دنیا بھر میں جہاںہر قسم کا لین دین اور کاروبار اپنے عروج پرہے وہیں خفیہ تجارت کی ایک قسم ایسی بھی ہے جسکی جڑیںترقی پذیر مما لک میں دور تک پھیلی ہیں،جی ہاں ،خواتین کی اسمگلنگ، جسکا نیٹ ورک نہ صرف بے حدمضبوط ہے بلکہ اس سے منسلک لوگ انتہائی منصوبہ بندی سے دنیا بھر میں خواتین کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔ بنگلہ دیش میں جہاں آبادی کا ایک بڑاحصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسرکر رہا ہے وہاں خواتین کی بہت بڑی تعدادکو بہترین نوکریوں اورشادی کاجھانسہ دے کر بیرون ملک لے جایا جاتاہے جہاں انھیں مختلف ایجنٹس کے ہاتھوں فروخت کردیا جاتاہے۔یونیسف اورسارک کی رپورٹ کے مطابق ہرسال اوسطاً4,500 خواتین اور بچے بنگلہ دیش سے پاکستان اسمگل کئے جاتے ہیں، جبکہ اندرون پاکستان بھی خواتین کی خرید و فروخت کی جارہی ہے۔ سندھ ،پنجاب اورخیبرپختونخواکے پسماندہ علاقوں سے خواتین کومختلف طریقوںسے ٹریپ کرنے کے بعدملک کے بڑے شہروںکراچی،لاہور،اسلام آبادلایا جاتاہے جہاں انھیں عصمت فروشی پر مجبورکیا جاتاہے،مزاحمت پر نہ صرف تشددکا نشانہ بنایا جاتاہے بلکہ بے دردی سے قتل کر دیا جاتاہے۔
مددگار ہیلپ لائن میں بحیثیت پروجیکٹ کوآرڈینیٹرخدمات انجام دینے والی مسز ثمرین ناز کاکہنا ہے کہ اندرون سندھ میںغریب کاشت کاروں کی لڑکیوںکو اغواءکرنے کے بعد مختلف ایجنٹس کے ہاتھوں فروخت کیا جاتا ہے:
ملک بھر میں جبری شادیوں، نوکریوں کا لالچ اور دیگروجوہات کی آڑ لے کرخواتین کی خرید و فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے صرف سندھ بھر میں کیا ریشوہے اس بارے میں ثمرین ناز کہتی ہیں:
اس معاملے میں موبائل فون کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو ٹریپ کرنے ،شادی اور محبت کا جھانسہ دینے اور پھر اندرون ملک یا بیرون ملک لے جا کر فروخت کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں:
وسطی ایشیاءکے بیشتر ممالک سے تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بھی پاکستان لایا جاتا ہے،بنگلہ دیش، برما، چین،ازبکستان،آزر بائیجان اور دیگر ممالک سے خواتین کی اسمگلنگ کی جاتی ہیں جنہیں بعد ازاں ملک بھر میں قائم ریڈلائٹ ایریاز میں لاکر فروخت کر دیا جاتا ہے یا پھر کال گرلز نیٹ ورک کا حصہ بننے پر مجبور کیا جاتا ہے:
بیرون ملک سے اسمگل کی جانے والی خواتین کو مکران کوسٹ،تھر،افغانستان بارڈر، کراچی کی ساحلی پٹی، اورماڑہ،گوادر،جیوانی، اور حب کے راستوں سے پاکستان لا کر بیچا جاتا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق مختلف ایجنٹس اور دلالوں کے ہاتھ فروخت کی جانے والی لڑکیوں کے دام1,000سے2,000ڈالر تک لگائے جاتے ہیں جسکا انحصار فروخت کی جانے والی خواتین کی عمراور خوبصورتی پر ہے ۔
گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستان میںبڑی تعداد میں مساج ہومز بھی کھلے ہیں ، جو اس وقت ایلیٹ کلاس کی غیر قانونی سر گرمیوں کا اہم مرکز بن چکے ہیں، اِن مساج پارلرز کیلئے بیرون ممالک خصوصاً چائنا سے لڑکیوں کو اسمگل کیا جاتا ہے،اسکے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے کم عمر ، تعلیم یافتہ اورگڈ لکنگ لڑکیوں کو بھی یہاں لا کر عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتاہے:
مددگار ہیلپ لائن سے منسلک ثمرین کا کہنا ہے کہ 16سے30سال کی خواتین کی تجارت اس وقت دنیا بھر میں عروج پر ہے،جبکہ پاکستان میں صوبہ پنجاب سے اغوا کی جانے والی کم عمر لڑکیوں کو صوبہ سندھ میں لا کر فروخت کیا جاتا ہے :
انسانی جسموں کا کاروباریا تجارت ہر صورت قابل مذمت ہے،نجانے کتنے گھروں کی خواتین اس وقت بے رحم اورسفاک لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونابن کر اپنی زندگیوں کو اپنے سامنے بربادہوتادیکھ رہی ہیں۔اس مکروہ کاروبارکے پھلنے پھولنے کی ایک وجہ بااثرشخصیات اوراداروں کی شمولیت بھی ہے جسکے باعث جعلی ایجنٹس معصوم لڑکیوں کو دھوکہ دے کرعصمت فروشی،ڈرگزاور دیگرغیرقانونی اورغیر اخلاقی سرگرمیوں کا حصہ بننے پر مجبورکرتے ہیں۔