بھارت میں ہر سال ہوائی آلودگی چھ لاکھ افراد کی زندگیاں ختم کررہی ہے، حالیہ مہینوں کے دوران ہوائی معیار مزید بدتر ہوگیا ہے جس سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، متعدد افراد کا تو ماننا ہے کہ نئی دہلی نے چینی شہر بیجنگ سے سب سے زیادہ آلودہ شہر ہونیکا منفی اعزاز چھین لیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
دہلی کے نواح میں واقع ایک چھوٹے سی کریانہ اسٹور میں پچپن سالہ سرفرار احمد گرم چائے کے کپ سے سردی بھگانے کی کوشش کررہے ہیں، ان جیسے دمہ کے مریضوں کیلئے موسم سرما کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، اس موسم میں دہلی میں دھند عام ہوجاتی ہے، جس سے ہوائی اور ریلوے ٹریفک بری طرح متاثر ہوتا ہے، مگر اس سے سب سے زیادہ متاثر سرفراز جیسے شہریوں کی صحت ہوتی ہے۔
سرفراز”یہ بہت گندی جگہ ہے، یہاں آپ سانس تک نہیں لے سکتے، یہاں ہر وقت ہوا میں انتہائی ناگوار بو پھیلی رہتی ہے اور مجھے گھنٹن کا احساس ہوتا ہے، میں بہت تھکا ہوا اور خود کو کمزور محسوس کرتا ہوں، کئی بار تو ادویات کا بھی اثر نہیں ہوتا، مگر ہمارے پاس دہلی میں رہنے کے علاوہ کوئی اور انتخاب نہیں، کیونکہ کوئی اور جگہ رہنے کیلئے موزوں نہیں رہی”۔
سرفراز جیسے خیالات بھارتی دارالحکومت کے لاکھوں رہائشیوں کے بھی ہیں۔
شہر میں ہوائی آلودگی کی بلند شرح نے عوامی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے، خصوصاً سانس کے امراض تو بہت زیادہ عام ہوگئے ہیں، جبکہ نمونیا کے کیسز میں بھی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، لین دھر دہلی کے ایک ڈاکٹر ہیں۔
دھر”آلودگی نے ہر عمر کے افراد کو عموماً اور بزرگوں و بچوں کو خصوصاً متاثر کیا ہے، کیونکہ ان میں بیماریوں کیخلاف مزاحمت کی قوت کم ہوتی ہے، اب تو اس موسم میں سانس کے امراض عام ہوتے جارہے ہیں، جبکہ گلے اور سینے کے انفیکشن کے متعدد کیسز بھی سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ یہ آلودگی ہی ہے”
گلوبل انوائر مینٹ پرفارمنس انڈیکس کے مطابق رواں برس نئی دہلی دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن سکتا ہے، ماہرین ماحولیات جیسے وویک اس انکشاف پر حیران نہیں۔
وویک”اگر ہم طویل المعیاد رجحان کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا چین نے واقعی بہترین کام کیا ہے کیونکہ بیجنگ میں ہوائی آلودگی کے دستیاب ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں چالیس فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں دہلی میں گزشتہ دس برسوں کے دوران اتنا ہی اضافہ ہوا ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہماری توجہ آلودگی میں کمی لانے پر مرکوز ہے مگر ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلانا چاہئے کہ ہمارا ہاں آلودگی کی شرح بہت زیادہ بلند ہے اور ہمیں اس بات کو قبول کرنا چاہئے”۔
ٹرانسپورٹ کو دہلی میں ہوائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے، اس وقت دہلی کی سڑکوں پر اسی لاکھ سے زائد گاڑیاں رواں دواں ہیں، جبکہ اس میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار کا اضافہ ہورہا ہے۔
ویوک”دیگر ذرائع کے مقابلے مین گاڑیوں سے پیدا ہونیوالی آلودگی کی شرح سب سے زیادہ ہے، کیونکہ ان سے خارج ہونیوالا دھواں سانس لینے والے مقامات پر خارج ہوتا ہے، اور اس کا بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ہم نے حال ہی میں دہلی میں ایک تحقیق کرائی تھی جس کے مطابق آلودگی کی پچاس فیصد سے زائد شرح سڑکوں پر ہوتی ہے، تو یہ دھواں ہم پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے”۔
دو دہائی قبل نئی دہلی میں شفاف ایندھن کو فروغ دینے کیلئے بسوں اور رکشوں وغیرہ کو سی این جی پر منتقل کردیا گیا تھا، جس کے چند ماہ بعد ہی رکشہ ڈرائیور جیسے آر ایس شہر کی فضاءمیں واضح تبدیلی محسوس کی۔
آر ایس”یہاں دھویں کی موٹی تہہ اور بے تحاشہ مٹی سفر کو بہت مشکل بنادیتی تھی، ہمیں ہر وقت آنکھوں میں جلن محسوس ہوتی تھی، مگر سی این جی کے آنے کے بعد سب کچھ تبدیل ہوگیا، وہ واقعی بہت بڑا ریلیف تھا”۔
مگر یہ تبدیلی زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکی، وویک کا کہنا ہے کہ سی این جی کے فوائد اس وقت ختم ہوگئے جب ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا۔
وویک”یہ گاڑیاں کینسر کا سبب بن سکتی ہیں، یہ تمباکو جتنی ہی خطرناک ہیں اور اگر آپ ان کی بڑھتی تعداد کے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ دہلی کی ٹریفک میں شامل ہونیوالی پچاس فیصد گاڑیوں میں ڈیزل بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے، یہ شرح ایک دہائی قبل صرف دو فیصد تھی”۔
انکا کہنا ہے کہ نئی دہلی کو ماحولیاتی آفت سے بچنے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
وویک”ہمیں پبلک ٹرانسپورٹ میں بہتری لانا ہوگی اور لوگوں کو سیم لیس کنیکٹویٹی فراہم کرنا ہوگی، ہمیں گاڑیوں کی تعداد پر کنٹرول کی بھی ضرورت ہے، جبکہ پارکنگ چارجز، کنگیسٹشن ٹیکس وغیرہ کا نفاذ بھی کرنا چاہئے، جیسا بیجنگ اور سنگاپور میں کیا کیا گیا ہے، تو ایک طرف جہاں ہمیں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنی چاہئے وہیں دوسری ہمیں لوگوں کو اس طرف کھینچنا چاہئے، اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ ہمیں شفاف ایندھن کو مزید فروغ دینا چاہئے، اور آلودگی کا سبب بننے والے ایندھن کا استعمال ختم کرنا چاہئے”۔