پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں شاعری کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے 1999ءمیں ہر سال یہ دن اکیس مارچ کو منایا جا تا ہے ، جس کا مقصد معاشرے میں شاعر اورشاعری کی اہمیت اجاگرکرنا ہے۔
مغرب الہام اورمعجزوں پر توزیادہ یقین نہیں رکھتا البتہ شاعری کے جادوکا ضرورمعترف ہے۔
ماضی میں برصغیر سمیت دنیا کے کئی خطوں میں شاعری نے انقلاب کی فضا ہموار کی،جدوجہد آزادی میں اقبال اورجوش کے کردار کو کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے،آمریت کیخلاف فیض اورجالب کی آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ہے،لیکن آج کا شاعراس روایت کاامین نظرنہیں آتا۔
عالمی یوم شاعری منانے کے مقاصد توکئی ایک ہیں۔ لیکن یونیکسوچاہتا ہے کہ اس روز بچوں میں شاعری کا شوق پیدا کیاجائے، کلاس رومز میں نظمیں پڑھی جائیں اورشاعری پر بات ہو۔
اسی طرح شعری محفلوں کی روایت کو بھی زندہ کیا جائے ،خوش قسمتی سے ہمارے یہاں یہ روایت نہ صرف زندہ ہے بلکہ پھل پھول رہی ہے،مشاعرے ہماری ثقافت کااٹوٹ حصہ ہیں۔
اردو شاعری اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہے کہ اسے عربی قصائد اور فارسی شاعری سے نہ صرف فیضیاب ہونے کی سعادت نصیب ہوئی بلکہ غزل، رباعی اور دیگر اصناف شعری کو برتنے کا سلیقہ اور مواد دونوں میں بڑی عمدگی سے نصیب ہوا۔
اردو غزل شاعری کی ایسی محبوب صنف شعری ہے جس کا جادو ہر دور اور ہر زمانے میں سرفراز رہا ہے۔ بالخصوص حسن و عشق کے مضامین کی رنگا رنگی میںغزل اپنی مثال آپ ہے۔
اردو ادب کی تاریخ کے مطابق دکن کے قلی قطب شاہ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر ہیں دیگر شعرا میں ولی دکنی، میر تقی میر ،مرزا غالب ، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض سمیت دیگر شعرا عالمگیر شہرت کے حامل ہیں۔
