An Inspiring Burmese Sportswoman – ابھرتی ہوئی برمی ویمن ایتھلیٹ

[ 0 ] March 6, 2013

برما نے دسمبر میں شیڈول ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں سو گولڈ میڈلز جیتنے کا عزم کررکھا ہے، اس ہدف کے حصول کیلئے برما نے کئی روایتی کھیلوں کو بھی ان گیمز کا حصہ بنایا ہے، جن میں کین بال بھی شامل ہے۔ اسی کھیل کی ماہر ایک خاتون کی جدوجہد کا احوال سنتے ہیں ۔

چھبیس سالہ نوئے نوئے تھوئے ہفتے میں چھ روز انتہائی سخت ٹریننگ میں گزارتی ہیں،وہ خواتین کی کیس بال ٹیم کی رکن ہیں، وہ بچپن سے کھیلوں کی دیوانی ہیں۔

نوئے نوئے تھوئے “ جب میں چھوٹی تھی تو میں گھر بیٹھ کر ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب بہت شوق سے دیکھتی تھی، میں برمی پرچم اور ایتھلیٹس کو روایتی ملبوسات میں مارچ کرتے دیکھ کر مسحور ہوجاتی تھی، اس وقت میں ان کے جیسا بننے کی خواہش کرتی تھی”۔

تاہم جب وہ تیرہ سال کی ہوئیں تو انہیں اس راہ میں حائل رکاوٹوں کا احساس ہوا۔

نوئے نوئے تھوئے “ اس وقت مرد مجھے اپنے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اور مجھے ہمیشہ نکال باہر کیا جاتا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ خواتین کو یہ کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں، مجھے کھیلنا نہیں آتا تھا اس لئے میں اسے دیکھتی رہتی تھی۔ ایک دن انکی کین بال میدان سے باہر آئی تو میں نے بھاگ کر اسے اٹھایا اور لڑکوں کو دی۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے گیند کو کک مارنے کی اجازت دی اور پھر اپنے ساتھ کھلانے لگے”۔

ان کے لئے اپنے والدین کو قائل کرنا بھی آسان نہیں تھا۔

نوئے نوئے تھوئے “ پہلے تو میرے والدین نے مجھے اجازت دیدی، مگر پھر یہ کھیل تعلیم پر اثرانداز ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کھیل کے بعد میں بہت تھک جاتی تھی اور اچھی طرح پڑھ نہیں پاتی تھی، جس پر میرے والد نے مجھے کھیلنے سے روک دیا، تاہم میں چھپ چھپ کر کھیلتی رہی۔ میں دکھاتی تھی جیسے اسکول جارہی ہوں مگر میں کھیلنے چلی جاتی تھی۔ جب میری ماں کو اس بات کا پتا چلا تو انھوں نے مجھے خوب مارا، جس پر میں نے ان سے نہ کھیلنے کا وعدہ کیا مگر اس پر عمل نہ کرسکی”۔

ان کے والدین چاہتے تھے کہ بیٹی سرکاری ملازمت کرے۔

نوئے نوئے تھوئے “ میرے والد چاہتے تھے کہ میں کھیلوں کے شعبے کا رخ نہ کرو، انکی خواہش تھی کہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد خواتین پولیس فورس میں شمولیت اختیار کروں، جس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے ان کی خواہش کے برخلاف شعبہ منتخب کیا”۔

اس کشمکش کے باعث انہیں اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا پڑا۔

نوئے نوئے تھوئے ” میں ہائی اسکول کے امتحانات میں فیل ہوگئی تھی، جس کے بعد میرے والد مجھے کھیلنے سے روکنا چاہتے تھے، انھوں نے قومی مقابلوں میں حاصل ہونے والے میرے تمام اعزازات جلادیئے، جب مجھے گھر پر ایوارڈز نہ ملے تو میری ماں نے مجھے اس بارے میں بتایا اور مجھے ان کی راکھ اپنے گھر کے قریب پڑی مل گئی۔ میں یہ دیکھ کر سکتے میں آگئی اور رونے لگی، تاہم اس چیز نے مجھے زیادہ مضبوط کیا اور میں نے خود سے عہد کیا کہ ایک دن اس کھیل میں کامیاب ہوکر دکھاﺅں گی”۔

