گلیوں میں بے گھر افراد نظر آئیں تو آپ کیا کریں گے؟ کھٹمنڈو کی رہائشی Dilsobha Shrestha کیلئے تو اس کا جواب بہت آسان ہے وہ ایسے افراد کو اپنے گھر لے جاتی ہیں۔
Aama ko Ghar میں یہ صبح کی دعا کا وقت ہے، یہ 59 سالہ Dilsobha Shrestha کا گھر ہے، وہ اس وقت ایک راہداری میں بچوں اور بوڑھی خواتین کے دائرے میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ان بوڑھی خواتین کو ان کے خاندانوں نے گھر سے نکال دیا تھا، اب وہ Dilsobha Shrestha کے پاس اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہی ہیں۔
(female) Dilsobha Shrestha “یہ گھر ایسے افراد کیلئے ہے جنھیں انکے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح یتیم اور معذور افراد بھی یہاں مقیم ہیں۔ بوڑھاپے میں سب کو نگہداشت، محبت اور گرم جوشی کی ضرورت ہوتی ہے، میں اپنا پیار ان سب پر نچھاور کرتی ہوں”۔
اس وقت یہان اسی سے زائد بے گھر افراد مقیم ہیں، جن میں سے پچاس بچے ہیں، جبکہ باقی ستر سال سے زائد عمر کی خواتین ہیں۔ Dilsobha ایک دہائی سے یہ کام کررہی ہیں، اور وہ گھر کے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتی ہیں،اگرچہ اب ان کے پاس ملازمائیں رکھنے کیلئے فنڈز موجود ہیں، مگر اب بھی بیشتر کام کا بوجھ وہ خود ہی اٹھاتی ہیں۔
(female) Dilsobha “میں صبح تین بجے اٹھتی ہوں، یہاں بیشتر بوڑھی خواتین خود بیت الخلاءنہیں جاسکتیں، تو میں یہ کام کرتی ہوں، کئی بار تو یہ خواتین بستر گندا کردیتی ہیں تو مجھے وہ بھی صاف کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے بعد میں سب افراد کیلئے ناشتا تیار کرتی ہوں، جبکہ اسکول جانے والے بچوں کے دوپہر کا کھانا بھی ساتھ ہی تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح دن بھر میں ان خواتین کو نہلاتی ہوں، جبکہ دوپہر اور رات کا کھانا تیار کرتی ہوں”۔
ستر سالہ Kanchhi Maya Tamang اس گھر میں آٹھ سال سے مقیم ہیں۔انہیں وہ دن اب بھی یاد ہے جب انہیں گھر سے نکالا گیا تھا۔
(female) Kanchhi Maya Tamang “میرے بیٹے نے کہا کہ ماں تم کچھ بھی نہیں کماتی، تمہارے پاس کوئی گھر نہیں، تمہارے پاس کچھ بھی نہیں، تو میں تمہارا خیال کیوں رکھوں؟ گھر سے نکل جاﺅ اور کہیں مرجاﺅ ہمیں تمہاری کوئی پروا نہیں۔ میری ٹانگیں یہ سن کر مفلوج ہوگئیں اور مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ اس وقت ایک راہ گیر نے مجھے یہاں پہنچایا”۔
Kanchhi Maya Tamang کے تین بچے ہیں جو کھٹمنڈو میں ہی مقیم ہیں، مگر کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آتا۔
(female)” Kanchhi Maya Tamang بچوں کی پرورش کرنا اب بھی بے مقصد محسوس ہوتا ہے، ہم انکی نگہداشت اس امید کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہ بوڑھاپے میں ہمارا خیال رکھیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے بچوں کی کس طرح پرورش کی، میں نے ان کے لئے عمر بھر کھانا بنایا، اگر وہ مجھے اپنے گھر میں نہیں رکھنا چاہتے تو کوئی بات نہیں، مگر کم از کم وہ یہ تو دیکھنے آئیں کہ ان کی ماں زندہ ہیں یا نہیں۔ اگر انہیں میری پروا نہیں تو مجھے بھی ان کا کوئی خیال نہیں۔ Dilsobha نے مجھے میری توقعات سے بھی پیار دیا ہے”۔
Dilsobha نے اپنے شوہر کے چھوڑ جانے کے بعد اپنا گھر ان بدقسمت افراد کیلئے کھولا تھا۔ Dilsobha نے اپنے والدین کی مرضی کے بغیر شادی کی تھی، تاہم انکا شو ہر انہیں اور انکی بچی کو تنہا چھوڑ کر چلا گیا۔
(female) Dilsobha “میری ایک ہی بیٹی ہے، ہم میاں بیوی نے اس کی شادی کیلئے سات ہزار ڈالر جمع کئے تھے، مگر میرا شوہر مجھے چھوڑ کر چلا گیا اور ان سات ہزار ڈالر سے دوسری شادی کرلی۔ اس سانحے کے بعد ہم نے مرنے کا فیصلہ کیا، ہمارے پڑوسی کہتے تھے کہ میں اور میری بچی برے ہیں اسی لئے میرا شوہر ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ ہم دونوں نے تین بار زہر پی کر مرنے کی کوشش کی، مگر ہمیں بچالیا گیا۔ میں نے خود سے کئی بار یہ سوال پوچھا کہ میرا شوہر مجھے کیوں چھوڑ کر گیا؟ وہ مجھے بیٹا نہ ہونے پر چھوڑ کر گیا تھا”۔
نیپالی معاشرے میں بیٹا اپنے والدین کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیٹیوں کے مقابلے میں نیپالی خاندان بیٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ Dilsobha کا ماننا ہے کہ یہی وہ مرکزی وجہ ہے جسکی وجہ سے بوڑھی خواتین کو نیپال میں گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
(female) Dilsobha “ایک دن میرا ایک پڑوسی مجھے ایک بوڑھی خاتون سے ملانے لے گیا، جس کے تین بیٹے تھے۔ وہ امیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی مگر اس خاتون کو گھر سے نکال کر ایک تاریک کمرے میں تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے بیٹے اسے ایسے ڈبوں میں کھانا بھیجتے تھے جو وہ کھول نہیں پاتی تھی۔ اسے بیت الخلاءکی سہولت دستیاب نہیں تھی، مجھے اس کمرے میں جاکر غلاظت دیکھ کر ابکائیاں آنے لگیں، اس تجربے کے بعد میں نے ایسی بے گھر خواتین کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں اس خاتون کو اپنے گھر لے آئی، اور یہاں ایک ہفتہ قیام کے بعد وہ پھر سے چلنے پھرنے کے قابل ہوگئی”۔
انکا گھر ہر وقت گیتوں اور قہقہوں سے گونجتا رہتا ہے، یہاں رہائش پذیر خواتین ایک دوسرے کے ساتھ اپنا خوفناک تجربات کا تبادلہ بھی کرتی ہیں۔65 سالہ Devi Bishwokarma ایک نابینا خاتون ہیں، جو گلیوں میں بھیک مانگا کرتی تھیں، ایک حادثے میں انکے دونوں ہاتھ اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں، مگر گھر نہ ہونے کے باعث انکا علاج ممکن نہ ہوسکا۔
(female) Devi Bishwokarma “میں تین ماہ تک یہاں بستر پر پڑی رہیں۔ میں سارا وقت سوتی رہتی تھی یا کھاتی رہتی تھی۔ اب میں خود نہا سکتی ہوں، اگر مجھے یہاں نہیں لایا جاتا تو میں مرجاتی۔ اب میں اپنے کام خود کرسکتی ہوں، اب یہ میرا گھر ہے، میں اب تکلیف دہ تجربات کو بھول جانا چاہتی ہوں”۔
Dilsobha اپنے گھر کے رہائشیوں کے اخراجات مخیر افراد کی جانب سے ملنے والے عطیات سے پورے کرتی ہیں، تاہم کوئی انتقال کرجائے تو ان کا بجٹ متاثر ہوجاتا ہے۔
(female) Dilsobha “اگر کوئی شخص مرجائے تو اس کی آخری رسومات پر سو ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ہم یہ اخراجات ادا کرتے ہیں جسکے بعد ہم ایک ماہ تک مناسب خوراک سے محروم ہوجاتے ہیں۔ کسی خاتون کی آخری رسومات کے بعد ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ مناسب خوراک خرید سکیں”۔
آج کا ناشتا Bina Vaidya کی جانب سے کرایا جارہا ہے۔
(female) Bina Vaidya “امریکہ میں مقیم میرے بھائی نے یہ ناشتا کرانے کا کہا تھاتاکہ وہ اپنی سالگرہ کا دن یادگار بناسکے۔ میری ایک خالہ نے آج دوپہر کے کھانے کا بھی انتظام کیا ہے”۔
اسی روز ایک اور شخص بسکٹوں اور کولڈڈرنکس سے بھری ٹوکری بھی لے کر آیا۔ Dilsobha کا کہنا ہے کہ ماضی میں انکے پڑوسی ان کے گھر کو غلیظ لوگوں سے بھرا گھر کہتے تھے۔مگر اب ہر شخص ان کے کام کی اچھائی کو سمجھ رہا ہے۔وہ اپنے ایک اور خواب کی تعبیر چاہتی ہیں۔
(female) Dilsobha “میرا خواب ہے کہ کھٹمنڈو میں کوئی بھی بے گھر شخص نہ ہو۔ میں سب لوگوں کو یہاں لاکر ان کا خیال رکھوں۔ مگر محدود بجٹ کے باعث یہ ممکن نہیں۔ہمارے گھر میں چند کمرے ہیں اور ہر کمرا بچوں اور بوڑھی خواتین سے بھرا ہوا ہے۔ میں ان لوگوں کیلئے ایک بڑا گھر خریدنا چاہتی ہوں”۔