پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں جمہوریت کا عالمی دن جمہوری تعلیم کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے شعور اجاگر کرنے کے ساتھ آمریت کی بھی بھرپور مذمت کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق بادشاہت‘ آمرانہ نظام اور بدترین جمہوریت کے حامل ممالک میں عالمی آبادی کا 52 فیصد مقیم ہے جبکہ صحت مند جمہوریت اور نرم جمہوریت کے حامل ممالک میں دنیا کی صرف 25 فیصد آبادی مقیم ہے۔
پاکستان میں بدستور جمہوری حکومت آمرانہ ہتھکنڈوں سے جمہوری ساکھ کو نقصان پہنچارہی ہے‘ ملک میں جمہوری روایات اور ثقافت بری طرح متاثر ہورہی ہیں اور پاکستان جمہوریت کی عالمی درجہ بندی میں 105 ویں نمبر پر موجود ہے اور یوں اب پاکستان بدترین جمہوری ممالک کی فہرست میں 11 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
ملک میں سیاسی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور صرف 22 فیصد افراد کو سیاسی نمائندگی حاصل ہے جبکہ سیاسی سرگرمیوں تک صرف 48 فیصد افراد کی رسائی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت کے دوران بدترین جمہوری ممالک کی فہرست میں ملک 26 ویں سے 11 ویں نمبر پر آگیا۔ پاکستان کی نسبت گزشتہ سال بھارت کے لئے بہتر ثابت ہوا اور بھارت نرم جمہوری ممالک کی فہرست میں 40 ویں سے 39 ویں نمبر پر آگیا۔