رواں برس افغانستان میں پہلی بار خواتین کا فلم فیسٹول ہوا، اس فلمی میلے میں جمع کرائی گئی تمام 45 فلمیں مختلف ممالک کی خواتین نے بنائی ہیں۔ اسی طرح افغان خواتین کی فلمیں بھی شامل تھیں، جس میں ملکی خواتین کی مضبوطی کو دکھایا گیا تھا۔
فلم سِتاراہا یا ستارے نے افغان ویمن فلم فیسٹیول میں موجود افراد کو بہت متاثر کیا، یہ افغان خواتین کے ایک گروپ کی کہانی ہے جو امریکہ جاکر کاروبار شروع کرتی ہیں۔ فا خرہ ابراہیمی فلم کی ڈائریکٹر ہیں۔
فا خرہ ابراہیمی” میں نے یہ فلم پانچ برس قبل بنانا شروع کی تھی، اس کا خیال مجھے خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ امریکہ جاکر آیا تھا، وہ میرا پہلا غیرملکی سفر تھا، اور ہمارے گروپ میں شامل بیشتر خواتین بھی پہلی بار ملک سے باہر آئی تھیں۔ امریکہ میں مجھے محسوس ہوا کہ افغان خواتین اس نئے معاشرے میں زیادہ آسانی سے مختلف چیزیں کرسکتی ہیں، اس چیز نے مجھے فلم بنانے کا خیال دیا،تاکہ دکھا سکوں کہ افغان خواتین کیا کچھ کرسکتی ہیں۔ خواتین کاروبار کرسکتی ہیں، کاروباری منصوبے بناسکتی ہیں، خود سفر کرسکتی ہیں اور اپنے کام میں مضبوطی دکھا سکتی ہیں”۔
فاخرہ افغانستان کی ان چند خواتین فلم ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں، جن کی توجہ امور نسواں پر مرکوز ہے، اب تک وہ چار فلموں کی ہدایات دے چکی ہیں اور وہ تمام خواتین کے موضوعات پر گھومتی ہیں۔
فاخرہ” میں ڈاکومینٹری بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہوں، کیونکہ اس سے ہمارے معاشرے کی سچائی کی عکاسی کی جاسکتی ہے۔ میری پہلی فلم ایک خاتون کی جسمانی معذوری کے بارے میں تھی، اس خاتون کا صرف بایاں ہاتھ کام کرسکتا تھا جس کی وجہ سے اسے مسائل کا سامنا تھا”۔
تاہم سِتاراہا انکی پہلی فلم تھی جسے کسی فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا ہے۔
فاخرہ” میں اپنی کیفیت کی وضاحت کیلئے الفاظ نہیں مل رہے، میں رونا چاہتی ہوں، مجھے اپنے کام پر فخر ہے کہ میں نے اپنی فلم میں افغان خواتین کی حقیقی زندگی، ان کے مسائل اور مضبوطی کو دکھایا ہے”۔
یہ پہلی بار ہے کہ افغانستان میں ویمن فلم فیسٹیول کا عالمی یوم خواتین پر انعقاد ہوا، اس کا مقصد افغان فلمسازوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ زہرہ مبتکر، اوپن سوسائٹی آرگنائزیشن نامی این جی او سے تعلق رکھتی ہیں۔
زہرہ” رواں برس ہم خواتین اور ان کی جرات مندی کو دکھانا چاہتے ہیں، ہمیں فیسٹیول کیلئے 45 فلمیں ملیں،یہ تمام فلمیں خواتین ہدایتکاروں نے تیار کی ہیں، ان فلموں کے ذریعے خواتین کی مضبوطی کا اظہار کیا گیا ہے”۔
افغانستان میں 1980ءکی دہائی بعدسالانہ درجنوں فلمیں بنتی تھیں، مگر طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی وی اور سینما پر پابندی عائد کردی، جس سے فلمی صنعت تباہ ہوکر رہ گئی۔تاہم طالبان کے بعد سے صورتحال بہتر ہورہی ہے اور اب خواتین بھی فلمیں بنانے لگی ہیں، اس سلسلے میں ویمن فلم فیسٹیول کو افغان معاشرے میں آنے والا اہم موڑ سمجھا جارہا ہے، مگر اب بھی فاخرہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
فاخرہ” مجھے ہمیشہ بہت زیادہ کا سامنا ہوتا ہے، لوگ مجھ سے میری فلموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، مگر میں کچھ نہیں بتاتی کیونکہ مجھے اپنے قدامت پسند معاشرے کے شدید ردعمل کا ڈر ہوتا ہے۔ مجھے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات ہیں، ہماری ثقافت خواتین کو ہدایتکار یا اداکارہ بننے کی اجازت نہیں دیتی۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے خاندان کے چند افراد میرے کام کو پسند نہیں کرتے، تاہم میرا ماننا ہے کہ اگر میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں تو مجھے عوامی ردعمل کا سامنا تو کرنا ہی ہوگا”۔
تیئیس سالہ طالبہ نبیلہ کُراش تمام افغان خواتین ہدایتکاروں کا بہت احترام کرتی ہیں۔
نبیلہ کُراش” ا گر یہ فلمی ہدایتکار اسی طرح کی فلمیں بناتی رہیں، تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔فلمیں معاشرے پر بہت اثر انداز ہوتی ہیں، یہ کسی نظم یا مضمون کی طرح نہیں جن کو صرف تعلیم یافتہ افراد ہی سمجھ سکتے ہیں، فلموں سے تو پڑھے لکھے اور ان پڑھ افراد دونوں ہی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں”۔