Aleta Ba’un ایک انڈونیشین کامک کتاب Inspirations from Molo کی مرکزی کردار ہیں۔ یہ ایک حقیقی کردار بھی ہے ، جوانڈونیشیاءکے مشرقی صوبے Nusa Tenggara کی ایک قبائلی برادری Malo کی قائد سمجھی جاتی ہیں۔
Aleta Ba’un باورچی خانے میں کھانا بنارہی ہیں، ان کی سات سالہ بیٹی بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ ان کی مدد کررہی ہے۔ چند برس قبل یہاں زندگی اتنی پرسکون نہ تھی، Aleta Ba’un اپنے تین بچوں کے ہمراہ ایک جنگل میں چھپی ہوئی تھیں۔
(female) Aleta Ba’un “ایک ماں ہونے کی وجہ سے میں بہت اداس اور خوفزدہ رہتی تھی، جسکی وجہ اپنی بیٹی کو اس جنگل میں چھپانا تھا۔ میں بہت دکھی تھی اور چاہتی تھی کہ وہ گھر واپس جاسکے”۔
Aleta ان کی قبائلی زمین تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کان کن کمپنیوں کیخلاف احتجاج کررہی تھیں اور اسی وجہ سے انہیں ہدف بنایا گیا۔ 1996ءمیں دو ماربل کمپنیاں ان کے گاﺅں میں آئیں اور علاقے کی مقدس ترین سمجھی جانی والی پہاڑی Nausus میں کان کنی شروع کردی۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ Aleta Ba’un کے علاقے میں کان کن کمپنیوں نے کام کیا ہو، اس سے قبل 1980ءکی دہائی میں بھی ایسا ہوچکا تھا۔
(female) Aleta Ba’un “ہمارا گاﺅں تباہ ہوچکا تھا، ہم اپنے جنگل سے محروم ہوچکے تھے اور پانی کی سپلائی کم ہوگئی تھی، جبکہ لینڈ سلائیڈ کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوگیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے 1999ءمیں کچھ قبائلی رہنماﺅں کے ساتھ ملکر کان کن کمپنیوں کیخلاف جدوجہد شروع کی”۔
Aleta Ba’un نے تین افراد کے ساتھ ملکر مقامی سطح پر ماحولیاتی تحریک شروع کی، جسے آہستہ آہستہ قبائلی بزرگوں کی حمایت ملتیگئی۔Wiliambae Satu بھی ایسے ہی ایک قبائلی رہنماءہیں۔
(male) Wiliambae Satu “یہاں کے ہر شخص کے فارم پہاڑیوں کے گرد ہےں، ہم یہاں کا ماحول تباہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ایسا ہوا تو ہم کیسے زندہ رہیں گے؟ پھر ہم کھائیں گے کیا؟”
یہ قبائل اپنے علاقے کی فطرت کو انسانی جسم جیسا سمجھتے ہیں، وہ درختوں کو بال اور کھال سمجھتے ہیں، جبکہ پانی ان کی نظر میں خون سا ہے، اسی طرح زمین کو گوشت اور پتھروں کو ہڈیاں مانتے ہیں۔ یہ احتجاج آہستہ آہستہ شدت پکڑتا گیا، Aleta نے ہمیں اپنی جدوجہد کی ایک پرانی وڈیو بھی دکھائی، جس میں وہ مقامی حکومتی دفتر کے سامنے احتجاج کی قیادت کررہی تھیں
(female) Aleta “میں یہاں کھڑی ہوں اور میں پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔ میں ضلع کے سربراہ سے اپنے احتجاج پر معذرت کرتی ہوں مگر انہیں ہمارے ماحولیاتی نظام کو دیکھنا چاہئے، ہم کسی صورت اپنی زمین سے دستبردار نہیں ہوں گے”۔
تاہم کان کن کمپنیوں نے اس احتجاج پر سخت ردعمل ظاہر کیا، انھوں نے گاﺅں میں غنڈے بھیج کر ان کے ذریعے مظاہرین کو دھمکیاں دیں، جبکہ Aletaکے گھر پر پتھراﺅ کیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ گھر چھوڑ کر جنگل میں مقیم ہوگئیں، مگر انھوں نے اپنا کام روکا نہیں
(female) Aleta “ہم کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر دوسرے دیہات تک جاکر اپنا پیغام پہنچاتے، ہمارے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں تھا اور ہمیں لوگ جو دیتے ہم وہ کھا لیتے۔ وہ بہت مشکل وقت تھا اس وقت ہمیں جان سے مارے جانے کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں”۔
کان کن کمپنیوں کیخلاف اس جدوجہد نے Aletaکو Malo قبائل کی نظر میں ہیرو بنا دیا اور انہیں Mama Aleta کا لقب دیا گیا۔ Aletaکے شوہر Liftus Sanam نے اس جدوجہد میں اپنی بیوی کی حمایت کی، انھوں نے رات رات بھر جاگ کر اپنے گھر کی حفاظت کی۔
(male) Liftus Sanam “میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو رات کی تاریکی میں ہمارے گھر پر حملہ کرتے ہیں۔ کئی ماہ تک ہر شب میں اپنے گھر کی نگہبانی کرتا رہا۔ میں نے ان لوگوں پر پتھر مارے اور جب بھی انھوں نے مجھ پر حملہ کیا تو میں نے اس کا موثر جواب دیا”۔
Hendrik Rihi کے بہترین دوست ہیں۔
(male) Hendrik Rihi “اس وقت متعدد افراد Aleta کو اپنا سربراہ بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ ماضی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب ہم لوگ اپنے گاﺅں واپس آئے تو ہم پر حملہ کیا گیا۔ جسکی وجہ سے Mama Aleta جنگل میں چھپنے پر مجبور ہوگئیں۔ ایک حملہ آور کا کہنا تھا کہ Aletaہمارا ہدف ہے، اسے ہم ہر حال میں قتل کریں گے”۔
2006ءمیں Aletaنے Attaemamus Indigenous Organisation قائم کی، جس میں سینکڑوں قبائلی برادریاں شامل ہوگئیں تاکہ اپنے علاقوں کے ماحولیاتی نظام کو لاحق خطرات سے نمٹا جاسکے.
2006ءمین سینکڑوں خواتین نے سنگ مرمر کی کان کنی والے مقامات پر قبضہ کرکے وہاں اپنے روایتی ملبوسات تیار کرنا شروع کردیئے، جبکہ ان کے شوہر وہاں محافظ کے طور پر موجود رہے۔ یہ تحریک چار ماہ تک جاری رہی اور اس نے کان کن کمپنیوں کو کام روکنے پر مجبور کردیا۔ Elisabeth Oematan جب اس جدوجہد کا حصہ بنی تو وہ حاملہ تھیں۔
(female) Elisabeth Oematan “ہم ایک مقام پر بیٹھ کر دن رات سلائی کا کام کرتے تھے، اس کے بعد ہم نے گورنر کے دفتر کی جانب مارچ کیا اور حکومت سے کان کنی کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہم اپنے علاقے میں کان کن کمپنیوں کو نہیں چاہتے، ہم اپنے پہاڑوں کا تحفظ چاہتے ہیں”۔
دو سال قبل اس جدوجہد کے نتیجے میں چار کان کن کمپنیوں علاقے سے نکلنا پڑا، Aletaاس بارے میں بتارہی ہیں۔
(female)Aleta “ہم جیت گئے اور کان کن کمپنیاں واپس چلیں گی ، تاہم ان کے پاس اب بھی کان کنی کا اجازت نامہ موجود ہے، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس علاقے سے چلی گئی ہیں۔ ہم ان کے جانے کے باوجود اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں گے”۔
اس علاقے کے پانچ دیہات نے ایک مشترکہ نقشہ تیار کیا، جسکا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کی ملکیت میں کون سی زمین ہے، اس نقشے کی ماحولیاتی اور دیہی ترقی کے وزیر نے توثیق بھی کی، تاہم علاقے کو نقصان پہنچنے کا عمل رک نہیں سکا ۔
یہ گیت جسے Naitapan Rocks کا نام دیا گیا ہے، یہ ایک ایسے پہاڑ کا نام ہے جہاں کان کنی کا عمل اسکی تباہی تک نہیں رک سکا تھا
یہی وجہ ہے کہ Aletaکی جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور حال ہی میں ایک اجلاس کے دوران انھوں نے اپنے علاقے کے قریب رہائش پذیر Pubabu قبیلے پر اپنی زمین کے تحفظ کیلئے زور ڈالا۔مقامی حکومت نے اس قبیلے کے جنگل کو ایک آئل کمپنی کے لئے مختص کردیا ہے۔
(female) Aleta “اگر آئل کمپنی یہاں آئی تو ہم سب یہاں آپ کے پاس موجود ہوں گے، ہم خوفزدہ نہیں اور نہ ہی ہم کسی اور ملک سے یہاں آئے ہیں۔ ہم یہاں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور ہمارے بزرگوں نے ہماری زمین اور دیہات کو ترقی دی۔ اگر یہاں تباہی ہوتی ہے تو اسکے ذمہ دار ہم ہوں گے”۔
بیس سالہ Lodiana Kaba، Aletaکے ادارے کی رکن ہیں۔
(female) Lodiana Kabaمیرا ماننا ہے کہ خواتین امن لاسکتی ہیں، Mama Aleta نے ہم پر ثابت کیا ہے کہ خواتین ہمارے معاشرتی تنازعات کو حل کرسکتی ہیں، میں بھی ایک دن اس جیسا بننے کا خواب دیکھتی ہوں”۔