پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا 113 واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے۔
حفیظ جالندھری 14جنوری 1900ء کو بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا کا نام امام بخش خان تھا جو سید احمد شہید بریلوی کے ساتھ سکھوں کے خلاف جدوجہد میں معاون رہے۔آپ کے والد کا نام ماجد شمس الدین اور والدہ محترمہ کا نام بتول بی بی تھا۔
انہوںنے ابتدائی تعلیم 1905ءمیں جالندھر کی جامع مسجد سے شروع کی اور قرآن مجید ناظرہ پڑھا۔ وہ 1907ءمیںمشن ہائی سکول میں داخل ہوئے اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول جالندھر میں داخلہ لیا۔ انہوں نے 1909ءمیں حصول علم کیلئے دوآبہ آریہ سکول میں ایڈمشن حاصل کیا۔ یہیں سے ان کے دل میں جذبہ حریت بیدار ہوا۔ حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھ کر اسلامی دور کی ابتدائی جنگوں کو نہایت پر اثر اندازمیں نظم کا جامہ پہنانے کا آغاز کیا۔
حفیظ جالندھری نے اردو شاعری اور پاکستان کیلئے مثالی خدمات سر انجام دیںاور قومی ترانہ تحریر کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے۔ وہ بیک وقت ایک غزل گو اورنعت گوشاعر بھی تھے۔
حفیظ جالندھری 21دسمبر 1982ءکو82سال کی عمر میں رات 11بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہیں پہلے امانتاً ماڈل ٹاﺅن لاہورکے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیاتاہم بعد ازاں 27ستمبر 1991 ءکو صبح10بجے ان کا جسد خاکی ماڈل ٹاﺅن لاہور کے قبرستان سے منتقل کرکے انہیں مینارپاکستان کے احاطہ میں تعمیر شدہ ان کے مزار میں آسودہ خاک کردیا گیا۔
انہوں نے اپنی تخلیقات میں چار جلدوں میں شاہنامہ اسلام، نغمہ زاد ‘ سوز و ساز، تلخابہ شریں اور چراغ سحر چھوڑے۔ ان کی شعری کائنات چھ دہائیوں پر محیط ہے اور ان کا یہ دعویٰ درست ہے:
شعر وادب کی خدمت میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی باتیں نہیں