پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں جہاں شہری خواتین کا اہم کردار ہے وہیں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے اپنے گھر کی بہتر کفالت کر رہی ہیں،یہ خواتین گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ فصلوں میں کٹائی اور کھیتی باڑی سمیت کشیدہ کاری اور دیگر ہنروں کے ساتھ اپنے گھر کے وسائل میں اضافہ کر رہی ہیں،یہ خواتین صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک اپنے گھر اور باہر کے کاموں میں مسلسل مصروف رہتی ہیں،منیراں بی بی بھی ایک ایسی ہی دیہی خاتون ہیں،آئیے اس حوالے سے مزید جانتے ہیں منیراں بی بی سے،
دیہاتوں میں قائم متعدد دکانیں بھی خواتین چلاتی ہیں،وفاقی ادارہءشماریات کے مطابق دیہی علاقوں میں 54.5 فیصد مردوں کے مقابلے میں 71.5 فیصد خواتین زراعت کے عشبے سے منسلک ہیں۔سکینہ بی بی کس طرح اپنے گھر کی کفالت میں اپنے مردوں کا ساتھ دے رہی ہیں ،بتا رہی ہیں سکینہ بی بی،
منیراں بی بی کہتی ہیں کہ اگر چہ وہ شبانہ روز گھر اور باہر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں لیکن پھر بھی گھر کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں،
سکینہ بی بی کا کہنا ہے کہ پورا مہینہ کام کرنے کے باوجود بھی مزدوری اتنی نہیں ہوتی جتنا کام وہ انجام دیتی ہیں،
یہ خواتین دیہات میں ضروری وسائل کی کمی کا بھی رونا روتی ہے،جس میں سر فہرست پختہ سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا ہے،اور ان کو اپنے بیمار بچوں کو پیدل ہی ڈاکٹر ےا اسپتال لے کر جانا پڑتا ہے،
ملک کی اہم فصلوں کی پیداوار میں بھی ان دیہاتی خواتین کا بہت بڑا کردار ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ان خواتین کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات آسائشوں تو کیا ان کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں آتیں۔