قائد ملت لیاقت علی خان یکم اکتوبر اٹھارہ سو چھیانوے کو بھارتی پنجاب کے گاﺅں کرنال میں پیدا ہوئے۔
لیاقت علی خان نے 1918 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ آکسفورڈ سے گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انیس سو تینتیس میں بیگم رعنا لیاقت علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
برطانیہ سے واپسی کے بعد لیاقت علی خان نے برصغیر کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرانے کیلئے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا، اسی لئے آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔
1936ءمیں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور پھر ہمیشہ قائداعظم محمد علی جناح کے دست راست رہے۔
قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 1946ءمیں عبوری حکومت کیلئے لیاقت علی خان کو وزیرخزانہ نامزد کیا۔
آپ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے اور ایک عظیم رہنماءبھی تھے۔لیاقت علی خان ایک بہت ذمہ دار شخص تھے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب قائداعظم نے انہیں پاکستان کا وزیراعظم منتخب کیا تو انھوں نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے اپنا استعفی قائداعظم کو دیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت تک یہ ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا جب تک آپ کا اعتماد مجھے حاصل رہے گا۔
آپ نے پاکستان کی آزادی کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں، پاکستان کے پہلے وزیراعظم نے قائداعظم کے فراق کے باوجود ایک نئی ریاست کی بھاری ذمہ داری کا بار بھی خود اٹھایا۔
امریکہ کا دورہ ہو یا لیاقت نہرو مذاکرات، ہر جگہ یہ سفر جاری رہا، مگرسولہ اکتوبر 1951ءکو لیاقت باغ راولپنڈی میں لیاقت علی خان کو قتل کردیا گیا۔ مبینہ قاتل سید اکبر کو بھی موقع واردات پر قتل کردیا گیا، جس کے ساتھ ہی لیاقت علی خان کے قتل کے اصل محرکات ہمیشہ کیلئے دفن ہوگئے۔ یوں قائد ملت پاکستان کی تاریخ کی پہلی سیاسی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے۔
آخری وقت پر ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ خدا پاکستان کی حفاظت کرے۔