وہ تنہا نہیں، متعدد طالبعلموں کو کھیلوں کے اپنے جنون کیلئے تعلیم چھوڑنا پڑی ہے، اس وقت برما میں ایسا کوئی اسکول نہیں جو ایتھلیٹس کی ضروریات کے مطابق تعلیم دے۔ کیو زن موئے ، وزارت کھیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں، انکا خیال ہے کہ برما میں اب اس طرح کے اسکول بنانے کا وقت ہے۔

کیو زن موئے” کچھ بچے پہلے تعلیم پر توجہ دینا چاہتے ہیں اور اس کے بعد وہ کھیلوں کی جانب آتے ہیں، تاہم اس وقت تک وہ سولہ سال کے ہوچکے ہوتے ہیں، اور انہیں کسی ٹیم کا حصہ بننے کیلئے کافی سال لگ جاتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی کھلاڑی کی بہترین کارکردگی پندرہ سے پچیس سال کی عمر کے دوران سامنے آتی ہے، جس کے بعد کھلاڑی کی صلاحیت زوال پذیر ہونے لگتی ہے۔ ہمیں ایسا منصوبہ بنایا چاہئے جس میں اسکولوں میں کھیلوں کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جاسکے”۔

نوئے نوئے تھوئے کی زندگی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب 2006ءمیں برمی کین بال ٹیم کیلئے نئے اراکین کو منتخب کئے جانے لگا۔

نوئے نوئے تھوئے “ وہ ایک حقیقی مشکل تھی، میری والدہ نے مجھے رقم دینے سے انکار کردیا، جسکی وجہ سے مجھے اپنی نند کے گھر جاکر جھوٹ بول کر رقم لینا پڑی، اس نے مجھے تیس ڈالرز دیئے”۔

یہ رقم نوئے نوئے تھوئے کو دارالحکومت رنگون تک پہنچانے کیلئے کافی تھی۔

نوئے نوئے تھوئے “ وہ پندرہ جون کا دن تھا، مجھے اپنے خواب کی تعبیر کا راستہ نظر آرہا تھا، میرا خیال تھا کہ اگر اب میں کامیاب نہ ہوئی تو پھر مجھے دوبارہ موقع نہیں ملے گا”۔

اور آخر کار ان کا خواب تعبیر پاگیا۔

نوئے نوئے تھوئے “ میں بہت پرخوش تھی، میں نے اس وقت اپنے کمرے میں اچھلنا شروع کردیا جب مجھے ٹیم میں منتخب ہونے کی خبر ملی۔ آٹھ میں سے چھ افراد کو منتخب کیا گیا تھا، جن میں سے ایک میں بھی تھی۔ ٹریننگ کیمپ میں بہت کافی مشکل کا سامنا ہے، تاہم اپنے سنیئر اور ٹرینرز کی جانب سے مجھے تنگ کئے جانے پر میں نے صبر سے کام لیا۔ میں ان سے سے بہت کچھ سیکھنا چاہتی تھی، جونئیر ہونے کے باعث مجھے دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ پریکٹس کرنا پڑتی تھی، یعنی صبح سے شام تک، ٹرینرز نے واضح کردیا تھا کہ جونئیرز کو سنیئرز کے مقابلے میں زیادہ ٹریننگ کرنا ہوگی”۔

اب وہ اپنے ملک کیلئے طلائی تمغے جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔

نوئے نوئے تھوئے “ ہماری خواتین کی ٹیم نے چین میں ہونیوالی ایشین گیمز میں گولڈ میڈلز جیتے تھے، ہم لاﺅس اور انڈونیشیاءمیں بھی ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں تمغے جیتے، یہی وجہ ہے کہ اب ہم برما میں ہونے والے گیمز میں بھی گولڈ میڈلز جیتنے کیلئے پرامید ہیں”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ

Leave a Reply

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher