گزشتہ دنوں جاپان میں تباہ کن زلزلے اور سونامی کو گزرے دو سال بیت گئے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سانحے کے دوران فوکوشیما جوہری پلانٹ بھی متاثر ہوا تھا۔دوسال گزر جانے کے باوجود فوکوشیما کے ڈیڑھ لاکھ رہائشی اپنے گھروں کو واپس نہیں لوت سکیں ہیں، ٹیٹسو ایمیے میچی ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم دھماکوں میں خوش قسمتی سے محفوظ رہے تھے، وہ ان آفات کے بعد پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ ہیں۔
ٹیٹسو ایمیے اپنی رہائشگاہ میں گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے ہاتھ جڑے ہوئے، آنکھیں بند اور سر جھکا ہوتا ہے۔ اس شہر میں امریکی طیاروں کی بمباری کو 68 سال گزر چکے ہیں مگر ٹیٹسوکو آج بھی وہ واقعہ کل کا محسوس ہوتا ہے۔
ٹیٹسو”اس وقت میں اپنے گھر میں دو چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھ رہا تھا، ان کے لئے ناشتہ بنا رہا تھا۔ اچانک ایک نیلی اور سفید روشنی سے چمکی اور ایک زوردار دھماکہ ہوا، تمام کھڑکیاں ٹوٹ گیئں اور فرنیچر اڑنے لگا۔ میرا ایک بھائی اڑنا ہوا باغ میں جاگرا جبکہ دوسرا الماری کے اندر سے ملا”۔
اس وقت ٹیٹسوکی عمر نو سال تھی اور وہ محفوظ رہے تھے، حالانکہ ان کے گھر سے چند کلومیٹر دور ہی ایٹمی دھماکہ ہوا تھا،ان بچوں کی ماں نے گھر آکر اپنے خاندان کو جمع کیا اور انہیں ہیروشیما سے ٹرین کے ذریعے اپنے آبائی قصبے ناگاساکی لے گئی۔
ٹیٹسو” جب ہم ناگاساکی پہنچے تو ٹرین روک گئی، کیونکہ وہاں اسی وقت ایٹم بم کا حملہ ہوا تھا، ہم نے لوگوں کو جلتے اور مرتے ہوئے دیکھا۔ میرا پانچ سالہ بھائی بیمار ہوگیا جسے ہم ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر جب اس کا معائنہ کررہے تھے تو وہ اچانک ہی مرگیا”۔
جب ناگاساکی پر ایٹم بم پھینکا گیا تو ٹیٹسو اس جگہ سے صرف ساڑھے تین کلومیٹر دور تھے۔ اب ان کی عمر 77 سال ہے اور ان چند افراد میں سے ایک ہیں جو امریکہ کی جانب سے جاپان میں کئے گئے دونوں ایٹم بم حملوں سے محفوظ رہے۔ تاہم وہ اس خوفناک تجربے پر بات کرنا پسند نہیں کرتے، مگر جب فوکوشیما میں جوہری پلانٹ کو حادثہ پیش آیا تو ان کی سوچ تبدیل ہوگئی۔
ٹیٹسو” فوکوشیما کے بارے میں کافی افواہیں پھیل گئی تھیں، میں وہاں رہنے والے افراد کے بارے میں فکرمند ہوں کیونکہ انہیں ہماری طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ میں ہر سال ایٹم بم حملوں میں بچنے والے افراد سے ملتا ہوں اور میری ایک دوست کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی شادی کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ لوگوں کو ڈر ہے اس شادی کے بعد پیدا ہونے والے بچے معذور یا ادھورے ہوگئے”۔
فوکوشیما سانحے کو اب دو برس بیت چکے ہیں اور وہاں سے انخلاءہونے والے افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ حومتی وزراءبھی ان متاثرین کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک لاکھ 54 ہزار اب بھی عارضی گھروں میں مقیم ہیں اور ان کے چہروں سے مسکراہٹ روٹھ چکی ہے۔