Art as a form of protest in Burma – برما کا سیاسی آرٹ

برما میں سیاسی تصاویر کی نمائشوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، سنسر شپ کے پرانے قوانین نرم کئے جانے بعد سے احتجاجی گروپس فنون لطیفہ کو اپنا پیغام پھیلانے کا ذریعہ بنارہے ہیں۔

مینٹ سوئی ایک سیاسی مصور ہیں۔

مینٹ سوئی” ان پہاڑوں کو ان کے لباس سے محروم کردیا گیا ہے، اور جو لوگ ان کے تحفظ کیلئے کام کررہے تھے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا”۔

انھوں نے جنوبی برما میں ایک متنازعہ تانبے کی کان پر مصوری کی ہے، یہ منصوبہ چین کے تعاون سے جاری ہے۔

مینٹ سوئی” میں سیاست سے منسلک ہوں، میری تصاویر کو دیکھ کر آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ سیاسی تصاویر ہیں۔ میرے انداز کا انحصار سیاسی و اقتصادی صورتحال پر ہوتا ہے”۔

اس سے پہلے اس طرح کی مصوری کی نمائش کی اجازت نہیں تھی، تاہم سنسرشپ میں نرمی کے بعد آرٹ گیلریوں میں اس طرح کی نمائشیں عام ہورہی ہیں۔اونگ مِن سوئی، پنسودان نامی آرٹ گیلری کے مالک ہیں۔

اونگ مِن “ اگرچہ موجودہ برس میں بہت زیادہ نرمی نظر آرہی ہے،مگر درحقیقت ابھی بھی کام پر نظر رکھی جارہی ہے اور نمائش میں رش وغیرہ کو دیکھا جارہا ہے، ابھی بھی ہمیں سنسرشپ بورڈ سے منظوری کیلئے درخواست دینا پڑتی ہے۔ یہ معمول ابھی تک ختم نہیں ہوا”۔

مگر اب ان نمائشوں میں سیاسی ایونٹس کو دکھایا جارہا ہے، جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔من سوئی اس بارے میں بتارہے ہیں۔

اونگ مِن “تانبے کی کان کے معاملے میں، میں نے تصاویر کے ذریعے حقائق کو دکھانے کی کوشش کی، اگر کوئی اس علاقے میں جاکر احتجاج کرنے کی کوشش کرے تو خونریزی کا امکان ہوتا ہے۔ہم اندر ہی اندر جل رہے ہیں”۔

لتپوڈانگ میں واقع تانبے کی اس کان کے خلاف احتجاج کیلئے فنڈز جمع کرنے کیلئے رنگون میں نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے، یہ لوگ تانبے کی کانوں کے قریب سے بے دخلی پر احتجاج کررہے ہیں، حال ہی میں یہ احتجاج اس وقت پرتشدد ہوگیا جب پولیس نے مظاہرین پر کریک ڈاﺅن کیا۔

مینٹ سوئی” چٹانیں تو حرکت نہیں کرسکتیں مگر میں اپنے تصاویر کے ذریعے وہاں کی خراب صورتحال کی

عکاسی کرنا چاہتا ہوں، کہا جاتا ہے کہ اب سیاسی مصوری کی اجازت ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ایک رات قبل اس نمائش پر پابندی لگادی گئی تھی”۔

مگر انھوں نے نمائش کو ختم نہیں کیا، اونگ من سوئی کا کہنا ہے کہ اس حوالے الجھن کا سامنا ہے کہ آخر کس کس چیز کی اجازت نہیں۔

اونگ من سوئی “ انھوں نے ہمیں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا، تو یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہم الجھن کا شکار ہیں۔ سمجھ نہیں آرہا کہ انہیں آگاہ کریں؟ یا پھر سے سبسر بورڈ سے رابطہ کریں تاکہ وہ یہاں آکر چیکنگ کرسکے۔ہم بہت الجھن کا شکار ہیں”۔
انکا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال میں بہتری آئی ہے مگر ابھی بھی اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل نہیں۔

اونگ من سوئی “ اگر ان کی خواہش ہوگی تو ہم کچھ نہیں کریں گے، اگر ہم میں ہمت ہو تو ہم اس آزادی کی آزمائش بھی کرسکتے ہیں”۔

تاہم فنکار اپنے کام کے دوران پابندیوں کے بارے میں نہیں سوچتے۔

مینٹ سوئی” جب میں مصوری کررہا ہوتا ہوں تو سنسر شپ کے بارے میں نہیں سوچتا، میں صرف اپنی تصویر پر ہی توجہ مرکوز رکھتا ہوں، مجھے حکومتی پابندیوں کی کوئی پروا نہیں ہوتی”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *