پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں ہیپا ٹائٹس کے خلاف جنگ اور اس سے بچاو سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کا عالمی دن منایا جارہاہے جس کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مرض پر قابو پانے کے ساتھ ماحول کو صاف رکھنے اور شفاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اس وقت دنیا کی کل آبادی کا 6 فیصد اس مرض کا شکار ہے اور سالانہ 10 لاکھ سے زائد افراد مرض کا مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوجاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا نصف بی وائرس میں مبتلا ہے اور ہر سال تقریباً 6لاکھ افراد بی وائرس سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر 60 فیصد افراد بی جبکہ 35فیصد سی وائرس کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔
پاکستان میں بھی مرض تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور ملک کی آبادی کی اکثریت اس مرض کا شکار ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اگر ایک طرف گندگی اور آلودگی ہے تو دوسری جانب ملک میں صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے، ملک میں بجٹ کا ایک فیصد بھی صحت پر خرچ نہیں کیا جاتا جس سے نہ صرف مہلک بیماریوں پر قابو پانا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اس سے ان بیماریوں سے ہلاک ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ہیپاٹائٹس سی سب سے زیادہ پنجاب جبکہ بی سب سے زیادہ بلوچستان اور کوہستان میں پایا جاتا ہے۔یہ مرض مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ مرض زیادہ تر 35 سے 50 سال عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ایک طبی ما ہر ہیپا تا ئٹس کی بیما ری کی وجو ہا ت بتا رہے ہیں