کنوینش کا انعقاد بے حد ضروری ہے تاکہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو یہ بتایاجا سکے کہ وہ کس طرح اپنی محنت کا معاوضہ حاصل کر سکتی ہیںاس سلسلے میں اُنھیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے ساتھ ساتھ ہوم بیسڈ ورکرز کیلئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *