پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں خوراک کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھرمیں عوامی شعور کو اجاگر کرنے سمیت عالمی سطح پر خوراک کے حصو ل میں درپیش مشکلات ، بھوک ، افلاس، خوراک کی ناکافی دستیابی کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔
اس مرتبہ اس دن کا عنوان زرعی ادارے دنیا کا پیٹ بھرنے کے لئے اہم رکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرا م کے مطابق تازہ ترین سروے رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں اس وقت ہر چھ میں سے ایک شخص بھوک کا شکار ہے اس طرح بھوک کے شکار افراد کی تعداد ایک ارب سے بھی زائد ہے۔
جبکہ پاکستان میں پچاس فیصد عوام غذائی قلت کا شکار ہیں۔
دنیا بھر سمیت ملک میں غربت اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عوام دن بدن غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں۔
بارہ کروڑ پاکستانی عوام اپنی آمدن کا پچاس سے سترفیصد حصہ صرف خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں بھوک مسلسل بڑھ رہی ہے گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں چورانوے فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا سر کاری طور پر بھی اعتراف کیا گیا ہے۔
خصوصی دوہزاردس کے آخر میں تو مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی جس کے باعث کروڑوں پاکستانی غربت اور قیط جیسی صورتحال سے دو چار ہیں۔ پاکستان ان اکیس ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے خوراک کو بحران پایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ مہنگائی میں اضافے کا سبب ہیں ،مسئلہ یہ ہے کہ صرف سیلاب ذدگان کو خوراک یا بھوک کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ اس سے پوری آبادی متاثر ہوئی ہے۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بڑی تعداد میں بچوں اور حاملہ خواتین کو غذائی کمی کا شکار ہونے سے بچانا اور زراعت کے شعبے کی بحالی ہے۔