(A Taste of Bali in Brussels) بالی کی جھلک برسلز میں

 

گزشتہ دنوں بیلجیئم میں ایک انڈونیشین میلے Ogoh-Ogoh کا انعقاد ہوا، جو کہ انڈونیشین جزیرے بالی میں نئے سال کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔

Balinese گھنٹی کی آواز سے فضاءگونج رہی ہے، درجنوں افراد اس دھن پر انتہائی جوش سے رقص کررہے ہیں، جبکہ اسٹیج پر کچھ افراد بڑی بڑی پتلیوں کے درمیان لڑائی کے منظر پر نعرے لگارہے ہیں۔ یہ پتلیاں افسانوی جنگجوﺅں اور ہندو بھگوانوں کی ہیں۔

آگے کی قطار میں خواتین بالی کی روایتی پوشاک میں ملبوس ہیں، جبکہ ان کے سروں پر ایک ٹوکری رکھی ہوئی ہے جو پھلوں سے بھری ہوئی ہے۔ کچھ ہی دور ایک ہندو مندر بھی موجود ہیں، مگر یہ علاقہ بالی کا نہیں بلکہ بیلجئیم کا قصبہ Burgelette ہے۔

یہ دوسری بار ہے کہ Ogoh-Ogoh نامی یہ میلہ اس قصبے کے Pairi Daiza نامی باغ میں منعقد ہوا ہے۔ Arif Havas Oegresenoبیلجئیم میں انڈونیشیاءکے سفیر ہیں، ان ہی کی کوششوں سے اس میلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میلے سے قصبے میں موجود Agung Shanti Bhuwana نامی مندر کو نئی زندگی ملی ہے۔

 (male) Arif Havas Oegreseno “یہ ڈھائی ایکڑ پر پھیلا ہوا مندر ہے، جو کہ یہاں علامتی طور پر موجود ہے، کیونکہ یہاں کوئی بڑی مذہبی رسومات ادا نہیں ہوتیں۔اس مندر میں لوگ مذہبی تقاریب منعقد کرانا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس میں نے یہاں میلے کا انعقاد کروایا۔میلے کے انعقاد سے اس مندر میں ایک زندگی دوڑ گئی، اور یہاں آنے والے لوگوں کو ایسا ہی محسوس ہوا جیسے وہ انڈونیشیاءمیں موجود ہیں”۔

Arif Havas Oegreseno مبالغہ آرائی نہیں کررہے، بلکہ یہاں واقعی انڈونیشین ماحول محسوس کیا جاسکتا ہے۔اس میلے کا آغاز مندر کی گھنٹیوں کی آواز سے ہوا، جوکہ ایک ہندو تقریب کے موقع پر بجائی جارہی تھیں۔اس میلے میں چار سو سے زائد افراد موجود ہیں، جن میں ساڑھے تین سو بالی کے باشندے ہیں جو یورپ بھر سے یہاں آئے ہیں۔انڈونیشیاءسے تعلق رکھنے والے ساٹھ طالبعلم بھی یہاں موجود ہیں۔

مندر میں تقریب کے بعد ان طالبعلموں نے جزیرہ بالی کے روایتی رقص kecak کا مظاہرہ کرکے یورپی سیاحوں کو متاثر کیا۔

بیلجئیم کا یہ مندر انڈونیشیاءسے باہر بالی کے باشندوں کا سب سے بڑا مندر ہے، اس کی تعمیر بالی کے قلعے کے پتھروں سے کی گئی ہے۔Eric Domb نے اس مندر کو تعمیر کیا تھا۔

ایرک(male) “یہ مندر انڈونیشیاءکیلئے میرا خراج تحسین ہے، جب میں سترہ سال کا تھا تو میں انڈونیشیاءگیا اور اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ میں تیس سال بعد 2006ءمیں وہاں پھر گیا، تاکہ بالی کے روایتی مندر جیسی عمارت اپنے ملک میں تعمیر کرسکوں۔ انڈونیشیاءسے میں پتھر اور بہترین کاریگر لے آیا تاکہ مندر کی تعمیر کی جاسکے”۔

اس مندر کے ساتھ یہاں ایک مشرقی تمور کی طرز کا گاﺅں، Papua زیورات اور روایتی انڈونیشین گھر بھی تعمیر کئے گئے،جبکہ چاول کے کھیتوں میں بھینسوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ Pairi Daiza درحقیقت 12 ویں صدی میں ایک خانقاہ کا حصہ تھا، جس کی باقیات ابھی بھی یہاں موجود ہیں۔ ماضی میں یہاں چڑیا گھر بھی تعمیر کیا گیا تھا، تاہم 2006ءمیں اسے ثقافتی باغ کی شکل دیدی گئی۔اب یہاں روایتی چینی باغ، منگول اور متعدد افریقی قبائل کی ثقافتی عمارات بھی موجود ہیں۔ یہ باغ Domb خاندان کی ملکیت ہے، تاہم ایرک یہاں کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس باغ میں زیادہ توجہ ایشیائی ثقافت کو فروغ دینے پر دی جارہی ہے۔

ایرک(male) “میں یورپی ضرور ہوں مگر مجھے لگتا ہے کہ میرا دل ایشیائی ہے۔ مغرب اور مشرق میں بہت فرق ہے، ایشیاءمیں اچھائی اور برائی کا تصور بہت واضح ہے جس کی وجہ سے مشرقی لوگوں کی ثقافت پر عمل کرنا بہت دلچسپ محسوس ہوتا ہے، میرے خیال میں ایشیاءمیں زندگی کو زیادہ پروقار طریقے سے گزارا جاتا ہے، یہ احساس کسی خاص خطے میں نہیں بلکہ ایشیا بھر میں محسوس ہوتا ہے”۔

Pairi Daiza ایک فارسی لفظ ہے جس کا مطلب جنت ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *