ہزاروں ایشیائی ورکرز عراق کے خودمختار علاقے کردستان میں منتقل ہورہے ہیں، یہاں کی ابھرتی ہوئی معیشت سے روزگار کے کافی مواقع سامنے آئے ہیں، تاہم ان ورکرز کو مختلف مشکلات کا بھی سامنا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
شہر کے مرکز میں ایک فوارے کے قریب شدید گرمی میں راحت کا احساس ہوتا ہے، یہاں کسی کو کار بم دھماکوں یا عسکریت پسندوں کے حملوں کا ڈر نہیں، جیسے عراق کے دیگر حصوں میں ہوتے ہیں۔
دو ہزار تین میں اتحادی افواج کے عراق پر حملے اور صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کردستان میں ترقی کی شرح بہت تیز رہی ہے، خصوصاً خام تیل کی ابھرتی ہوئی صنعت نے مقامی اور غیرملکیوں کا یہاں متوجہ کیا ہے۔ پیرش محرمکردستان انوسٹمینٹ بورڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہیرش”یہاں متعددقدرتی و انسانی وسائل موجود ہیں،جس کے باعث لوگوں کو کافی مواقع میسر آئے ہیں، شروع میں جب ہم نے کردستان کو عراق کا دروازہ قرار دیا، تو یہ خطہ عراقی مارکیٹ کا مرکز بن گیا، ہم ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کررہے ہیں”۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے عمر فاروق 2008ءمیں یہاں آئے، ان کی فاسٹ فوڈ چین ہے اور وہ کردستان میں بھارتی بزنس کونسل کے سربراہ ہیں۔
عمرفاروق”بھارت میں ابھی بھی متعدد افراد کردستان کے علاقے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، 2008ءمیں لوگوں کو کردستان کے بارے میں معلوم ہونا شروع ہوا، تاہم بھارت سے لوگ یہاں آنے سے ڈرتے ہیں، جس کی وجہ عراق کے حالات ہیں۔حالانکہ یہاں بھارتیوں کو کام کیلئے بہت زیادہ مواقع دستیاب ہیں، ہم نے بھارت میں متعدد اداروں سے رابطہ کرکے انہیں کام کیلئے یہاں بلایا ہے”۔
بھارت صرف بھارتی شہریوں کی نہیں بلکہ پورے جنوبی اییاءسے لوگ یہاں آرہے ہیں، پاکستان سے تعلق رکھنے والے عمران نے بھی اس کا فائدہ اٹھایا۔
عمران اس وقت اپنی ملازمت کی دس گھنٹے کی شفٹ گزار کر واپس آئے ہیں، شام کو گھر آکر وہ اکثر بالی وڈ فلموں سے محظوظ ہوتے ہیں، وہ بتارہے ہیں کہ انھوں نے کس طرح یہاں کام کرنے کا پرمٹ حاصل کیا۔
عمران”میں نے دبئی میں اپنے ایجنٹ کو پندرہ سو ڈالرز ادا کئے، جب میں دبئی سے نکل رہا تھا تو میرے ایجنٹ نے مجھے بتایا کہ مجھے ایک شاپنگ سینٹر کی ایک دکان میں ملازمت دی جارہی ہے، اس کا کہنا تھا کہ مجھے چیزیں لوڈ یا ان لوڈ کرنے کا کام کرنا ہوگا، اس نے چار سو ڈالر تنخواہ کا وعدہ کیا، مگر جب میں یہاں پہنچا تو مجھے صرف تین سے تین سو بیس ڈالرز دیئے گئے”۔
عمران کے ایجنٹ نے اس کا پاسپورٹ رکھ کر اسے اس کے موجودہ مالک کے ہاتھ سات سو ڈالرز میں فروخت کردیا۔
عمران”ایجنٹ نے ہم لوگوں کو گائے بکریوں کی طرح فروخت کردیا، اس نے ہمیں نو سو یا سات سو ڈالرز میں فروخت کردیا، اب ہم کیا کرسکتے ہیں؟”
ابھی عمران یا دیگر غیرملکی ورکرز اپنے پاسپورٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں، کسی شخص کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھنا بین الاقوامی قوانین کے تحت جرم ہے، مگر بات یہاں تک محدود نہیں عمران کو مزید مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عمران”جب میرا پاسپورٹ ایکسپائر ہوگیا، تو میں نے اپنے مالکان سے اس حوالے سے کچھ کرنے کا کہا”۔
مگر عمران کے مالکان نے اس کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی بغداد میں پاکستانی سفارتخانہ اس کی مدد کیلئے آگے آیا۔تو عمران اس یہاں غیرقانونی طور پر کام کررہا ہے۔
عمران”میرے پاس پاسپورٹ نہیں اور نہ ہی ورک پرمٹ موجود ہے، اسی لئے میں آزادی سے پھر نہیں سکتا، میں کسی کے گھر نہیں جاسکتا یا کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا، مجھے پولیس کا ڈر ہے، میں نے سنا ہے اگر کسی کے پاس درست آئی ڈی نہ ہو تو اسے چھ ماہ کیلئے قید میں ڈال دیا جاتا ہے”۔
عمران کے دوست راجو کا تعلق بھارت سے ہے، وہ یہاں فروری میں آئے مگر وہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔
راجو”میرے پاس کسی قسم کے دستخطی معاہدے کا کوئی ثبوت موجود نہیں، اگر کل پولیس نے مجھے سے ملازمت کا ثبوت مانا تو میں انہیں کیا دکھاﺅں گا؟ میرا پاسپورٹ؟ مجھے یہاں کی یونینز کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں یونین آفس ہے بھی یا نہیں۔ مجھے زبان کا بھی مسئلہ درپیش ہے، میری انگریزی زیادہ اچھی نہیں اور نہ ہی میں کردش یا عربی کا ماہر ہوں”۔
ہم نے اس حوالے سے وزارت محنت کے ترجمان نسمی موسی عثمان سے پوچھا کہ غیرملکی ورکرز کی شکایات کے حوالے سے وہ کیا کررہے ہیں، انھوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا کہ یہ افراد بغیر معاہدوں کے کام کررہے ہیں۔
نسمی موسی”تمام غیرملکی ورکرز سے ان کے مالکان معاہدے پر دستخط کراتے ہیں، یہ بات درست نہیں کہ مالکان تارکین وطن کے پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھتے ہیں، بلکہ ایسا ہوا بھی ہے تو چند واقعات ہی ایسے ہوئے ہوں گے۔ مثال کے طور پر کلینرز یا باورچی کا کام کرنے والی خواتین کے پاسپورٹ ان کے مالکان اپنے پاس رکھتے ہیں، کیونکہ ان خواتین کو کردستان میں کام کرنے کے حوالے سے صورتحال کا زیادہ معلوم نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی مشکل میں نہ پھنس جائیں”۔
وزارت محنت نے غیرملکیوں کو ملازم رکھنے کے حوالے سے سامنے آنے والی بے ضابطگیوں پر ایک کمیٹی قائم کردی ہے، ان میں سے ایک ایربل چیمبر آف کامرس ہے، تاہم انھوں نے ہمارے سوالات کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ وزارت محنت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کررہے ہیں جس سے غیرملکی ورکرز کا استحصال نہیں ہوسکے گا، مگر ورکرز جیسے عمران کے خیال میں زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
عمران”کون جانتا ہے کہ ہم گھر واپس جابھی سکیں گے یا نہیں، مجھے نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوگا”۔