آسٹریلیا میں نسلی امتیاز کے حوالے سے قائم کمیشن کے سربراہ نے حال ہی میں کام شروع کیا ہے، ان کے والدین کو نسلی تعصب کی بناءپر 70ءکی دہائی میں لاﺅس چھوڑ کر آسٹریلیا آنا پڑا تھا، اب وہ اس حوالے سے مہم چلارہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
آسٹریلیا کے نسلی تعصب کے خلاف کام کرنے والے کمشنر ڈاکٹر ٹم ساوتھ فومیسن کا کہنا ہے کہ تعصب اب بھی بہت عام ہے۔
ڈاکٹر ٹم”بیس فیصد آسٹریلین شہریوں نے بتایا ہے کہ انہیں نسل پرستی پر مبنی نفرت انگیز باتیں سننے کا تجربہ ہوا ہے، گیارہ فیصد نے دفاتر یا سماجی سرگرمیوں کے دوران جلد کے رنگ یا قومیت کے باعث تعصب کا سامنا کرنا پڑا”۔
ایک تارک وطن ہونے کی حیثیت سے ڈاکٹر ٹم ساوتھ فومیسن کو بھی آسٹریلیا میں نسلی تعصب کا سامنا ہوا۔
ٹم”میں آسٹریلیا میں چینی اور لاﺅس کی پہلی نسل سے تعلق رکھتا ہوں، یہ کہنے میں تو بہت اچھا لگتا ہے مگر میری ثقافتی شناخت کے باعث مجھے نسلی تعصب کا تجربہ ہوا، یہ بہت اداس کن تھا، اکثر لوگ ہمیں احترام اور مساوی حیثیت دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے”۔
انکا کہنا ہے کہ نسل پرستی کا اب جدید چہرہ سامنے آگیا ہے۔
ٹم”مثال کے طور پر آپ جب آپ کا کوئی مذاق اڑاتا ہے اور آپ اس کی شکایت کرتے ہیں، تو اس کا ردعمل یہ سامنے آتا ہے کہ ہم بس ہنسی مذاق کررہے تھے، اس کو سنجیدگی سے مت لو، اور میرے خیال میں یہ حقارت آمیز رویہ نسلی تعصب کے زمرے میں آتا ہے، ہمارا کام صرف کسی کے جذبات کو ہی ٹھیس نہیں پہنچاتا، بلکہ اس حوالے سے ہم عوامی سوچ بدلنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ تعصب کو سمجھ سکیں اور جان سکیں کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں”۔
تاہم انکا کہان ہے کہ نوجوان آسٹریلین اب آن لائن بدزبانی کرنے لگے ہیں۔
ٹم”سائبر تعصب آسٹریلین افراد میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اگر ہم اس معاملے کو حل نہیں کریں گے تو سماجی چیلنجز میں اضافہ ہوگا، ہمیں احساس کرنا ہوگا کہ آن لائن بھی نسلی تعصب ایک سنگین مسئلہ ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے نئے مکالمے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
ٹم”اس حوالے سے سول سوسائٹی میں مکمل طور پر تبدیلی کی ضرورت ہے، آپ کے دفاتر میں، اسکولوں میں غرض ہر جگہ سوچ کی تبدیلی کی ضرورت ہے، ماضی میں ہم ان چیزوں کو نظرانداز کرکے کوش ہوجاتے تھے، تاہم اگر ہم ایک واضح موقف کے ساتھ سامنے آئیں گے اور ہر ایک کو تعصب سے روکیں گے تو ہم تبدریج سوچ کی تبدیلی کا مقصد حاصل کرلیں گے”۔