Women sucide in Pakistan خواتین میں خودکشی کا رجحان

کچھ عرصے پہلے کراچی میں ایک شادی شدہ عورت نے غربت اور افلاس سے تنگ آکراپنی چھ ماہ کی بیٹی کے ہمراہ خود کشی کی کوشش کی ۔ اس عورت کی زندگی تو بچا لی گئی مگر اسکی معصوم بچی جانبر نہ ہو سکی۔ اسی طرح صوبہ پنجاب کے ایک گاﺅ ں میں ایک عورت نے کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اور اسی بارے میں پیش خدمت ہے NEWS PPI فیچر۔

سعدیہ:     پاکستان میں نوے کی دہائی کے وسط سے خواتین میں خودکشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق پہلے کے مقابلے میں یہ شرح سالانہ چند سو سے بڑھ کرایک سے ڈیڑھ ہزار ہوگئی ہے۔پاکستان میں خودکشی کے اہم سماجی عوامل میں غربت، بے روزگاری، معاشرتی عدم تعاون، تعلیم کی کمی اور نفسیاتی عوامل وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان خواتین میںاموات کی تین بڑی وجوہات میں سے ایک خودکشی ہے جو نہ صرف ایک المیہ ہے بلکہ عظیم معاشرتی نقصان بھی ہے۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوان شادی شدہ خواتین میں خودکشی کا رجحان زیادہ ہے ۔ کم عمری میں شادی، شریک حیات کے انتخاب کی آزادی نہ ہونا، شادی کے فوراً بعد بچوں کی پیدائش پر اصرار، شوہر پر معاشی انحصار اور سسرال کے افراد سے اختلافات اس کی اہم وجوہات ہیں۔

فرمان علی :مددگار ریسرچ اینڈ ڈیٹابیس سینٹر کراچی کے اعدادوشمارکے مطابق رواں سال اکتوبرتک خودکشی کرنےو الی خواتین کی تعداد تقریباً 1000 رہی۔اسی طرح سال 2008ءمیں ،مددگار ڈیٹابیس کے مطابق، خو دکشی کے3271 واقعات رونما ہوئے جن میں 1098 خواتین شامل تھےں۔خودکشی کے ان واقعات میںنوعمر لڑکیوں اورشادی شدہ خواتین نے زہریلی گولیوں کا استعما ل کر کے،زہریلا مواد پی کر ، زہریلا پاﺅڈر کھا کر،پھندہ لگا کر،چلتی گاڑی کے نیچے آکر، گولی مار کر، خود کو زخمی کر کے،ہاتھ کی رگ کاٹ کریا اونچائی سے چھلانگ لگا کرزندگی کا خاتمہ کر لیا۔ لالہ حسن عورت
نگین شاہ: گذشتہ دس سال کے دوران مجموعی طور پر10800 خواتین نے مختلف وجوہات کے باعث اپنی زندگی کے چراغ گل کر دیئے۔ وکلاءبرائے انسانی حقوق و قانونی امداد (LHRLA)کے سربراہ ضیاءاعوان نے خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پراظہار خیال
کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میںپھیلی منافرت ،افراتفری ،بے راہ روی، مایوسی، عدم اعتماد ، غربت، مشتر کہ خاندانی نظام کاتنزلی کی جانب سفر، بے روزگاری، احساس محرومی و برتری ،محبت میں ناکامی،پولیس تشدد،دماغی اور نفسیاتی عوارض و انتشار،خود کشی کے خاص خاص اسباب ہیں۔اس کے علاوہ جدید زمانے کے مسائل اور تیزی سے پھیلتے ہوئے ذہنی امراض سے عدم توجہی، خود کشی کیجانب راغب کرنے والے عوامل ہیں۔
فرمان علی : پاکستان کی تقریباََ 85فیصد آبادی غربت کی زندگی بسر کر رہی ہے۔انٹرنیشنل این جی اوز کی جاری کردہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں خودکشی کرنے والی نوجوان خواتین کی تعدادایک تہائی سے زیادہ ہے،جبکہ پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد میں نوجوان لڑکیوںکی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
سعدیہ: پاکستان کے سماجی ،اقتصادی اور صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر، خود کشی کے واقعات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ بیروزگاری اور غربت کی ابتر صورتحال کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اگر فوری طور پران واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی موئثر حکمت عملی اختیار نہ کی گئی توحالات کی سنگینی کو کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ،ناممکن ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *